- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ سارے انسانوں میں مجھ پر بڑا احسان کرنے والے اپنی صحبت اپنی محبت و مال میں ابوبکر ہیں ۱؎اور بخاری کے نزدیک ابابکر ہے اور اگر میں کسی کو دلی دوست بناتا تو میں ابوبکر کو دوست بناتا۲؎لیکن اسلام کا بھائی چارا اور اس کی دوستی ہے ۳؎مسجد میں کوئی کھڑکی نہ رکھی جاوے سواء ابوبکر کی کھڑکی کے۴؎دوسری روایت میں یوں ہے کہ اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر کو دوست بناتا۵؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهٖ وَمَالِهٖ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدَ الْبُخَارِيِّ أَبَا بَكْرٍوَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلٰكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهٗ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6019 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں اور اللہ نے تمہارے صاحب کو دوست بنایا ۱؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنَّهٗ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَدِ اتَّخَذَ اللّٰهُ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6020 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض میں فرمایا کہ میرے پاس اپنے والد ابوبکر کو اور اپنے بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں ۱؎کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے یا کہنے والا کہے کہ میں ۲؎لیکن نہیں اللہ اور مؤمنین ابوبکر کے سوا کو منع کردیں گے۳؎(مسلم)اور کتاب حمیدی میں بجائےانا ولاکےانا اولیٰہے۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتّٰى أَكْتُبَ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنّٰى مُتَمَنٍّ وَيَقُولَ قَائِلٌ: أَنَا وَلَا وَيَأْبَى اللّٰهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ «. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي» كِتَابِ الْحميدِي ": «أَنا أولى» بدل «أَنا وَلَا»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6021 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ سلم کے پاس ایک عورت آئی اس نے کسی چیز کے متعلق حضور سے بات کی۲؎تو اسے حضور نے دوبارہ حاضری کا حکم دیا وہ بولی یارسول اللہ فرمائیے تو اگر میں آؤ ں اور آپ کو نہ پاؤں شاید اس کی مراد موت تھی۳؎فرمایا اگر تومجھے نہ پائے تو ابو بکر کے پاس آجانا۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ؟ كَأَنَّهَا تُرِيدُ الْمَوْتَ. قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ». (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6022 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذات سلاسل کے لشکر پر امیر بنا کر بھیجا ۱؎فرماتے ہیں کہ میں حضورکے پاس آیا میں نے کہا لوگوں میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے فرمایا عائشہ میں نے کہا مردوں میں فرمایا ان کے والد ۲؎میں نے عرض کیا پھر کون فرمایا عمر پھر حضور نے چند حضرات گنائے تو میں چپ ہوگیا اس خوف سے کہ مجھے ان سب کے آخر میں کردیں۳؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهٗ عَلٰى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: فَأَتَيْتُهٗ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ» . قُلْتُ: مِنِ الرِّجَالِ؟قَالَ:«أَبُوهَا».قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «عُمَرُ». فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6023 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت محمد ابن حنفِیہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں کون بہتر ہے ۲؎فرمایا ابوبکر میں نے کہا پھر کون فرمایا عمر،میں ڈرا کہ آپ کہہ دیں گے کہ عثمان تو میں نے کہا پھر آپ نے فرمایا میں تو نہیں مگر مسلمانوں میں سے ایک شخص۳؎(بخاری)
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ:قُلْتُ لِأَبِي: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ. قُلْتُ:ثُمَّ مَنْ؟قَالَ: عُمَرُ. وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ: عُثْمَانُ. قُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ قَالَ: «مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6024 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ابوبکر کے برابر کسی کو نہ سمجھتے تھے پھر عمر کو پھر عثمان کو ۱؎پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو رہنے دیتے ان میں کسی کی بزرگی بیان نہ کرتے ۲؎(بخاری)اور ابوداؤد کی روایت میں ہے فرمایا ہم کہتے تھے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ کے بعد ابوبکر ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ پھر عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین۳؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهٗ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثم عُثْمَانُ رَضِي الله عَنْهُم
