بچوں کےلئے مفید غذائیں

بچّوں کی اچّھی اَفْزائش اور نشوونما کے لئے اچّھی غذا کو بہت اہمیت حاصل ہے جس کا بچّوں کی صحت پر لمبے عرصے تک اثر رہتا ہے۔ بچّے جیسے جیسے بڑے ہونے لگتے ہیں تو عُمْر کے ساتھ ساتھ ان کی غِذا میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ خوراک کے اعتبار سے یہ مضمون بچّوں کی دو قسموں پر مشتمل ہے: (1)صرف دُودھ پینے والے بچّے (2)دُودھ کے ساتھ ساتھ ہلکی غذا کھانے والے اور ان سے بڑےجو روٹی وغیرہ کھاسکتے ہوں۔ دونوں قسم کے بچّوں کی غذا وغیرہ سے متعلّق چند معلومات پیشِ خدمت ہیں:

صرف دودھ پینے والےبچّوں کےمتعلق

(1)بچّوں کے لئے سب سے قوّت بخش غذا ماں کا دودھ ہے۔ لہٰذا پیدائش سے دوسال کی عُمْر تک بچّوں کو ماں کا دودھ ضرور پلانا چاہئے (2)ماں کا دودھ جراثیم سے پاک اور بچپن کی اکثر بیماریوں سے بچانے والا ہوتا ہے۔ ماں کادودھ پینے والے بچّے بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں (دودھ پیتا مدنی منا، ص32، 33ملخصاً) (3)کم عمر بچّوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے کا دودھ نہ دیا جائے کہ ان کے لئے نقصان دِہ ہے (4)دودھ پلانے کے فوراً بعد بچّوں کو سلانایا لِٹانا نہیں چاہئے بلکہ کچھ دیر بہلانا اور کھیلنے دینا چاہئے کیونکہ دودھ پلانے کے فوراً بعد بچے کو بستر پر ڈال دینے سے دودھ باہر آسکتا ہے جو بعض اوقات سانس کی نالی میں جاکر بچے کے لئے خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے (5)دودھ پینے کے بعد اُلٹی آنے کی صورت میں بچّوں کے ہاضمہ پر توجّہ دینی چاہئے اگر بار بار اُلٹی آتی ہو تو کسی اچھے ڈاکٹر کو دِکھانا چاہئے (6)بچّے تقریباً6سے8ماہ کی عمر کے ہوجائیں تو انہیں نَرْم غذا شروع کروانی چاہئے اس سے ان کی نیند بہتر رہتی ہے (7)بچّوں کے لئے سب سے اہم چیز ان کی غذا ہے اگر شروع ہی سے اس کا صحیح اہتمام کیا جائے تو آگے جاکر ان میں کمزوری کے چانسز کم ہوسکتے ہیں (8)خوراک کی کمی سے بچّوں کا وزن کم ہوتا ہے اور بچے مختلف بیماریوں کا شکا ر ہوجاتے ہیں۔

ہلکی اور نرم غذا کھا نے والےبچّوں کے متعلق

(1)جوبچّے غذائیں چباسکتے ہوں انہیں سبزی، گوشت اور مچھلی وغیرہ نَرْم چیزوں میں ملاکر دینی چاہئے تاکہ ان کی بہتر نشو و نُما ہو۔ نیز دلیہ اور کِھیر بھی دیئے جاسکتے ہیں (2)بچّوں کے لئے ٹماٹر کا سوپ، خربوزہ اور جوس مُفید ہے۔ مگر یہ جوسز (Juices) تازہ اور گھر کے بنے ہوئے ہوں بازار کے نہ ہوں (3)چھوٹے بچّوں کو سخت اور تالُو میں چپک جانے والی غذا نہیں دینی چاہئے (4)غذا چَبانے کے قابل بچّوں کو جب پھل وغیرہ دینا ہو تو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے دینا چاہئے تاکہ بچّے کے حلق میں پھنس نہ جائے (5)اگر بچہ ایسی غذا کھانے لگا ہےکہ جو اس کی جسمانی ضروریات کو پورا کر دیتی ہے تو دودھ کی مِقْدار آہستہ آہستہ کم کر دینی چاہئے (6)بچّوں کو کوئی چیز کھلانی ہو تو ضرورت سے زیادہ نہ کھلائیں کیونکہ اس سے ان کی صحت کو نقصان ہوسکتا ہے (7)حسبِ حیثیت بچّوں کو چھوٹی عُمْر میں اچّھی خوراک دینی چاہئے کہ اِس عمر میں جو طاقت آجائے گی وہ تمام عُمْر کام آئے گی (فیضانِ سنّت،ج1،ص994) (8)بچّوں کو وقتاً فوقتاً پانی بھی پلاتے رہنا چاہئے بالخصوص گرمیوں میں زیادہ پلانا چا ہئے۔ اسی طرح سو کر اٹھنے کے بعد بھی پلانا چاہئے۔ نیز جتنا ہوسکے انہیں سافٹ ڈرنک اور میٹھے مشروبات سے دور رکھیں (9)کھانے کے ٹائم بچّوں کو کھانا ہی دینا چاہئے دوسری چیزیں نہیں دینی چاہئیں تاکہ صحیح کھانا کھا سکیں (10)بچّوں کو کھلانے پلانے کے لئے وقت مُقَرَّر کرلینا چاہئے۔ جو عورتیں باربار کھلاتی پلاتی ہیں ان کے بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں (جنتی زیور، ص89ملخصاً) (11)جب بچّے دودھ کے ساتھ مختلف غذا کھانے لگیں تو ان کی غذا میں انڈے کی زَردی شامل کرنی چاہئے کہ یہ ان کے لئے نہایت مُفید ہے۔

