بدعت کی اقسام

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: مَنْ اَحْدَثَ فِيْ اَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ یعنی جس نے ہمارے اس دین میں ایسا طریقہ ایجاد کیا جس کا تعلّق دین سے نہیں ہےتو وہ مَرْدُود ہے۔(بخاری،ج2،ص211،حدیث:2697)

یہ حدیثِ پاک ان احادیث میں سے ہے جو شریعتِ اسلامیہ کے لئے بنیادی ارکان اور بنیادی اُصول و ضَوابط کی حیثیت رکھتی ہیں۔ امام یحییٰ بن شَرف نَوَوی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 676ھ) فرماتے ہیں: ”هذا الحديث قاعدة عظيمة من قواعد الاسلامیعنی یہ حدیثِ پاک اسلام کے اُصولوں میں سے ایک عظیم اُصول ہے۔ (شرح النووی علی مسلم،جز:12،ج 6،ص16)

مختصر وضاحت: ہر وہ نیا کام کہ جس کو عبادت سمجھا  جائے حالانکہ وہ شریعتِ مطہّرہ کے اُصولوں سے ٹکرا رہا  ہو یا کسی سنّت، حدیث کے مخالف ہو تو وہ کام مَرْدُود (یعنی قبول نہ ہونے والا) اور محض باطل ہے۔البتہ اس میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ جو چیز شریعت کے دلائل سے ثابت ہو یا دینِ اسلام کے اُصولوں کے خلاف نہ ہو، تو وہ مَردُود نہیں اور نہ اس حدیث کے تحت داخل ہے، چنانچہ  علّامہ عبدُ الرَّؤوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات:1031ھ) اسی حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”اما ما عضده عاضد منه بان شهد له من ادلة الشرع او قواعده فليس برد بل مقبول كبناء نحو ربط و مدارس وتصنيف علم وغيرهاترجمہ: جو چیز دین کے لئے  مددگار ہواورہوبھی کسی دینی قانون وضابطےکےتحت، وہ مَردُود نہیں ہے، بلکہ وہ مقبول ہے، جیسا کہ سرحدوں کی حفاظت کے لئے قلعے بنانا، مدارس قائم کرنا اور علم کی تصنیف کا کام کرنا وغیرہ وغیرہ۔(فیض القدیر ،ج 6،ص47،تحت الحدیث:8333)

بدعت کی اقسام

بنیادی طور پر بدعت کی دو قسمیں ہیں : (1) بدعتِ حسنہ: ایسا نیا کام جو قراٰن و حدیث کے مخالف نہ ہو اور مسلمان اسے اچھا جانتے ہوں، تو وہ کام مَردُود اور باطِل نہیں ہوتا۔ مثلاً: اسلامی سرحدوں کی حفاظت کے لئے قلعے بنانا، مدارس قائم کرنا اور عِلمی کام کی تصنیف کرنا وغیرہ وغیرہ  (2)بدعتِ سَیِّئَہ: دین میں ایسا نیا کام کہ جو قراٰن و حدیث سے ٹکراتا ہو۔ مذکورہ بالا حدیثِ پاک میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ مثلاً:اُردو میں خُطْبہ دینا یا اُردو میں اذان دینا وغیرہ، جیسا کہ بدعت کی تقسیم کرتے ہوئے علّامہ بَدْرُ الدِّین عینی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 855ھ) فرماتے ہیں:ثم البدعۃ علی نوعین: ان کانت مما تندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی حسنۃ وان کانت مما تندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی مستقبحۃ‘‘ ترجمہ: بدعت کی دو قسمیں ہیں: (1)اگر وہ شریعت میں کسی اچھے کام کے تحت ہو، تو بدعتِ حسنہ ہوگی۔ (2)اگر شریعت میں کسی قبیح امر (بُرے کام) کے تحت ہو، تو بدعتِ قَبیحہ یعنی سیئہ ہو گی۔ (عمدۃ القاری،ج 8،ص245، تحت الحدیث:2010) جبکہ علّامہ ابنِ حَجر عَسْقَلانیرحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 852ھ) فرماتے ہیں: ”قال الشافعی البدعۃ بدعتان محمودۃ ومذمومۃ فما وافق السنۃ فھو محمودۃ وما خالفھا فھو مذموم ترجمہ:امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:بدعت دو اقسام پرمشتمل ہے: (1)بدعتِ محمودہ یعنی حَسَنہ اور (2)بدعتِ مَذْمُومہ یعنی سَیِّئہ۔جو سنّت کے موافق ہو، وہ بدعتِ محمودہ (جس کی تعریف ہویعنی اچھی) اور جو سنّت کے خلاف ہو، وہ بدعتِ مَذْمومہ(جس کی مذمت کی جائے یعنی بُری) ہے۔(فتح الباری،ج14،ص216،تحت الحدیث:7277)

