Book Name:Shair e Khuda Ka Zuhad
زیادہ محبّت کریں گے ، دِین کو بگاڑیں گے اور حکومت کی طرف مائل ہو جائیں گے ، اس وقت تم کیا کرو گے ؟ حضرت مولا علی رَضِیَ اللہ عنہ نے عرض کیا : یَا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! اِنْ شَآءَ اللہ الْکریم ! میں ان لوگوں کو اور جو انہوں نے اختیار کیا اس کو چھوڑ دوں گا ، میں اللہ پاک ، اس کے رسول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اور آخرت کو اختیار کروں گا ، ( مرتے دَم تک ) دُنیا کی مصیبتوں اور آفتوں پر صبر کرتا رہوں گا ، یہاں تک کہ آپ سے آ مِلوں گا۔ یہ سُن کر پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔ اے اللہ پاک ! علی کو ایسا ہی کرنے کی توفیق عطا فرما۔([1] )
پیکرِ خوفِ خدا اے عاشقِ خیرُ الورٰی تم سے راضی کبریا مولیٰ علی مشکلکُشا
پیارے اسلامی بھائیو ! ہم ذرا معاشرے کا جائزہ لیں ، معاشرے کا جو نقشہ اس حدیثِ پاک میں بیان ہوا ، کیا وہ سب کچھ آج ہو نہیں رہا... ؟ * پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : لوگ آخرت سے بے رغبت ہو جائیں گے۔ آج لوگ آخرت کی فِکْر سے دُور ہیں ، لوگوں کی ایک بڑی تعداد قبر و آخرت کی یاد سے غافِل ہے * سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : لوگ دُنیا سے محبّت کریں گے۔ آج اَکْثَرِیَّت محبّتِ دُنیا میں گرفتار ہے * حُضُورِ اکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : لوگ ہَپ ہَپ کر کے مالِ وراثت کھائیں گے۔ آج مالِ وراثت میں خیانت کی جا رہی ہے ، دوسروں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔ مالِ وراثت کے حق داروں کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے * سرکارِ ذی وقار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : لوگ مال سے بہت زیادہ محبّت کریں گے۔ آج محبّتِ مال دِلوں میں رچ بس چکی ہے ، مال کی محبّت میں چوریاں کی جاتی ہیں ، ڈکیتیاں ہوتی ہیں ، ناپ تول میں کمی کی جاتی