Book Name:Khaton e Janat ki Shan o Azmat

رکھیں،اور کبھی کبھار پڑوسیوں کو بھی دعوت دینے کا ذہن بنائیں ،کوئی سائل آجائے تو اس کو بھی پیار ومحبت سے کھانا کھلائیں۔ جیسا کہ خاتونِ جنت  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سیرت میں یہ جھلک بھی نظر آتی ہے کہ  اگر کئی روز فاقہ کے بعد گھر میں کھانا آجاتا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  اس کھانے میں  پڑوسیوں کو بھی  شامل فرما لیا کرتی تھیں۔آئیے!آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی پڑوسیوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے،آپ کی کرامت  کے ظاہر ہونے پر مشتمل ایک اور  واقعہ سُنتے ہیں،چنانچہ

برَکت والی سِیْنِی

           ایک مرتبہ زمانۂ قحط میں رحمتِ عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنےبُھوک محسوس کی توبنتِ رسول اللہ  حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بَتُولرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانےسِیْنِی(یعنی دھات کےروٹی سالن رکھنےوالےخوان)میں ایک بوٹی اوردوروٹیاں اِیثارکرتےہوئےبارگاہِ رسالت میں بھیج دیں۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَاس تحفہ کےساتھ حضرت فاطمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی طرف تشریف لےآئےاورفرمایا:اےمیری بیٹی! اِدھر آؤ۔ حضرتِ سیِّدَہ فاطمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جب اس سِینی کو کھولاتوآپ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ وہ سینی روٹیوں اور بوٹیوں سےبھری ہوئی تھی اورآپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانےجان لیا کہ یہ کھانااللہ  پاک کی طرف سےنازل ہواہے۔حُضورِاکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنےآپ سےاِستفسارفرمایا:اَ نّٰی لَکِ ھٰذَا؟یعنی یہ سب تمہارےلئےکہاں سےآیا؟توحضرتِ فاطمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانےعرض کیا:ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ  اِنَّ اللّٰہَ   یَرْزُقُ مَنْ یَّشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔یعنی وہ  اللہ  کےپاس سےہے،بےشک اللہ  جسےچاہےبےگنتی دے۔سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:تمام تعریفیں اللہ  پاک  کے لئے جس نے تجھے بنی اسرائیل کی سردار(یعنی حضرت مریم)کےمُشابہ بنایا۔ پھر حُضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنےحضرتِ علی،حضراتِ حسن وحسین اوردوسرےاہلِ بیترَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن کوجمع فرماکرسب کے ساتھ (سینی میں سے) کھانا تَناوُل فرمایااورسب سیرہوگئے،پھربھی کھانا