بچّوں کے لئے متفرّق مفید غذائیں

(1)بادام بچّوں کے لئے صحت بخش غذا ہے۔ اس میں ”کیلشیم“ ہوتا ہے جو ہڈّیوں کے لئے ضروری ہے (2)پِستہ دل اور دماغ کو قوّت بخشتا اور بدن کو صحت مند کرتا ہے (3)کاجُو جسم کو غذائیت اور دِماغ کو طاقت دیتا ہے (4)چِلْغوزہ بلغم کو دُور اور بدن کو موٹا کرتا ہے (5)مُوْنگ پھلّی کے بیجوں میں بہت غذائیت ہوتی ہے (6)چھوہارا صاف خون پیدا کرتا ہے (7)اَخروٹ بدہضمی کو دور کرتا ہے (8)مُنَقّٰی کم وَزن بدن کو صحت مند کرتا ہے (9)اِنْجیر میں بہت غذائیت ہے (بیٹا ہو تو ایسا!، ص 33تا43 ملتقطاً) (10)پتّوں والی سبزیاں بچّوں کے لئے مفید ہیں کہ ان میں فولاد، کیلشیم، وٹامن E اور K ہوتا ہے (11)پھلوں میں اسٹرابری، مالٹا، پپیتا وغیرہ وٹامن C سے بھرپور ہوتے ہیں جو بچّوں کے لئے مفید ہیں (12)دانت نکالنے والے بچّوں کے لئے کھجور چُوسْنی نہایت مفید ہے (13)ذہانت کے لئے شہد مفید ہے (14)بچّوں کی افزائش کے لئے دہی مفید ہے (15)کیلا بھی بچّوں کے لئے مُفید تَرِین غذا ہے۔

چند نُقصان دِہ غذائیں

(1)ٹافیاں، گولیاں، چاکلیٹ، گولاگنڈا بے احتیاطی کے ساتھ کھانے سے دانتوں، گلے، سینے، مِعْدے اور آنتوں وغیرہ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے(بیٹا ہو تو ایسا!، ص26ملخصاً) (2)آلودہ غذا ئیں اور ٹافیاں کھانے سے پیٹ میں کیڑے پیدا ہونے لگتے ہیں (3)بچّوں کو بوتل ((Cold drinkوغیرہ ہرگز نہ دیجئے کہ یہ تو بچّوں کے ساتھ بڑوں کے لئے بھی بہت نقصان دہ ہے (4)فاسٹ فوڈ اور بازاری کھانے بھی نقصان سے خالی نہیں۔ اس لئے ان سے خود بھی بچیں اور اپنے بچّوں کو بھی بچائیں۔

اللہ پاک ہمیں اپنےبچّوں کی صحیح تربیت کرنے، انہیں اچّھی اور مُفید غِذا کھلانے اور نقصان دہ غذاؤں سےدُور رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ اس مضمون کی طبّی تفتیش مجلسِ طبّی علاج (دعوتِ اسلامی) کے ڈاکٹر محمد کامران اسحٰق عطّاری نے فرمائی ہے۔

محرّمُ الحرام کے چند اہم واقعات

٭محرّمُ الحرام 14ھ میں حضرت سیّدُنا ابو بکر صِدّیق رضی اللہ عنہ کے والدِ محترم حضرت سیّدُنا ابو قُحَافَہ عثمان بن عامر قَرشی رضی اللہ عنہ کا وِصال ہوا۔

٭محرّمُ الحرام 16ھ میں سرکارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کنیز حضرت سیّدَتُنا ماریہ قِبْطیہَّ رضی اللہ عنہا کا وِصال ہوا۔

٭محرّمُ الحرام24ھ کی پہلی تاریخ کو خلیفۂ دُوُم، امیرُالمؤمنین حضرت سیّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی تدفین کی گئی۔

٭محرّمُ الحرام61ھ کی دس تاریخ کو نواسۂ رسول، حضرت سیّدُنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے رُفَقا کو شہید کیا گیا۔

٭محرّمُ الحرام200ھ کی 2تاریخ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے 9 ویں شیخِ طریقت حضرت سیّدُنا شیخ معروف کَرْخی رحمۃ اللہ علیہ کا وِصال ہوا۔

٭محرّمُ الحرام632ھ کی پہلی تاریخ کو بانیِ سلسلۂ سہروردیہ، حضرت سیّدُنا شیخ شہابُ الدّین ابوحَفْص عُمَر صِدّیقی سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کا وِصال ہوا۔

٭محرّمُ الحرام664ھ کی پانچ تاریخ کو سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا حضرت بابا فریدُ الدّین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللہ علیہ کا وِصال ہوا۔

٭محرّمُ الحرام1402ھ کی 14تاریخ کو شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حُضور مفتیِ اعظم ہند حضرت علّامہ مولانا محمد مصطفےٰ رضا خان نُوری رحمۃ اللہ علیہ کا وِصال ہوا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code