$header_html

Book Name:Khaton e Janat ki Shan o Azmat

مناسبت سےآج ہم حضرت سیدہ خاتون ِجنت فاطمۃ الزہرارَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا ذکرِ خیر سُنیں گے۔سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی شان  و عظمت کے بارے میں ایک   واقعہ سُنتے ہیں،چنانچہ

فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاانسانی حور

          حضرتِ سیِّدَتُناخدیجۃ الکبریٰرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نےایک دن نبیِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں جنّتی پھل دیکھنےکی خواہش کی تو حضرتِ سیِّدُنا جبرائیلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں جنت سے دو سیب لے کر حاضر ہو گئے اور عرض کی:اے محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)!اللہ  پاک فرماتا ہے:ایک سیب آپ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کھائیں اور دُوسرا خدیجہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا )کو کھلائیں پھر حقِ زوجیت ادا کریں،میں تم دونوں سے فاطمۃ الزہراکو پیدا کروں گا۔ چنانچہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرتِ سیِّدُنا جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام کے کہنے کےمطابق عمل کیا۔جب  غیر مسلموں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سےکہا کہ ہمیں چاند دو ٹکڑے کر کے دکھائیں۔ اُن دِنوں حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  اپنی  والدہ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے شکمِ اطہر میں تھیں۔حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے فرمایا: اُس کی کتنی  رُسوائی ہے جس نے ہمارے آقامحمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلایا،حالانکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سب سے بہتر رسول اور نبی ہیں۔تو حضرت سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے ان کے بطنِ اطہر سے ندا دی:اے امی جان!آپ غمزدہ نہ ہوں اور نہ ہی ڈریں،بے شک اللہ پاک میرے والد ِمحترم کے ساتھ ہے ۔جب حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزہراء  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی ولادت ہوئی تو ساری فضا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے چہرے کے نور سے منور ہو گئی۔

          نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جب جنت اور اس کی نعمتوں کا اشتیاق  ہوتا تو حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا بوسہ لے لیتے اور ان کی پاکیزہ خوشبو کو سونگھتے