باب:حضرت عمر کے فضائل

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے مسور ابن مخرمہ سے۱؎فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو نیزہ مارا گیا۲؎تو آپ غم کرنے لگے ان سے ابن عباس نے تسکین دیتے ہوئے عرض کیا۳؎اےامیرالمؤمنین آپ ان تمام کی پرواہ نہ کریں۴؎آپ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ رہے تو ان کی رفاقت خوب نبھائی پھر وہ آپ سے جدا ہوئے وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ رہے تھے تو ان کی رفاقت خوب نبھائی وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ رہے ان کا ساتھ خوب نبھایا ۵؎اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو اس طرح جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے۶؎آپ نے فرمایا یہ جو تم نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی صحبت پاک کا اور آپ کی خوشنودی کا ذکر کیا یہ الله کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ۷؎لیکن جو تم نے حضرت ابوبکر کی صحبت اور ان کی خوشنودی کا ذکر کیا یہ بھی مجھ پر الله کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا۸؎لیکن میری گھبراہٹ تم دیکھ رہے ہو وہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے ہے ۹؎الله کی قسم اگر میرے پاس زمین بھر کرسونا ہو تو میں عذاب الٰہی سے فدیہ دے دوں اسے دیکھنے سے پہلے۱۰؎(بخاری)

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمةَ قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ فَقَالَ لَهٗ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهٗ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا كُلُّ ذٰلِكَ لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهٗ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهٗ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِينَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ. قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاك مَنٌّ مِنَ اللّٰهِ مَنَّ بِهٖ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذٰلِكَ مَنٌّ مِنَ اللّٰهِ مَنَّ بِهٖ عَلَيَّ . وَأَمَّا مَا تَرٰى مِنْ جَزَعِي فَهُوَ مِنْ أَجْلِكَ وَمِنْ أَجْلِ أَصْحَابِكَ وَاللّٰهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الأَرْضِ ذَهَبًا لَافْتَدَيْتُ بِهٖ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ قَبْلَ أَن أرَاهُ.. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6055 ، باب:حضرت عمر کے فضائل