Book Name:Hazrt e Abduallah Bin Mubbarak Or Ulama ki Khidmat

عبداللہبن مبارک کامختصرتعارف ، آپ کی سیرت کےواقعات ، علماءسےمحبت اور علماءکی خدمتکے واقعات سننے کےساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی کے  کچھ شعبہ جات کاتعارف بھی سنیں  گے۔ اے کاش! ہمیں سارا بیان اچھی اچھی نیتوں اور مکمل توجہ کے ساتھ سننا نصیب ہوجائے ۔

       آئیے!سب سے پہلے ایک واقعہ سنتے ہیں : چنانچہ

نوجوان کو قید سے آزاد کروایا

          منقول ہے کہ حضرتِ سيِّدُنا عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  راہِ خدا میں سفر پر جاتے ہوئے ایک شہر کے کسی مسافر خانے ميں قيام فرماتے۔ جب آپ وہاں قیام فرماتے تو آپ سے ملنے ايک نوجوان آتا ، وہ  آپ کی ضروريات پوری کرتااور کچھ احاديث بھی پڑھ ليتا تھا۔ ايک مرتبہ جب آپ وہاں پہنچے تو وہ نوجوان ملنے نہيں آيا۔ آپ جلدی ميں تھے تو چلے گئے ، واپسی پر آپ پھر جب اسی شہر پہنچے تو لوگوں سے اس نوجوان کا حال دريافت کيا تو معلوم ہوا کہ کسی کا اس پر قرض چڑھ گيا تھا ، قرض خواہ نے نوجوان کو جيل ميں ڈلوا ديا ہے۔ پوچھا : اس پر کتنا قرض ہے؟لوگوں نے جواب ديا : دس ہزار درہم ۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے رات ميں قرض خواہ کو اپنے پاس بلوايا اور اسے دس ہزار درہم دے کر قسم دی کہ جب تک عبد اللہ زندہ ہے تم اس کے بارے ميں کسی کو نہيں بتاؤ گے اور کہا کہ صبح تم اس نوجوان کو قيد سے آزاد کروا دينا۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ وہاں سے روانہ ہو گئے۔ نوجوان جيل سے آزاد ہوکر جب شہر آيا تو آپ کی آمد کی اطلاع ملی اور معلوم ہوا کہ کل يہاں سے روانہ ہو گئے ہيں۔ يہ نوجوان اسی وقت روانہ ہوا اور