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6025 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہم پر کسی کا احسان نہیں مگر ہم نے اس کا بدلہ کردیا ۱؎سوا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کہ ہم پر ان کا احسان ہے کہ اللہ انہیں اس کا بدلہ قیامت کے دن دے گا۲؎مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہ دیا جتنا ابوبکر کے مال نے نفع دیا۳؎اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا۴؎خیال رکھو کہ تمہارے صاحب اللہ کے دوست ہیں ۵؎
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا أَبَابَكْرٍ فَإِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِيهِ اللّٰهُ بِهَا يَومَ الْقِيَامَةِوَمَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا أَلَا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللّٰهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6026 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت عمر سے فرمایا ابوبکر ہمارے سردار ہیں ہم سب سے بہتر ہم سب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیارے ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6027 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے ابوبکر سے فرمایا کہ تم میرے غار میں ساتھی ہو ۱؎اور حوض پر میرے ساتھی۲؎(ترمذی)
وَعَن ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:« أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ وَصَاحِبِي عَلَى الْحَوْضِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6028 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس قوم میں ابوبکر ہوں انہیں یہ لائق نہیں کہ ان کی امامت ابوبکر کے سوا کوئی اور کرے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۲؎
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهٗ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6029 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا ۱؎اتفاقًا اس وقت میرے پاس مال بہت تھا تو میں نے سوچا کہ اگر میں کسی دن ابوبکر سے بڑھ سکا تو آج بڑھ جاؤں گا۲؎فرماتے ہیں کہ میں اپنا آدھا مال لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے بال بچوں کے لیے کیا چھوڑا میں نے کہا کہ اتنا ہی اور ابوبکر سارا وہ مال لے آئے جو ان کے پاس تھا۳؎فرمایا اے ابوبکر تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا رکھا عرض کیا کہ میں نے انکے لیے اللہ رسول کو رکھا میں نے سوچا کہ میں کسی چیز کی طرف ان سے آگے نہ بڑھ سکوں گا۴؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَن عُمَرَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ وَوَافَقَ ذٰلِكَ عِنْدِي مَالًا فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهٗ يَوْمًا. قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي.فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟» فَقُلْتُ: مِثْلَهٗ. وَأَتٰى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهٗ. فَقَالَ: « يَا أَبَا بَكْرٍ؟مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟ ».فَقَالَ:أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ. قُلْتُ:لَا أَسْبِقُهٗ اِلٰى شَيْءٍ أَبَدًا.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6030 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو فرمایا کہ تم آگ سے اللہ کی طرف سے آزاد شدہ ہو ۱؎اس دن سے آپ کا نام عتیق رکھا گیا۲؎(ترمذی)
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَنْتَ عَتِيقُ اللّٰهِ مِنَ النَّارِ» . فَيَوْمئِذٍ سُمِّيَ عَتيقًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6031 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس سے زمین کھولی جاوے گی پھر ابوبکر پھر عمر ۱؎پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ جمع کیے جائیں گے پھر میں مکہ والوں کا انتظار کروں گا ۲؎حتی کہ ہم دونوں حرموں کے درمیان حشر کیے جائیں گے۳؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ تُنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتّٰى أُحْشَرَبَين الْحَرَمَيْنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6032 