صحابۂ کرام کی اہل بیت سے محبت

پیارے اسلامی بھائیو! قراٰنِ کریم میں اہلِ بیت کی محبت کے بارے میں اللہ پاک کا فرمان ہے:( قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ- )تَرجَمۂ کنزُ الایمان: تم فرماؤ میں اس([1]) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبّت۔(پ25، الشوریٰ:23)

دورِ صَحابہ سے لے کر آج تک اُمّتِ مسلمہ اہلِ بیت سے محبت رکھتی ہے، چھوٹے بڑے سبھی اہلِ بیت سے مَحبت کا دَم بھرتے ہیں۔ حضرت علّامہ عبدالرءوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کوئی بھی امام یا مجتہد ایسا نہیں گزرا جس نے اہلِ بیت کی محبت سے بڑا حصّہ اور نُمایاں فخر نہ پایا ہو۔(فیض القدیر،ج 1،ص256) حضرت علّامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب اُمّت کے ان پیشواؤں کا یہ طریقہ ہے تو کسی بھی مؤمن کو لائق نہیں کہ ان سے پیچھے رہے۔(الشرف المؤبد لآل محمد، ص94) تفسیرِ خزائنُ العرفان میں ہے:حُضور سیّدِعالَم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کی محبّت اور آپ کے اَقارِب کی مَحبّت دِین کے فرائض میں سے ہے۔(خزائنُ العرفان، پ25،الشوریٰ، تحت الآیۃ:23، ص894)

اے عاشقانِ رسول! صَحابَۂ کرام جو خود بھی بڑی عظمت و شان کے مالِک تھے، وہ عظیمُ الشّان اہلِ بیتِ اطہار سے کیسی محبت رکھتے تھے اوراپنے قول و عمل سے اس کا کس طرح اِظْہار کیا کرتے تھے! آئیے اس کی چند جھلکیاں دیکھتے ہیں:

صَحابَۂ کرام کا حضرت عبّاس کی تعظیم و توقیر کرنا:صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان حضرت سیّدُنا عباس رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر بجا لاتے، آپ کے لئے کھڑے ہوجاتے، آپ کے ہاتھ پاؤں کا بوسہ لیتے، مُشاوَرت کرتے اور آپ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے۔(تہذیب الاسماء،ج 1،ص244، تاریخ ابنِ عساکر،ج 26،ص372)

حضرت سیّدُنا عباس رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں تشریف لاتے تو حضرت سیّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ بطورِ اِحترام آپ کے لئے اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے تھے۔(معجمِ کبیر،ج 10،ص285، حدیث:10675)

حضرت سیّدنا عباس رضی اللہ عنہکہیں پیدل جارہے ہوتے اور حضرت سیّدُنا عمر فاروق اور حضرت سیّدُنا عثمان ذُوالنُّورَین رضی اللہ عنہما حالتِ سواری میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرتے تو بطورِ تعظیم سواری سے نیچے اُتر جاتے یہاں تک کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزر جاتے۔(الاستیعاب،ج 2،ص360)

سیّدُنا صِدّیقِ اکبر کی اہلِ بیت سے محبت:ایک موقع پر حضرت سیّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اہلِ بیت کا ذِکر ہوا تو آپ نے فرمایا:اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قُدْرت میں میری جان ہے! رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قَرابَت داروں کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنا مجھے اپنے  قَرابَت

 داروں سے صِلۂ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے۔ (بخاری،ج2،ص438،حدیث:3712)

ایک بار حضرت سیّدُنا صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احترام کے پیشِ نظر اہلِ بیت کا احترام کرو۔(سابقہ حوالہ، حدیث: 3713)

امام حَسَن کو کندھے پر بٹھایا:حضرت عُقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں عَصْر کی نَماز پڑھائی، پھر آپ اور حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کھڑے ہوکر چل دئیے، راستے میں حضرت حَسن کو بچّوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو حضرت سیّدُنا صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے کندھے پر اُٹھا لیا اور فرمایا: میرے ماں باپ قربان! حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہم شکل ہو، حضرت علی کے نہیں۔ اس وقت حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم مُسکرا رہے تھے۔

