Book Name:Hazrt e Abduallah Bin Mubbarak Or Ulama ki Khidmat

(2) پانچ افراد کے لئے تجارت کرتے

       حضرت حماد بن زیدرَحمَۃُ اللہِ عَلَیہِفرماتےہیں : حضرت عبدالله بن مبارکرَحمَۃُ اللہِ عَلَیہِ کپڑے کی تجارت کیاکرتے تھے ، ایک مرتبہ انہوں  نے فرمایا : اگر پانچ(5)افراد نہ ہوتے تو میں  تجارت نہ کرتا۔ کسی نے ان سے کہا : اے ابو محمد! وہ پانچ(5) افراد کون ہیں ؟تو حضرت  عبدالله بن مبارک رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا : (1)حضرت سفیان ثوری(2) حضرت سُفیان بنعُیَیْنَہ(3)حضرت فُضَیل بن عیاض۔ (4)حضرت محمد بن سمّاک اور (5)حضرت اِبنِ عُلَیَّہرَحمَۃُ اللہِ عَلَیہِم۔

       منقول ہے کہ حضرت عبداللهبن مبارکرَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہخُراسان شہر تک تجارت کے لئے جاتے اورتجارت سے جو نفع ہوتا اس میں  سےاپنے اہلِ خانہ کا اور حج  کا خرچ نکال کر باقی جو کچھ بچتا وہ ان پانچ(5) حضرات کی خدمت میں  پیش کر دیتے تھے۔

( تاریخ بغداد ،  ذکر من اسمہ اسماعیل ،  ۳۲۷۷-اسماعیل بن ابراہیم بن مقسم۔ ۔ ۔  الخ ،  ۶ / ۲۳۴)

(3)علماء سے مالی تعاون

          ایک بار حضرت فُضیل بن عیاض نے حضرتِ  عبدالله بن مبارکرَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ سے کہا کہ آپ ہمیں تو زُہد اور دنیا سے بے رغبتی کاحکم دیتے ہیں اور خودخُراسان سے مال و دولت مکہ لاتے ہیں ، اس کی کیاوجہ ہے؟حضرتِ عبدالله بن مبارکرَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا : اس لیے تاکہ اس مال کےذریعےمیں محتاج ہونے سےمحفوظ رہوں اور علمائے کرام کی خدمت کروں اور اپنے رب کی عبادت میں اس کے ذریعےمددحاصل کروں۔

      پیارے پیارے اسلامی بھائیو!سناآپ نے کہ حضرت عبدالله بن