Book Name:Hazrt e Abduallah Bin Mubbarak Or Ulama ki Khidmat

بارگاہ میں  حاضری دیتے اور آپ کی گفتگو سننے کے لئے بے تاب نظرآتے ، چنانچہ

حقیقی بادشاہ تو عبداللہ بن مبارک ہیں

       ایک مرتبہ  حضرت  عبدالله بنِ مبارکرَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ  مقامِ رَقّہ تشریف لے گئے تو لوگ اپنے  جُوتے چپل چھوڑ کر ان کے پیچھے جانے لگے اورمٹی بہت زیادہ اُڑنے لگی ، خلیفہ ہارون رشید کی باندی محل کی کھڑکی سے یہ سب نظارہ دیکھ رہی تھی ، اس باندی نے پوچھا : یہ کون ہے؟ تو کسی نے جواب دیا : یہ خُراسان کے عالمِ دین  حضرت عبدالله بن مبارکرَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہہیں ، جورَقَّہ آئے ہوئے ہیں ، لوگ انہیں دیکھنے اور ان کا بیان سننے کےلیے جمع ہورہے ہیں ، اس باندی نے یہ سن کر کہا : ہارون رشیدحقیقت میں بادشاہ نہیں ہیں  بلکہ حقیقتاً بادشاہ تو حضرت عبدالله بن مبارک ہیں ، کیونکہ ان کے لئے لوگوں کوجمع کرنے کےلیےکسی اعلان کی کوئی ضرورت نہیں پڑی ۔  (تاریخ بغداد ، ۱۰ / ۱۵۵)

      پیارے پیارےاسلامی بھائیو! بیان کردہ واقعہ سےمعلوم ہواکہ  اولیاءُاللہ کواللہ پاک نے اتنی قوت و طاقت عطافرمائی ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں پرحکومت کرتے ہیں ، حضرت عبدالله بن مبارک رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ  کو بھی یہ  مقام ومرتبہ  حاصل تھا ، اگر ہم غور کریں تو اس کی بنیادی وجہ آپ کا علم و عمل تھا ، آپ کی علمائے کرام سے محبت تھی اور آپ کی دِین داری تھی۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                           صَلَّی اللّٰہُ  عَلٰی مُحَمَّد

       پیارے اسلامی بھائیو!حضرت عبداللہ بن مبارکرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ  سمیت کئی بزرگان ِ دین کے بھی ایسےواقعات ملتے ہیں جن میں ان کی کوشش  ہوتی تھی کہ وہ