(سنن الکبریٰ للنسائی،ج 5،ص48، حدیث:8161)

سیّدُنا فاروقِ اعظم کی اہلِ بیت سے مَحّبت:ایک بار حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت سیّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو فرمایا:اے فاطمہ! اللہ کی قسم! آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کو حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا محبوب نہیں دیکھا اور خدا کی قسم! آپ کے والدِ گرامی کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز و پیارا نہیں۔(مستدرک،ج 4،ص139، حدیث:4789)

خُصوصی کپڑے دئیے:ایک موقع پر حضرت سیّدُنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضراتِ صَحابَۂ کرام کے بیٹوں کو کپڑے عطا فرمائے مگر ان میں کوئی ایسا لباس نہیں تھا جو حضرت امام حسن اور امام حُسین رضی اللہ عنہما کی شان  کے لائق ہو تو آپ نے ان کے لئے یمن سے خُصوصی لباس منگوا کر پہنائے، پھر فرمایا: اب میرا دل خوش ہوا ہے۔(ریاض النضرۃ،ج1،ص341)

وظیفہ بڑھا کردیا:یوں ہی جب حضرت سیّدنافاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے وظائف مقرر فرمائے تو حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین کے لئے رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قَرابَت داری کی وجہ سے اُن کے والد حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کے برابر حصّہ مقرر کیا، دونوں کے لئے پانچ پانچ ہزار دِرہم وظیفہ رکھا۔(سیراعلام النبلاء،ج3،ص259)

حضرت امیرمُعاویہ کی اہلِ بیت سے محبت:حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کے چند نُقُوش بھی آلِ ابوسفیان (یعنی ہم لوگوں) سے بہتر ہیں۔(الناھیۃ، ص59) آپ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰکَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم اور اہلِ بیت کے زبردست فضائل بیان فرمائے۔(تاریخ ابن عساکر،ج 42،ص415) آپ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کے فیصلے کو نافِذ بھی کیا اور علمی مسئلے میں آپ سے رُجوع بھی کیا۔(سنن الکبریٰ للبیہقی،ج10،ص205، مؤطا امام مالک،ج2،ص259)

ایک موقع پر آپ نے حضرت ضَرّار صَدائی سے تقاضا کرکے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کے فضائل سنے اور روتے ہوئے دُعا کی:اللہ پاک ابوالحسن پر رحم فرمائے۔ (الاستیعاب،ج 3،ص209)

یوں ہی ایک بار حضرت امیرمُعاویہ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ آبا و اَجْداد، چچا و پھوپھی اور ماموں و خالہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ معزز ہیں۔(العقد الفرید،ج 5،ص344) آپ ہم شکلِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم ہونے کی وجہ سے حضرت امام حَسَن کا احترام کرتے  تھے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص461)

ایک بار آپ نے امام عالی مقام حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کی علمی مجلس کی تعریف کی اور اُس میں شرکت کی ترغیب دلائی۔(تاریخ ابن عساکر،ج14،ص179)

اہلِ بیت کی خدمت میں نذارنے:حضرت امیرمُعاویہ رضی اللہ عنہ نے سالانہ وظائف کے علاوہ مختلف مواقع پر حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین کی خدمت میں بیش بہا نذرانے پیش کئے، یہ بھی محبت کا ایک انداز ہے، آپ نے کبھی پانچ ہزار دینار، کبھی تین لاکھ دِرہم تو کبھی چار لاکھ درہم حتی کہ ایک بار40کروڑ

روپے تک کا نذرانہ پیش کیا۔(سیراعلام النبلاء،ج 4،ص309،طبقات ابن سعد،ج 6،ص409، معجم الصحابہ،ج 4،ص370، کشف المحجوب،ص77، مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص460)

