باب:حضرت عمر کے فضائل

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم سے پہلی امتوں میں الہام والے لوگ تھے تو اگر میری امت میں کوئی ہوا تو وہ عمر ہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ كَانَ فِيمَا قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فإِنَّهٗ عُمَرُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6035 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں حضرت عمر ابن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے حاضری کی اجازت مانگی حضور کے پاس قریش کی کچھ عورتیں تھیں ۱؎جو آپ سے کلام کر رہی تھیں اور زیادہ مانگتی تھیں ۲؎اونچی آواز سے۳؎تو جب حضرت عمر نے اجازت مانگی تو ان سب نے حجاب میں جلدی کی۴؎تو عمر حاضر ہوئے اور رسول اللہ ہنس رہے تھے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ آپ کے دندان کو ہنستا رکھے۵؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ان عورتوں سے تعجب کرتا ہوں جو میرے پاس تھیں جب انہوں نے آپ کی آواز سنی تو پردے میں جلدی کی۶؎حضرت عمر نے فرمایا اے اپنی جانوں کی دشمن ۷؎کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے نہیں ڈرتیں وہ بولی ہاں۸؎آپ سخت طبیعت اور سخت گیر ہیں ۹؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خوب اے ابن خطاب اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے شیطان تم سے نہیں ملتا کسی راستہ میں چلتا ہوا مگر وہ آپ کی راہ کے سوا دوسرے راہ چلتا ہے ۱۰؎(مسلم،بخاری)حمیدی نے کہا کہ برقانی نے یارسول اللہ کے بعدما أضحككسے زیادہ کیا ۱۱؎

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهٗ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهٗ وَيَسْتَكْثِرْنَهٗ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ فَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَدَخَلَ عُمَرُ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ فَقَالَ: أَضْحَكَ اللّٰهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ» قَالَ عُمَرُ: يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَ: نَعَمْ أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ».(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ: زَادَ الْبَرْقَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهٖ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ: مَا أَضْحَكَكَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6036 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں جنت میں گیا ۱؎تو میں ابو طلحہ کی بیوی رمیصا کے پاس پہنچا ۲؎اور میں نے ایک آہٹ سنی تو میں نے کہا یہ کون ہیں فرمایا یہ بلال ہیں ۳؎اور میں نے ایک محل دیکھا جس کے صحن میں ایک بی بی تھیں میں نے کہا یہ کس کا ہے سب نے کہا عمرابن خطاب کا۴؎میں نے چاہا کہ وہاں داخل ہوں کہ اسے دیکھوں تو تمہاری غیرت یاد آگئی۵؎جناب عمر نے کہامیرے ماں باپ آپ پر فدا یا رسول اللہ کیا میں آپ پر غیرت کرسکتا ہوں ۶؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دَخَلْتُ الجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ: مَنْ هٰذَا ؟ فَقَالَ: هٰذَابِلَالٌ وَرَأَيْتُ قَصْرًا بِفِنَائِهٖ جَارِيَةٌ فَقُلْتُ: لِمَنْ هٰذَا ؟ فَقَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهٗ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ"فَقَالَ عُمَرُ:بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَعَلَيْكَ أَغَارُ؟ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6037 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب میں سورہا تھا تو میں نے لوگوں کو دیکھا وہ مجھ پر پیش کیے جارہے ہیں جن پر قمیض ہیں،بعض وہ ہیں جو پستان تک پہنچتی ہیں بعض اس سے بھی کم ۱؎اور مجھ پر عمر ابن خطاب پیش کیے گئے اس حال میں کہ ان پر وہ قمیض ہے جسے وہ کھینچ رہے ہیں ۲؎لوگوں نے کہا یارسول اللہ اس کی کیا تعبیر لی فرمایا دین ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا دُونَ ذٰلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذٰلِكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6038 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جب ہم سو رہے تھے تو ہمارے پاس ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا میں نے پی لیا ۱؎حتی کہ میں نے دیکھا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے ۲؎پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر ابن خطاب کو دے دیا لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اس کی تعبیر کیا دی فرمایا علم۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ حَتّٰى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهٗ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: «الْعِلْمَ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6039 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جب ہم سو رہے تھے کہ میں نے اپنے کو ایک کنویں کے کنارہ پر دیکھا ۱؎جس پر ڈول تھا تو میں نے جیسا اللہ نے چاہا نکالا پھر اسے ابو قحافہ کے فرزند نے لے لیا۲؎تو اس سے ایک یا دو ڈول نکالے۳؎اور ان کے کھینچنے میں کچھ ضعف تھا ۴؎اللہ انکے ضعف کو بخشے ۵؎پھر دو چرسا بن گیا ۶؎تو اسے عمر ابن خطاب نے لے لیا میں نے لوگوں میں کسی پہلوان کو نہ دیکھا جو جناب عمر کی طرح کھینچتا ہو ۷؎حتی کہ لوگوں نے واڑہ اختیارکر لیا ۸؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: « بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلٰى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ؟ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهٖ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهٗ ضَعْفَهٗ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ حَتّٰى ضَرَبَ النَّاسَ بِعَطَنٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6040 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