بدعت کی یہی دو قسمیں رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےاس فرمان سے بھی ماخوذ ہیں: ’’مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَایَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ عَلَیْہِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَا یَنْقُصُ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْءٌ“ ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی اچھا کام جاری  کیا اور اُس کے بعد اُس پر عمل کیا گیا تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کی طرح اَجْر ملے گا اورعمل کرنے والوں  کے اَجْر و ثواب میں بھی  کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ نکالااور اُس کے بعد اُس پرعمل کیا گیا تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کی مانند گناہ   ملے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ کی جائے گی۔( مسلم،ص394،حدیث:2351)

بدعتِ سیّئہ کی ایک پہچان

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّممَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَۃً فِی دِیْنِھِمْ اِلَّا نَزَعَ اللہُ مِنْ سُنَّتِھِمْ مِثْلَھَا‘‘ ترجمہ:کوئی قوم کسی بدعت کو ایجاد کرے، تو اللہ پاک اس کی مثل سنت کو اٹھا دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح،ج1،ص56،حدیث:188) مُحدّثِ کبیر حضرت علّامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات:1014ھ) اس حدیثِ پاک میں مذکور لفظ ’’بدعت‘‘ کی تشریح میں فرماتے ہیں ’’ای سیئۃ مزاحمۃ لسنۃ‘‘ ترجمہ: یعنی اس سے مراد بدعت سیئہ (بُری)ہے جو کسی سنّت کے مخالف ہو۔(مرقاۃ المفاتیح،ج1،ص433،تحت الحدیث:188)

حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ  علیہ حدیثِ مبارکہ کے الفاظ ”لَیسَ مِنہُ“ کی شَرْح میں فرماتے ہیں:  ”لَیسَ مِنہُ سے مراد قرآن و حدیث کے مخالف، یعنی جو کوئی دین میں ایسے عمل ایجاد کرے جو دین یعنی کتاب و سنّت کے مخالف ہوں جس سے سنّت اُٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مَرْدُود ایسے عمل بھی باطل جیسے اُردو میں خطبہ و نماز پڑھنا، فارسی میں اذان دینا وغیرہ۔ “(مراٰۃ المناجیح ،ج1،ص146)

بدعتِ حسنہ کی چند مثالیں

ایسا اچھا نیا کام جو شریعت سے ٹکراتا نہیں ہے، اس کی بہت ساری مثالیں ہیں، جن میں سے پانچ یہ ہیں: (1)حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قراٰن  پاک کو ایک جگہ جمع کروایا اور اس کی تکمیل حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوئی (2) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تراویح کی جماعت شروع کروائی (3) حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں جمعہ کی اذانِ ثانی شروع ہوئی (4) قراٰنِ پاک میں نقطے اور اِعراب حجاج بن یوسف کے دور میں لگائے گئے۔ (5)مسجد میں امام کے کھڑے ہونے کے لئے محراب ولید مَرْوانی کے دور میں سیّدنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے ایجاد کی تھی۔ ان کے علاوہ بھی بہت سارے ایسے کام ہیں، جو نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ظاہری حیاتِ طیبہ میں یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دورِ مبارک میں نہیں تھے، بعد میں ایجاد ہوئے، تو یہ سارے کے سارے کام کیا مَرْدُود اور باطل ہیں؟ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ اللہ کریم عقلِ سلیم عطا فرمائے اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

”ماہنامہ فیضان مدینہ“ (ذوالقعدۃ الحرام 1440ھ) صفحہ 25 پر یہ مسئلہ شائع ہوا تھا: ٭دورانِ طواف حاجی صاحبان کی ایک تعداد کی پیٹھ یا سینہ کعبۂ مشرّفہ کی جانب ہوتا رہتا ہے۔ یاد رکھئے! طواف میں سینہ یا پیٹھ کئے جتنا فاصِلہ طے کیا اُتنے فاصلے کا اِعادَہ یعنی دوبارہ کرنا واجب ہےاور افضل یہ ہے کہ وہ پھیرا ہی نئے سرے سے کرلیا جائےلیکن اگر اِعادَہ نہ کیا اور مکّے سے چلے آئے تو دَم لازم ہے۔

اس کی مزید وضاحت یہ ہے: اعادہ نہ کرنے پر دَم لازم ہونے کا حکم طواف زیارت اور طوافِ عمرہ میں ہےجبکہ طواف رخصت اور طواف نفل میں اِعادہ نہ کیا تو ایک صدقہ لازم ہوگا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…دارالافتاء اہل سنت اقصیٰ مسجد،کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code