حضرت  عبداللہ بن مسعود کی اہلِ بیت سے محبت: حضرت سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:آلِ رسول کی ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔

(الشرف المؤبد لآل محمد، ص92)

نیز آپ فرمایا کرتے تھے:اہلِ مدینہ میں فیصلوں اور وِراثت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیت حضرت علی کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کی ہے۔(تاریخ الخلفاء،ص135)

حضرت ابوہریرہ کی اہلِ بیت سے محبت:حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں جب بھی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو فَرطِ مَحبّت میں میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔(مسند امام احمد،ج 3،ص632)

پاؤں کی گرد صاف کی:ابومہزم رحمۃ اللہ  علیہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنازے میں تھے تو کیا دیکھا کہ حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں سے حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کے پاؤں سے مٹی صاف کررہے تھے۔(سیراعلام النبلاء،ج 4،ص407)

حضرت عَمْرو بن عاص کی اہلِ بیت سے محبت:عیزار بن حریث رحمۃ اللہ  علیہ کا بیان ہے کہ حضرت عَمْرو بن عاص رضی اللہ عنہ خانۂ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، اتنے میں آپ کی نظر حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ پر پڑی تو فرمایا:اس وقت آسمان والوں کے نزدیک زمین والوں میں سب سے زیادہ محبوب شخص یہی ہیں۔(تاریخ ابن عساکر،ج14،ص179)

پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے بیان کردہ روایات میں پڑھا کہ حضراتِ صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کس کس انداز سے اہلِ بیتِ اَطہار سے اپنی محبت کا اظہار کرتے، انہیں اپنی آل سے زیادہ محبوب رکھتے، ان کی ضَروریات کا خیال رکھتے، ان کی بارگاہوں میں عمدہ و اعلیٰ لباس پیش کرتے، بیش بہا نذرانے اُن کی خدمت میں حاضر کرتے، اُن کو دیکھ کر یا اُن کا ذِکر پاک سُن کر بے اختیار رو پڑتے، ان کی تعریف و توصیف کرتے اور جاننے والوں سے اُن کی شان و عظمت کا بیان سنتے۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ساداتِ کرام اور آلِ رسول کا بے حَدادب و احترام کریں، ان کی ضَروریات کا خیال رکھیں، ان کا ذِکرِخیر کرتے رہا کریں اور اپنی اولاد کو اہلِ بیت و صَحابَۂ کرام کی محبت و احترام سکھائیں۔

اللہ پاک کی ان پر رَحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

میّت کو قبر میں رکھنے کا طریقہ

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں: (میت کو قبر میں لٹانے کا)افضل طریقہ یہ ہے کہ میّت کو دہنی (یعنی سیدھی) کروٹ پر لٹائیں۔ اس کے پیچھے نرم مٹی یا ریتے کا تکیہ سابنادیں اور ہاتھ کروٹ سے الگ رکھیں، بدن کا بوجھ ہاتھ پر نہ ہو  اس سے میّت کو ایذا ہوگی۔(مزید فرماتے ہیں:) اور اینٹ پتھر کا تکیہ نہ چاہئے کہ بدن میں چبھیں گے اور ایذا ہوگی (اور فرماتے ہیں)اور جہاں اس میں دِقّت ہوتو چِت لٹا کر منہ قبلہ کو کردیں، اب اکثر یہی معمول ہے۔(فتاوی رضویہ،ج9،ص371)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭شعبہ تراجم المدینۃُ العلمیہ کراچی



1۔۔۔یعنی تبلیغِ رسالت(خزائن العرفان)