اور حضرت ابن عمر کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا پھر اسے عمر ابن خطاب نے ابوبکر کے ہاتھ سے لے لیا ان کے ہاتھ میں چرسا بن گیا تو میں نے کوئی پہلوان نہ دیکھا جو ان کی بہادری دکھائے حتی کہ لوگ سیراب ہوگئے اور واڑہ اختیار کرلیا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهٖ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرْيَهٗ حَتّٰى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بعَطَنٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ).

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6041 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ نے جناب عمر کی زبان اور دل پر حق جاری فرمایا ۱؎(ترمذی)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللّٰهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلٰى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهٖ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6042 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

اور ابوداؤد کی روایت میں حضرت ابوذر سے مروی ہے کہ فرمایا اللہ نے جناب عمر کی زبان پر حق رکھ دیا جسے وہ بولتے ہیں ۱؎

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللّٰهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلٰى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهٖ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6043 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ ہم خیال کرتے تھے کہ جناب عمر کی زبان پر سکینہ بولتا ہے ۱؎(بیہقی دلائل النبوۃ)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلٰى لِسَانِ عُمَرَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6044 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا الٰہی اسلام کو عزت دے یا ابوجہل ابن ہشام سے یا عمر ابن خطاب کے ذریعہ ۱؎تو جناب عمر نے سویرا کیا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں صبح ہی حاضر ہوئے اسلام قبول کرلیا۲؎پھر مسجد میں ظاہر ظہور نماز پڑھی گئی۳؎(احمد و ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللّٰهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ ثُمَّ صَلّٰى فِي الْمَسْجِدِ ظَاهِرًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6045 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جناب عمر نے ابوبکر صدیق سے کہا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد تمام لوگوں سے ۱؎بہتر تو جناب ابوبکر نے کہا کہ آگاہ رہو اگر تم نے یہ کہا ہے تو میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا ہے کہ کسی شخص پر سورج نہیں چمکا جو جناب عمر سے بہتر ہو۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذٰلِكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلٰى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ»رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6046 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو جناب عمر ابن خطاب ہوتے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ:قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6047 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے کسی جہاد میں تشریف لے گئے ۱؎تو جب واپس ہوئے تو ایک سیاہ فام لونڈی آئی بولی یا رسول اللہ میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ آپ کو صحیح سلامت واپس لائے تو آپ کے سامنے دف بجاؤں اور گاؤں۲؎اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تو نے منت مانی ہے تو بجالے ورنہ نہیں ۳؎وہ دف بجانے لگی ابوبکر صدیق آئے وہ بجاتی رہی پھر جناب علی آئے وہ بجاتی رہی پھر جناب عثمان آئے وہ بجاتی رہی۴؎پھر حضرت عمر آئے تو اس نے دف اپنے چوتڑوں کے نیچے رکھ لی پھر اس پر بیٹھ گئی۵؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے عمر شیطان تم سے ڈرتا ہے ۶؎میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بجا رہی تھی پھر ابوبکر آئے وہ بجاتی رہی پھر علی آئے وہ بجاتی رہی پھر عثمان آئے وہ بجاتی رہی ۷؎پھر اے عمر جب تم آئے تو اس نے دف پھینک دی۸؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّه صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنّٰى. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا» فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ» .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6048 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے شور اور بچوں کی آواز سنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوئے تو ایک حبشی بچی ناچ رہی تھی اور بچے اس کے اردگرد تھے ۱؎فرمایا اے عائشہ آؤ دیکھو ۲؎چنانچہ میں آئی تو میں نے اپنے جبڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کندھے پر رکھ دیئے ۳؎میں حضور کے سر اور کندھے کے درمیان سے ادھر دیکھنے لگی مجھ سے فرمایا کیا تم سیر نہیں ہوئیں کیا تم سیر نہیں ہوئیں میں کہنے لگی نہیں تاکہ میں حضور کے نزدیک اپنا مقام دیکھوں ۴؎کہ اچانک حضرت عمر نمودار ہوئے تو لوگ اسے چھوڑ کر بھاگ گئے ۵؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں جن و انس کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر سے بھاگ گئے ۶؎فرماتی ہیں پھرمیں لوٹ آئی(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی غریب بھی۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ. فَقَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تَزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي» فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلٰى مَنْكِبِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلٰى رَأْسِهٖ.فَقَالَ لِي:«أَمَا شَبِعْتِ؟أَمَاشَبِعْتِ؟» فَجَعَلْتُ أَقُولُ:لَا لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَه إِذْ طَلَعَ عُمَرُ فَارْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « إِنِّي لأَنْظُرُ إِلٰى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ» قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6049 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت انس اور ابن عمر سے کہ جناب عمر نے فرمایا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب سے موافقت کی ۱؎میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم مقام ابراہیم کو جاء نماز بنالیتے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ مقام ابراہیم جاء نماز بناؤ ۲؎اور میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ آپ کی بیویوں کے پاس بھلے برے لوگ آجاتے ہیں ۳؎مناسب تھا کہ آپ انہیں حکم دیتے کہ وہ پردہ کرلیتیں تو پردہ کی آیت نازل ہوئی ۴؎اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں غیرت کھا کر جمع ہوئیں ۵؎تو میں نے کہا کہ ممکن ہے کہ اگر وہ تم کو طلاق دے دیں تو ان کا رب انہیں تم سے اچھی بیویاں عطا فرمادے تو آیت بھی اسی طرح اتری ۶؎

عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ:وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: قُلْتُ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى؟ فَنَزَلَتْ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى . وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ يَدْخُلُ عَلٰى نِسَائِكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ يَحْتَجِبْنَ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ عَسٰى رَبُّهٗ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ فَنَزَلَتْ كَذٰلِكَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6050 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

حضرت ابن عمر کی روایت میں ہے کہ جناب عمر نے فرمایا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی مقام ابراہیم میں اور پردہ میں اور بدر کے قیدیوں میں ۱؎(مسلم، بخاری)

وَفِي رِوَايَةٍ لِابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي الْحِجَابِ وَفِي أُسَارٰى بَدْرٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6051 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ عمر ابن خطاب کو چار باتوں میں لوگوں پر بزرگی عطا ہوئی بدر کے دن قیدیوں کے تذکرہ سے آپ نے ان کے قتل کا مشورہ دیا ۱؎تو الله تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ رب کی تحریر پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو تم کو اس لیے ہوئے مال میں بڑا عذاب پہنچتا۲؎اور ان کے پردہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ آپ نے نبی صلی الله علیہ و سلم کی بیویوں کو پردہ کا مشورہ دیا تو ان سے جناب زینب بولیں اے ابن خطاب کیا تم ہم پر حکم چلاتے ہو حالانکہ وحی ہمارے گھروں میں اترتی ہے ۳؎تب رب نے یہ آیت نازل کی کہ جب تم ان سے سامان مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو۴؎اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی دعا سے کہ الٰہی تو عمر کے ذریعہ اسلام کو قوت دے اور ان کی رائے جناب ابوبکر کے متعلق رائے کی وجہ سے آپ نے لوگوں سے پہلے ان سے بیعت کی۵؎(احمد)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: فُضِّلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِأَرْبَعٍ: بِذِكْرِ الْأُسَارٰى يَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُم عَذَابٌ عَظِيمٌ وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَقَالَتْ لَهٗ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللّٰهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» وَبِرَأْيِهٖ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ نَاسٍ بَايَعَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6052 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ یہ شخص میری امت میں جنت کے بڑے درجہ والا ہے ۱؎ابوسعید نے فرمایا الله کی قسم ہم یہ شخص حضرت عمر ابن خطاب ہی کو سمجھے رہے حتی کہ وہ اپنی راہ چلے گئے ۲؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ الرَّجُلُ أَرْفَعُ أُمَّتِي دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ» . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللّٰهِ مَا كُنَّا نُرٰى ذٰلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَتّٰى مَضٰى لِسَبِيلِهٖ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6053 ، باب:حضرت عمر کے فضائل

روایت ہے حضرت اسلم سے ۱؎فرماتے ہیں مجھ سے ابن عمر نے ان کے یعنی حضرت عمر کے بعض حالات پوچھے ۲؎میں نے انہیں خبر دی تو فرمایا کہ جب سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی وفات ہوئی میں نے حضرت عمر سا کوئی زیادہ کوشش والا زیادہ سخی نہیں دیکھا حتی کہ وفات پائی ۳؎(بخاری)

وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ: سَأَلَنِي ابْنُ عُمَرَ بَعْضَ شَأْنِهٖ يَعْنِي عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهٗ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ بَعْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينِ قُبِضَ كَانَ أَجَدَّ وَأَجْوَدَ حَتّٰى انْتَهٰى مِنْ عُمَرَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6054 ، باب:حضرت عمر کے فضائل