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس جناب جبریل آئے میرا ہاتھ پکڑا پھر مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہوگی ۱؎جناب ابوبکر نے کہا یارسول اللہ میری آرزو ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا۲؎حتی کہ اسے دیکھتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر تم وہ شخص ہو جو میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں جائے گا۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي يَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتّٰى أَنْظُرَ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6033 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
روایت ہے حضرت عمر سے کہ ان کے پاس حضرت ابوبکر کا ذکر کیا گیا تو آپ روئے اور بولے کہ میری آرزو یہ ہے کہ میرے سارے عمل حضرت ابوبکر کے ایک دن کے اور ایک رات کے عمل کی طرح ہوتے ۱؎آپ کی رات وہ رات ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار کی طرف پہنچے تو جب وہ دونوں اس غار تک پہنچے عرض کیا واللہ آپ اس میں داخل نہ ہوں حتی کہ آپ سے پہلے میں داخل ہوجاؤں اگر اس میں کوئی چیز ہوتو مجھے پہنچے نہ کہ آپ کو تو آپ داخل ہوئے اسے صاف کیا ۲؎اور اس کے ایک کنارہ میں سوراخ پایا آپ نے تہبند پھاڑا اس سے سوراخ بندکیا ان میں سے دو سوراخ رہ گئے ان میں اپنے پاؤں دیدیئے ۳؎پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ تشریف لائیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا سر آپ کی گود میں رکھا اور سو گئے ۴؎ابوبکر کے پاؤں میں سوراخ سے ڈس لیا گیا ۵؎آپ نے بالکل جنبش نہ کی اس ڈر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ پڑیں۶؎پھر آپ کے آنسو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر گرے۷؎تو فرمایا اے ابوبکر کیا ہوا عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ فدا میں تو ڈس لیا گیا تب رسول اللہ نے اپنا لعاب لگادیا تو وہ تکلیف جاتی رہی۸؎جو وہ پاتے تھے پھر وہ زہر لوٹ آیا اور آپ کی وفات کا سبب بنا ۹؎لیکن آپ کا دن تو جب رسول اللہ نے وفات پائی اہلِ عرب مرتد ہوگئے اور بولے کہ ہم زکوۃ نہ دیں گے۱۰؎تو فرمایا کہ اگر مجھے ایک رسی کا انکار کریں گے تو میں ان پر جہاد کروں گا
۱۱؎میں نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ کے خلیفہ لوگوں پر موافقت کریں اور ان پر نرمی کیجئے ۱۲؎تو مجھ سے فرمایا کہ تم جاہلیت میں سخت تھے۱۳؎اور اسلام میں نرم،وحی بند ہوچکی اور دین مکمل ہوچکا کیا دین میں کمی کی جاوے گی حالانکہ میں زندہ ہوں۱۴؎(رزین)۱۵؎
عَنْ عُمَرَ ذُكِرَ عِنْدَهٗ أَبُو بَكْرٍ فَبَكٰى وَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عَمَلِي كُلَّهٗ مِثْلُ عَمَلِهٖ يَوْمًا وَاحِدًا مِنْ أَيَّامِهٖ وَلَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ أَمَّا لَيْلَتُهٗ فَلَيْلَةٌ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَارِ، فَلَمَّا انْتهَيَا إِلَيْهِ قَالَ: وَاللّٰهِ لَا تَدْخُلُهٗ حَتّٰى أَدْخُلَ قَبْلَكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ أَصَابَنِي دُونَكَ فَدَخَلَ فَكَسَحَهٗ وَوَجَدَ فِي جَانِبِهٖ ثُقْبًا فَشَقَّ إزَارَهٗ وَسَدَّهَابِهٖ وَبَقِي مِنْهَا اثْنَانِ فَأَلْقَمَهُمَا رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْخُلْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَضَعَ رَأْسَهٗ فِي حَجْرِهٖوَنَامَ فَلُدِغَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِجْلِهٖ مِنَ الْجُحْرِ وَلَمْ يَتَحَرَّكْ مَخَافَةَ أَنْ يَنْتَبِهَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَطَتْ دُمُوعُهٗ عَلٰى وَجْهِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَاأَبَابَكْرٍ؟» قَالَ: لُدِغْتُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي فَتَفِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهٗ ثُمَّ انْتَقَضَ عَلَيْهِ وَكَانَ سَبَبَ مَوْتِهٖ وَأَمَّا يَوْمُهٗ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَقَالُوا: لَا نُؤَدِّي زَكَاةً. فَقَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّفِ النَّاسَ وَارْفُقْ بِهِمْ. فَقَالَ لِي: أَجَبَّارٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَخَوَّارٌ فِي الْإِسْلَامِ؟ إِنَّهٗ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنا حَيٌّ؟ . رَوَاهُ رَزِينٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6034 ، باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل