بچّہ ہمیں دیکھ کر کیا سیکھتا ہے؟

ماں باپ کے نام

بچہ ہمیں دیکھ کر کیا سیکھتا ہے؟

* مولانا آصف جہانزیب عطاری مدنی

ماہنامہ مئی 2021ء

بچّہ جب تربیتی عمر میں ہوتا ہے اس وقت بچّہ الفاظ سے اتنی نصیحت حاصل نہیں کرتا جتنی والدین کے افعال سے حاصل کرتا ہے کیونکہ بچّوں پر الفاظ سے زیادہ کردار اثر انداز ہوتا ہے ، اب والدین کا جیسا کردار ہوگا بچّہ اسی اَخلاق و کردار کے ساتھ نشو نما پائے گا مثلاً آپ مسکرائیں گے تو بچہ بھی مسکرائے گا ، آپ ناراض ہوں گے تو بچہ بھی ناراض ہونا سیکھے گا وغیرہ۔ آج ہمارے معاشرے کی یہ ایک بد نُما حقیقت ہے کہ والدین کا اَخلاق تو منفی ہوتا ہے لیکن بچے کے اخلاق کو مثبت دیکھنے کی خواہش ہوتی ہے ، والدین خود چاہے کتنے ہی غصیلے مزاج کے ہوں لیکن بچہ خوش مزاج ہونا چاہئے ، والدین خود بے پرواہ ہوں لیکن بچہ احساسِ ذمہ داری والا ہونا چاہئے ، والدین خود گالی گلوچ کے عادی ہوں لیکن بچے کی زبان پر گالی نہیں آنی چاہئے ، غرض یہ کہ بچے کی تربیت کے اس دوہرے معیار کی وجہ سے ہماری موجودہ نسل عملی طور پر کمزور اور مضطرب نظر آتی ہے ، ان میں نہ اخلاق کی مضبوطی ہوتی ہے نہ عمل کی رغبت ، اس دوہرے معیار کی چند مثالیں ملاحظہ کیجئے اور اپنا تجزیہ خود کیجئے کہ ہم بچّوں سے کیا چاہتے ہیں اور بچّہ ہمیں دیکھ کر کیا سیکھتا ہے؟

(1)والدین بچّوں سے اکثر یہ کہتے ہیں کہ کوئی مشکل میں ہو تو اس کی مدد کرنی چاہئے اس سے اللہ پاک خوش ہوتا ہے اور ثواب بھی ملتا ہے ، لیکن وہی بچّہ جب والد یا والدہ سے اپنی پڑھائی کے سلسلے میں مدد چاہتا ہے تو والدین مصروفیت کی بنا پر اسے ٹال دیتے ہیں ، گویا آپ اسے یہ تأثر دیتے ہیں کہ مشکل کام میں مدد اسی وقت ہو سکتی ہے جب آپ بالکل فارغ ہوں۔ اس تأثر سے بچے کے ننھے ذہن میں یہ بیٹھ جاتا ہے کہ مشکل میں کسی دوسرے کی مدد کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ زندگی بہت مصروف ہے۔

(2)بچّے کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ زندگی میں ہمیشہ سچ بولنا چاہئے ، لیکن اس نے اس بات کا بھی مشاہدہ کیا کہ جب ابو کا کوئی دوست ملنے آیا تو ابو نے اسی بچّے کو دروازے پر یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اس سے کہہ دو کہ ابو گھر پر نہیں ہیں اس عملی مشاہدے سے بچے نے سیکھا کہ جب کسی کام سے بچنا ہو تو جھوٹ کا سہارا لے لینا چاہئے۔

(3)بچے نے یہ بھی سُن رکھا تھا کہ غصہ کرنا ، لڑائی جھگڑا کرنا ، گالی گلوچ یہ سب گندی باتیں ہیں اچھے لوگ ایسے کام نہیں کرتے ، لیکن بچے نے بارہا یہ بھی دیکھا کہ ممّی پاپا کی تو اکثر لڑائی ہوتی ہے اور جب بھی پاپا کو غصہ آتا ہے پاپا مما کو گالیاں بھی دیتے ہیں اور مارتے پیٹتے بھی ہیں ، بچے کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ گئی کہ غصہ کرنا ، لڑائی جھگڑا کرنا ، گالی گلوچ یہ سب باتیں بُری تو ہیں لیکن جس پر غصہ آجائے تو اس کا حل یہی ہے کہ اس پر غصہ اتار دیا جائے اور بُرا بھلا کہہ کر دل ٹھنڈا کرلیا جائے۔

(4)بچّے کو کوئی کام دیتے ہوئے یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ کام وقت پر کرنا چاہئے ، لیکن اکثر دادا جان ابو کو کوئی کام کہتے ہیں تو ابو اس کام کو تین چار دن تک لٹکا دیتے ہیں ، بچے کے ذہن پر یہ نقش ہوگیا کہ کام میں تاخیر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

محترم والدینِ کرام! یہ چند مثالیں اور ان کے نتیجے ہمارے سامنے ہیں کہ بچے ہمارے افعال سے کیا سیکھ رہے ہیں؟ اگر والدین کی یہ خواہش ہے کہ بچے کی تربیت اعلیٰ اخلاق پر ہو تو پہلے والدین کو خود اپنی اَخلاقی حالت دُرست کرنی ہوگی ، اپنے رویّے اور زندگی گزارنے کے انداز میں تبدیلی لانی ہوگی۔

اللہ پاک ہم سب کو اچھے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ ، شعبہ بچوں کی دنیا (کڈز لٹریچر) المدینۃ العلمیہ ، کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code