Book Name:Khaton e Janat ki Shan o Azmat

کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کے اندازکے مطابق تھا۔ اےکاش!ہم اپنی زندگی خاتونِ جنَّت سیدہ فاطمۃُالزہرارَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی سیرتِ طیبہ پرعمل کرتےہوئےعبادتِ الٰہی میں گزارنےوالےبن جائیں ،اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک  بن جائیں،ہر ایک کےساتھ حُسنِ سُلُوک  اور  نرمی و بھلائی سےپیش آئیں، لوگوں کی تکلیف و مُصیبت میں  ان کے کا م   آنےوالے بن جائیں اوراپنے  ظاہر کو سُنّتوں کے سانچے میں ڈھالنے والے اور اپنے باطن   کو  حسد ،تکبُّر، تہمت اور بد گمانیوں سے بچانے والے بن جائیں  ۔

بد خصائل ٹلیں، سیدھے رستے چلیں                        کر دو آقا کرم، تاجدارِحرم

(وسائل بخشش،ص۲۵۰)

  صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خاتونِ جنت کی شان و عظمت کا ایک پہلو یہ بھی کہ آپ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَااپنے بابا جان،رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و احترام فرمایا کرتی تھیں، حُسنِ سُلُوک سے پیش آتیں، جب دُکھی دِلوں کے چین،نانائے حسنین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری ہوتی تو  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم کے لئے کھڑی ہو جاتیں۔  جیسا کہ  

آمدِ مُصطفےٰ  پر استقبال کرنا

          اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: جب خاتُونِ جنَّت حضرت ِسَیِّدَتُنا فاطمۃُ الزہرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا حُضُور عَلَیْہِ السَّلَام کی خِدْمَت میں  حاضِر ہوتیں  ۔ تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام  ان کیلئے کھڑے  ہوجاتے اور ان کا ہاتھ پکڑتے اس پربوسہ دیتے اور اپنی جگہ ان کو بٹھاتے۔ اسی طرح جب حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرتِ فاطمہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس تشریف لے جاتے تو آپ بھی کھڑی ہوجاتیں  اور ہاتھ مُبارک کو بوسہ دیتیں  اور اپنی جگہ حُضُور کو بٹھا لیتیں۔(مشکاۃ، کتاب الآداب ،باب