Share

صحابۂ کرام کی اہل بیت سے محبت

پیارے اسلامی بھائیو! قدرتی طور پر انسان جس سے محبت رکھتا ہے اس سے تعلق رکھنے والی تمام چیزیں اس کو محبوب ہوجاتی ہیں،چنانچہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت رکھنے والے بھی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نسبت رکھنے والی ہر چیز کو جان و دل سے محبوب رکھتے ہیں۔اہلِ بیتِ اَطہار وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہیں ہمارے پیارے نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے خاندانی نسبت بھی حاصل ہے ۔حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اور اہلِ بیتِ اَطْہار کی محبت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا جیساکہ فرمانِ مصطفٰے صلَّی اللہعلیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: کوئی بندہ اس وقت تک کامل  مؤمن نہیں ہوتا یہاں تک کہ میں اس کو اس کی جان سے زیادہ پیارا نہ ہوجاؤں اور میری اولاد اس کو اپنی اولاد سے زیادہ پیاری نہ ہو۔ (شعب الایمان،ج 2،ص189، حدیث:1505مختصراً)۔ امام محمد بن احمد قُرْطُبی رحمۃ اللہ علیہ آیت ِ مبارکہ( قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ-)(پ 25، الشورٰی: 23) (تَرجَمۂ کنزُ الایمان: تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: حضرت سعید بن جُبیر (رحمۃ اللہ علیہ) سے مروی ہے کہ قرابت والوں سے مراد حُضور سیّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کی آلِ پاک ہے۔ (قرطبی،پ25،الشوریٰ،تحت الآیۃ:23،ج  8،ص16)

یاد رہے کہ اہلِ بیت میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تمام اولاد اور ازواجِ مطہّرات بھی شامل ہیں۔ حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمیرحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں: اہلِ بیت کے معنیٰ ہیں گھر والے، اہلِ بیتِ رَسول چند معنیٰ میں آتا ہے: (1)جن پر زکوٰۃ لینا حرام ہے یعنی بنی ہاشم عباس، علی، جعفر، عقیل، حارِث کی اولاد (2)حُضور صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کے گھر میں پیدا ہونے والے یعنی اولاد(3)حُضور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے گھر میں رہنے والے جیسے اَزواج پاک۔(مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص450)

اہلِ بیت سے محبت کے تقاضے

محبتِ اہلِ بیت کو عام کیا جائے:جب قراٰن و حدیث میں اہلِ بیت سے محبت کا حکم موجود ہے تو ہمیں اس محبت کو خوب عام کرنے کی کوشش کر نی چاہئے۔ بالخصوص اپنے بچّوں کے دِلوں میں ان مکرّم شخصیات کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس بارے میں تو حدیثِ پاک میں ترغیب بھی دِلائی گئی ہے، جیساکہ حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اپنی اولاد کو تین اچّھی خصلتوں کی تعلیم دو:(1)اپنے نبی کی محبت (2)ان کے اہلِ بیت کی محبت (3)قراٰنِ پاک کی تعلیم۔ (جامع صغیر، ص25، حدیث: 311) ان کے واقعات بچّوں کو بتائے جائیں تاکہ چھوٹی عمر ہی میں یہ اہلِ بیت سے محبت کرنے والے بَن جائیں۔ جب ان کے اَعْراس (عُرس کی جمع) کے ایام آئیں تو ان کے لئے گھر، مسجد وغیرہ میں ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا جائے، ان کے فضائل بچّوں کو یاد کروائے جائیں۔ادب و احترام کیا جائے:نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے منسوب ہر شے کا جب ادب واحترام لازم ہے تو اہلِ بیت کا بھی ادب لازم ہے اور یہ محبت کا تقاضا بھی ہے۔ کُتب میں اَسلافِ کرام رحمہم اللہ السَّلام کے کئی واقعات اس مناسبت سے ملتے ہیں، چنانچہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چچازاد حضرت سیّدُنا عبداللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی رِکاب پکڑلی توانہوں نے فرمایا:اے رسولُ اللہ (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے چچا کے بیٹے! یہ کیا ہے؟(یعنی آپ ایسا کیوں کررہے ہیں؟) حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ عُلَما کاادب کریں۔ اس پر حضرت سیّدُنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور فرمایا: ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم اپنے نبی کے اہلِ بیتِ اَطہار کے ساتھ ایسا ہی کریں۔(تاریخ ابن عساکر،ج 19،ص326 ملخصاً)تعلیمات پر عمل کیا جائے: یہ عظیم ہستیاں وہ ہیں جن کی محبت و اِطاعت ہدایت اور نَجات کا ذریعہ ہے، جیساکہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہےَلَا اِنَّ مَثَلَ اَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ یعنی آگاہ رہو کہ تم میں میرے اہلِ بیت کی مثال جنابِ نُوح کی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا ہلاک ہوگیا۔(فضائل صحابہ لامام احمد، جز2،ج1،ص785، حدیث:1402)اس حدیثِ پاک کی شرح میں حکیمُ الاُمّت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جیسے طوفانِ نوحی کے وقت ذریعۂ نَجات صرف کشتیِ نوح علیہ السَّلام تھی ایسے ہی تاقیامت ذریعۂ نَجات صرف محبتِ اہلِ بیت اور ان کی اِطاعت ان کی اِتّباع ہے، بغیر اطاعت و اِتّباع دعویٰ محبت بے کار ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ میرے صحابہ تارے ہیں تم جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے،گویا دنیا سمندر ہے اس سفر میں جہاز کی سواری اور تاروں کی رہبری دونوں کی ضرورت ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ! اہلِ سنّت کا بیڑا پار ہے کہ یہ اہلِ بیت اور صحابہ دونوں کے قدم سے وابستہ ہیں۔(مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص494)

