Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
اَلْحَمْدُ للّٰہ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رسولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف ( ترجمہ : میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی )
ایک مرتبہ کا ذِکْر ہے ، مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کسی مقام پر تشریف فرما تھے ، آپ سے کچھ دُور چند غیر مُسلم بیٹھے ہوئے تھے ، ایک فقیر اِن غیر مُسلموں کے پاس آیا اور اُس نے سوال کیا ، اِن غیر مُسلموں کو شرارت سُوجھی اور انہوں نے حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے اس فقیر کو کہا : اُن کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں ضرور کچھ دے دیں گے۔ فقیر کو تو مالِی امداد چاہئے تھی ، چنانچہ وہ حضرت علی رَضِیَ اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گیا ، حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہ عنہ یہ سب دیکھ رہے تھے ، چنانچہ آپ نے 10 مرتبہ درود پاک پڑھا اور اس فقیر کی ہتھیلی پر پُھونک مار کر فرمایا : مٹھی بند کر لو اور جن لوگوں نے تمہیں بھیجا ہے ، اُن کے سامنے جا کر کھول دینا۔
( غیر مُسلم یہ منظر دیکھ کر ہنس رہے تھے کہ خالی پُھونک مار دینے سے کیا ہوتا ہے... ! ) وہ فقیر مٹھی بند کیے ہوئے ان غیر مُسلموں کے پاس پہنچا اور ان کے سامنے آ کر مٹھی کھول دی اب کیا تھا ، وہی غیر مُسلم جو بطورِ مذاق ہنس رہے تھے ، یہ دیکھ کرحیران رہ گئے کہ خالی مٹھی جس پر حضرت مولا علی رَضِیَ اللہ عنہ نے درود پاک پڑھ کر پھونک ماری تھی ، اس میں ایک دِینار ( سونے کا سکہ ) موجود ہے۔ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کی یہ کرامت