Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
ہاتھ اُلٹی طرف سے رکھیں کہ اُلٹا ہاتھ رکھنے میں دونوں ہاتھ اپنی مسنون جگہ سے بدلیں گے اور سیدھا رکھنے میں صرف یہ ہی اور وہ بھی ضرورت کی وجہ سےبدلا ، اُلٹا اپنی محلِ سُنّت پر ثابت رہا۔ جماہی روکنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جب جماہی آنے کو ہو فوراً تصور کرے کہ انبیا کرام علیہم السلام کوکبھی جماہی نہ آئی * مسجد میں دنیا کی کوئی بات نہ کی جائے۔ ہاں ! اگر کوئی دینی بات کسی سے کہنا ہو تو قریب جاکر آہستہ سے کہنا چاہیے نہ یہ کہ ایک صاحب مسجد میں کھڑے ہوئے ، راہگیر سے جو سڑک پر کھڑا ہوا ہے چلاّ کر باتیں کر رہے ہیں یاکوئی باہر سے پکار رہاہے اور یہ اس کاجواب بلند آواز سے دے رہے ہیں * کسی کا مذاق اُڑانا ویسے ہی منع اور مسجد میں سخت ناجائز * مسجد میں ہنسناقبر میں اندھیرا لاتا ہے ۔ ( [1] ) ہاں ! موقع سے تبسم میں حرج نہیں * فرشِ مسجد میں کوئی شے پھینکی نہ جائے بلکہ آہستہ سے رکھ دی جائے ۔لکڑی چھتری وغیر ہ رکھتے وقت دور سے چھوڑ دیا کرتے ہیں اس سے منع کیا گیا ہے غرض مسجد کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے * مسجد میں حَدَث ( یعنی ہوا خارج کرنا ) منع ہے ۔ ضرورت ہوتو باہر چلا جائے لہٰذا معتکف کو چاہیے کہ ایامِ اعتکاف میں تھوڑا کھائے پیٹ ہلکار کھے کہ قضائے حاجت کے وقت کے سوا کسی وقت اِخْراجِ رِیح کی حاجت نہ ہوکیونکہ وہ اس کے لئے باہر نہ جاسکے گا ۔ ( [2] )
اعتکاف کے فضائِل اور مسجد سے متعلق تفصیلی اآداب و مسائِل جاننے کے لئے شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دَامَت برکاتہم العالیہ کی مایہ ناز کتاب فیضانِ رمضان کا باب فیضانِ اعتکاف پڑھ لیجئے ! عید قریب آرہی