اہل ایمان کے امتحان کا ایک واقعہ

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:( قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ(۴) النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ(۵) اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ(۶) وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ(۷) )ترجمہ: کھائی والوں پر لعنت ہو۔ بھڑکتی آگ والے۔ جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ خود اس پر گواہ ہیں جو وہ مسلما نوں کے ساتھ کررہے تھے۔(پ30، البروج:4تا7)

زندگی میں مشکلات کا پیش آنا ایک حقیقت ہے، یہ بعض اوقات گناہوں کی سزا ہوتی ہیں اور کبھی ان کی معافی کا ذریعہ۔ یونہی کبھی صالحین کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہیں اور کبھی لوگوں کا امتحان۔ جن حضرات کے مرتبے جتنے بلند ہوتے ہیں ان کی آزمائش بھی اتنے ہی اونچے درجے کی ہوتی ہے، اسی لئے انبیاءِ کرام علیہمُ السَّلام جو خدا کے سب سے مقرب اور افضل بندے ہیں ان پر بھی آزمائشیں آئیں۔ حضرت نوح علیہ السَّلام کو قوم نے ستایا، حضرت ہود و صالح علیہما السَّلام کو تنگ کیا گیا، حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کو آگ میں ڈالا گیا، حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو ہجرت کرنا پڑی، حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کو سولی دینے کی کوشش کی گئی، بہت سے انبیاء علیہمُ السَّلام کو شہید کیا گیا اور ہمارے آقا صلَّی  اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بھی بیسیوں طریقوں سے ستایا گیا۔ یونہی اِن حضرات کے بعد مرتبہ رکھنے والی ہستیوں کو دیکھ لیں مثلاً اہلِ بیتِ کرام اور سیّدُنا امام حسین رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا: بھوکا پیاسا رکھنا، باپ کے سامنے بیٹوں، بھتیجوں، بھانجوں اور اہلِ محبت کو ظالمانہ شہید کرنا، مصطفیٰ کریم صلَّی  اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مقدس کندھوں پر سواری کرنے والی بلند ہستی کو سفاکانہ انداز میں اہلِ خانہ کے ساتھ تیروں، نیزوں سے چھلنی کرکے شہید کرنا اور گردن کاٹنا الامان والحفیظ۔ یہ سب کیا ہے؟ راہِ خدا میں رضائے خدا کےلئے تکلیفیں اٹھانا ہے۔

اوپر ذکر کردہ آیت میں بھی راہِ خدا میں، ایمان کی محبت اور اس پر استقامت کے لئے آزمائشیں اٹھانے والے ایک پاک گروہ کا تذکرہ ہے۔ فرمایا کہ: خندقيں کھود کر ان میں آگ بھڑکا کر کنارے پر بیٹھے ان لوگوں پر لعنت ہو جو مسلمانوں کو آگ میں ڈال رہے تھے كيونكہ ان مسلمانوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور بادشاہ انہیں اسلام چھوڑنے اور کفر اختیار کرنے پر مجبور کررہا تھا۔(مدارک التنزیل، ص 1335، 1336، البروج، تحت الآیۃ:4-7)