دینِ اسلام کےلئے اہلِ بیت کی قربانیوں سے کون آگاہ نہیں۔ ان کا صبر، ہمّت، جذبہ اور ثابت قدمی مثالی ہے۔یہ وہ ہیں جن کا خاندان دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے شہید ہوگیا، جنہوں نے کئی دن کی بھوک اور پیاس برداشت کی،مشقتیں جھیلیں۔ جس طرح انہوں نے دینِ اسلام کے لئے قُربانیاں دیں ہمیں بھی دینِ اسلام کی خاطرقُربانیاں دینے کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہئے۔ جس طرح ان عظیم لوگوں نے ہر موقع پر صبر سے کام لیا، اہلِ بیت سے محبت کرنے والوں کو بھی مشکلات پر واویلا کرنے کی بجائے صبر و ہمت سے کام لینا چاہئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭مدرس مرکزی جامعۃ المدینہ ،عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ ،کراچی

Share

صحابۂ کرام کی اہل بیت سے محبت

اہلِ بیتِ اَطْہار کی باہمی مَحبت اور ایک دوسرے سے اُلْفت ہمارے لئے معیارِ زندگی کی حیثیت رکھتاہے۔ یہ نُفوسِ قُدْسِیَّہ ہر رشتے اور تعلق میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اُسْوَۂ حَسَنَہ پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ چنانچہ

خاتونِ جنّت کی شادی میں اُمّہاتُ المؤمنین کا کردارخاتونِ جنّت حضرت سیّدَتُنا فاطمۃُ الزَہراء رضی اللہ عنہا کی ولادت اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ عنہا کے بَطنِ اَقدس سے ہوئی، جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کا موقع آیا تو اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ اور حضرت سیّدَتُنا اُمِّ سَلَمہ رضی اللہ عنہما نے وادیِ بطحا سے مٹّی منگوا کر ان کے مکان کے فرش کو لیپا، پھر اپنے ہاتھوں سے کھجور کی چھال ٹھیک کرکے دو گَدّے تیار کئے، ان کے کھانے کے لئے کھجور اور کشمش رکھی اور پینے کے لئے ٹھنڈے پانی کا اہتمام کیا، پھر گھر کے ایک کونے میں لکڑی کا سُتُون کھڑا کردیا تاکہ اس پر مشکیزہ اور کپڑے وغیرہ لٹکا دئیے جائیں، پھر فرمایا: فَمَا رَاَيْنَا عُرْسًا اَحْسَنَ مِنْ عُرْسِ فَاطِمَة یعنی ہم نے فاطمہ کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی۔(ابن ماجہ،ج 2،ص444، حدیث: 1911 ملخصاً)

ماں کے حق کا واسطہ دیااُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بار نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سب اَزْواج بارگاہِ اقدس میں حاضر تھیں کہ اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس طرح چلتی ہوئی آئیں کہ آپ رضی اللہ عنہا کی چال رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مُشابہ تھی۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جب حضرت فاطمہ کو دیکھا تو ارشاد فرمایا: خوش آمدید میری بیٹی! پھر انہیں اپنے پاس بٹھا لیا اور ان سے سَرگوشی فرمائی تو وہ رونے لگیں۔ حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ان کی پریشانی اور غم کو دیکھ کر دوبارہ ان کے کان میں سَرگوشی فرمائی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں اِسْتِفْسَار کیا اور رونے کی وجہ پوچھی: تو انہوں نے کہا:میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا رازفاش نہیں کروں گی۔ جب نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وِصالِ ظاہری ہوا تو میں نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا )سے کہا:عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ یعنی میرا تم پر جو حق ہے تمہیں اس کی قسم مجھے اس راز کے بارے میں بتاؤ، تو فاطمہ (رضی اللہ عنہا ) نے کہا: ہاں! اب میں بتا دیتی ہوں۔ میرا رونا تو اس وجہ سے تھا کہ آپ(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے پہلی بار سرگوشی میں مجھ سے فرمایا کہ میرے وِصال کا وقت قریب آگیا ہے، اللہ پاک سے ڈرتی رہو اور صَبْر کرو، میرا تم سے پہلے جانا تمہارے لئے بہتر ہے۔ پھر دوسری بار سرگوشی میں مجھ سے فرمایا:اے فاطمہ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام مسلمانوں کی بیویوں یا اس اُمّت کی عورتوں کی سردار ہو۔ یہ سُن کر میں ہنس پڑی۔(مسلم، ص1022، 1023، حدیث: 6313، 6314ملتقطاً)

اے بیٹی! اس سے مَحبت کرنا ایک موقع پر نبیِّ کریم صلَّی اللہعلیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کرنے کی تلقین فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: اَيْ بُنَيَّةُ اَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا اُحِبُّ؟ اے میری بیٹی!کیا تم اس سے مَحبت نہیں کروگی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیوں نہیں۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا:فَاَحِبِّی هٰذِهٖ تو اس (یعنی عائشہ صِدّیقہ) سے مَحبت کرو۔(مسلم، ص 1017، حدیث: 6290)

وہ مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں:ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دس مُحَرَّمُ الْحَرَام کے روزے کا حکم بیان کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا یہ حکم کس نے بیان کیا ہے؟ لوگوں نے کہا:حضرت علی رضی اللہ عنہ نے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:انَّهُ لَاَعْلَمُ النَّاسِ بِالسُّنَّةِ یعنی وہ لوگوں میں سنّت کو زیادہ بہتر جاننے والے ہیں۔(الاستیعاب،ج 3،ص206)حضرت شُریح بن ہانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مَسح کے بارے میں سُوال پوچھا تو حضرت عائشہ رضی اللہعنہا نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں۔(مسلم، ص 130، حدیث: 641)

یہ میرے اہلِ بیت ہیں اُمُّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میرے گھر میں یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:( اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳) ) (تَرجَمۂ کنز الایمان: اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے) تو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا: یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔ حضرت امِّ سلمہ رضیاللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یَارسولَ اللہ! میں بھی اہلِ بیت سے ہوں؟ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کیوں نہیں!اِنْ شَآءَ اللہ۔(شرح السنہ للبغوی،ج 7،ص204، حدیث:3805)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code