کھائی والوں کا واقعہ یہاں کھائی والوں کا جو واقعہ ذکر کیا گیا اس کے بارے میں حضرت صہیب رومی رضی  اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلَّی  اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا: اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں، آپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا دوں۔ بادشاہ نے ا س کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکا بھیج دیا، وہ لڑکا جس راستے سے گزر کر جادوگر کے پاس جاتا اس راستے میں ایک راہب (تارکِ دنیا، عبادت گزار) رہتا تھا، وہ لڑکا (روزانہ) اس راہب کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سنتا اور اسے پسند آتیں……اسی دوران ایک مرتبہ ایک بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ بند کر دیا، لڑکے نے سوچا:آج میں آزماؤں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب؟ چنانچہ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا: اے  اللہ! اگر تجھے راہب کا معاملہ جادوگر سے زیادہ پسند ہے تو اس پتھر سے جانور ہلاک کردے تاکہ لوگ راستے سے گزر سکیں۔ چنانچہ جب لڑکے نے پتھر مارا تو وہ جانور اس پتھر سے مر گیا۔ لڑکے نے راہب کے پاس جاکر واقعہ سنایا تو راہب نے کہا: اے بیٹے! آج تم مجھ سے افضل ہوگئے ہو، تمہارا مرتبہ وہاں تک پہنچ گیا ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں۔ عنقریب تم مصیبت میں گرفتار ہوگے اور جب ایسا ہو تو کسی کو میرا پتا نہ دینا۔ (اس کے بعد اس لڑکے کی دعائیں قبول ہونے لگیں) اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے اور برص کے مریض اچھے ہونے لگ گئے اور وہ تمام بیماریوں  کا علاج کرنے لگا۔ بادشاہ کا ایک ساتھی نابینا ہوگیا تھا، اس نے جب یہ خبر سنی تو وہ اس لڑکے کے پاس بہت سے تحائف لے کر آیا اور اس سے کہا:اگر تم نے مجھے شفا دے دی تو میں یہ سب چیزیں تمہیں دے دوں گا۔ لڑکے نے کہا:میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفا تو اللّٰہ تعالیٰ دیتا ہے،اگر تم اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ تو میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اور وہ تمہیں شفا عطا کردے گا۔ وہ نابینا شخص ایمان لے آیا تو  اللہ تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔ جب وہ بادشاہ کے پاس گیا اور پہلے کی طرح اس کے پاس بیٹھا تو بادشاہ نے پوچھا:تمہاری بینائی کس نے لوٹائی ہے؟ اس نے کہا: میرے رب نے۔ بادشاہ نے کہا:کیا میرے سوا تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا:ہاں! میرا اور تمہارا رب  اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ سن کر بادشاہ نے اسے گرفتار کرلیا اور اس وقت تک اسے اَذِیَّت دیتا رہا جب تک اس نے لڑکے کا پتا نہ بتا دیا۔ پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور بادشاہ نے اس سے کہا: اے بیٹے! تمہارا جادو اتنا ترقی کرگیا کہ تم پیدائشی اندھوں کو ٹھیک کر دیتے ہو، برص کے مریضوں کو تندرست کردیتے ہو اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کرتے ہو۔ اس لڑکے نے کہا:میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفا تو میرا  اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ بادشاہ نے اسے گرفتار کرلیا اور اَذِیَّتیں دے کر راہب کا پتا معلوم کرلیا۔ پھر راہب کو بلايا اور ايمان نہ چھوڑنے پر پہلے اسے اور پھر اپنے قریبی ساتھی کو سر کے درمیان آرا رکھ كر چیر کر دو ٹکڑے کر دیا، پھر لڑکے کو ایمان نہ چھوڑنے پر دو مرتبہ شہید کرنے کی کوشش کی، پہلے پہاڑ سے پھینکنے کی کوشش کی لیکن لڑکے کی دعا سے زلزلہ آیا اور بقیہ لوگ پہاڑ سے نیچے گر کر ہلاک ہوگئے ليكن لڑکا بچ گیا۔ دوسری مرتبہ اس لڑکے کو کشتی میں سوار کرکے سمندر میں پھینکنے کی کوشش کی لیکن پھر لڑکے کی دعا سے کشتی الٹ گئی اور اس لڑکے کے علاوہ سب لوگ غرق ہوگئے۔ وہ لڑکا پھر بادشاہ کے پاس چلا گیا اور بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکو گے جب تک میرے کہنے کے مطابق عمل نہ کرو۔ بادشاہ نے وہ عمل پوچھا تو لڑکے نے کہا:تم ایک میدان میں سب لوگوں کو جمع کرو اور مجھے کھجور کے تنے پر سولی دو، پھر میرے تَرکَش سے ایک تیر نکال کر بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامِ ( اللہ کے نام سے جو اِس لڑکے کا رب ہے) کہہ کر مجھے مارو، اگر تم نے ایسا کیا تو وہ تیر مجھے قتل کردے گا۔ بادشاہ نے تمام لوگوں کو ایک میدان میں جمع كركے ایسا ہی کیا اور لڑکا شہید ہوگیا لیکن یہ دیکھ کر تمام لوگوں نے ايمان قبول كرتے ہوئے تین مرتبہ کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔(بادشاہ کا سارا معاملہ الٹ گیا) اس نے گلیوں کے كناروں پر خندقیں کھدوا کر ان میں آگ جلوائی اور حکم دیا کہ جو اپنے دین سے نہ پھرے اسے آگ میں ڈال دو۔(لیکن لوگ ایمان پر ڈٹے رہے حتی کہ) وہ آگ میں ڈالے جانے لگے یہاں تک کہ ایک عورت كی باری آئی جس کی گود میں بچہ تھا، وہ ذرا جھجکی تو بچے نے کہا: اے ماں! صبر کر اور جھجک نہیں، تو سچے دین پر ہے (اور وہ بچہ اور ماں بھی آگ میں ڈال دیئے گئے)۔(تلخیص از مسلم، ص1224، حدیث:7511) اور حضرت ربیع بن انس رضی  اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:جو مؤمن آگ میں ڈالے گئے  اللہ تعالیٰ نے اُن کے آگ میں پڑنے سے پہلے ہی اُن کی رُوحیں قبض فرما کر انہیں نجات دی اور آگ نے خندق کے کناروں سے باہر نکل کر کنارے پر بیٹھے ہوئے کفار کو جلا دیا۔(خازن،ج 4،ص366، البروج، تحت الآیۃ:5)

درس (1)راهِ خدا میں تكالیف پر صبر كرنا ہمیشہ سے نیک لوگوں کا طریقہ رہا ہے۔ (2)نیک لوگوں کو ستانے والے خدا کے دشمن ہیں۔ (3)اولیاء کی کرامات برحق ہیں۔ (4)چھوٹی عمر کے لڑکوں کو بھی ولایت مل جاتی ہے۔ (5)بزرگوں کی صحبت کا فیضان عبادات کے فیضان سے زیادہ مؤثر ہے۔ (6)جس دین میں اولیاء موجود ہوں وہ دین حق ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مفتی محمد قاسم عطاری 

٭…دارالافتاءاہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code