باب : توکل اور صبر کا بیان

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب جنت میں جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو منتر جنتر نہیں کرتے ۱؎فال کے لیے چڑیاں نہیں اوڑاتے ۲؎اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۳؎( مسلم، بخاری)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5295 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں ایک دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم تشریف لائے تو فرمایا کہ مجھ پر امتیں پیش کی گئیں ۱؎تو نبی گزرنے لگے جن کے ساتھ صرف ایک شخص تھا کوئی نبی کہ ان کے ساتھ دو شخص تھے اور کوئی نبی کہ ان کے ساتھ جماعت تھی اور کوئی نبی کہ ان کے ساتھ ایک بھی نہ تھا۲؎پھر میں نے بڑی جماعت دیکھی جس نے کنارہ آسمان گھیر رکھے تھے میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہو ۳؎تو مجھ سے فرمایا گیا کہ یہ موسیٰ ہی کی اپنی قوم ہے ۴؎پھر مجھ سے فرمایا کہ دیکھئے میں نے بہت بڑی خلقت دیکھی جس نے کنارہ آسمان گھیرے ہوئے تھا پھر مجھ سے کہا گیا ادھر اور ادھر دیکھئے میں نے بہت بڑی خلقت دیکھی جس نے کنارے گھیرے ہوئے تھے ۵؎کہا گیا یہ ہے آپ کی امت اور ان کے ساتھ ان کے آگے ستر ہزار وہ ہیں جو بلا حساب جنت میں جائیں گے ۶؎وہ وہ ہیں جو نہ تو پرندے اڑاتے ہیں،نہ منتر جنتر کرتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۷؎حضرت عکاشہ ابن محصن کھڑے ہوگئے ۸؎بولے حضور اسے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کرے، فرما یا الٰہی انہیں ان میں سے کردے ۹؎پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا بولا دعا کیجئے کہ الله مجھے ان میں سے کرے،فرمایا اس دعا میں تم پر عکاشہ سبقت لے گئے ۱۰؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَوْمًا فَقَالَ: عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ، فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ، فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي، فَقِيلَ: هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفُقَ، فَقِيلَ لِي: انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا، فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الأُفق، فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ، وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ،فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ "اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ"، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: "سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5296 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت صہیب سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے تعجب ہے مرد مسلمان پر کہ اس کے سارے کام خیر ہیں ۲؎یہ بات کسی کو حاصل نہیں ہوتی سواء مرد مؤمن کے کہ اگر اسے راحت پہنچے تو شکر کرے تو اس کے لیے راحت خیر ہو اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرے تو صبر اس کے لیے بہتر ہے ۳؎(مسلم)

وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِمُؤْمِنٍ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5297 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ قوی مسلمان کمزور مسلمان سے اچھا ہے اور الله کو پیارا ہے ۱؎بھلائی سب میں ہے ۲؎اس پر حرص کرو جو تمہیں نفع دے اور اسے مدد مانگو عاجز نہ ہو۳؎اور اگر تمہیں کچھ تکلیف پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں وہ کام کرلیتا تو ایسا ہوجاتا ۴؎لیکن کہو کہ الله نے یہ ہی مقدر کیا تھا جو اس نے چاہا کیا کیونکہ ا گر مگر شیطان کام کھولتا ہے۵؎( مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ،احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5298 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اگر الله پر جیسا چاہیے ویسا توکل کرو ۱؎تو تم کو ایسے رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر لوٹتے ہیں ۲؎( ترمذی،ابن ماجہ)

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ،تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5299 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اے لوگو نہیں ہے کوئی وہ چیز جو تم کو جنت سے نزدیک اور دوزخ سے دور کردے مگر میں نے تم کو اس کا حکم دے دیا اور نہیں ہے کوئی وہ چیز جو تمہیں آگ سے نزدیک اور جنت سے دور کردے مگر میں نے تمہیں اس سے منع کردیا ۱؎اور روح الامین نے،ایک روایت میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں ڈالا۲؎کہ کوئی جان نہ مرے گی حتی کہ اپنا رزق پورا کرے ۳؎خیال رکھو کہ الله سے ڈرو تلاش رزق میں درمیانی راہ اختیار کرو۴؎اور رزق میں دیر لگنا تم کو اس پر نہ اکسائے کہ تم اکی نافرمانی سے رزق ڈھونڈو ۵؎کیونکہ الله کے پاس کی چیزیں اس کی فرماں برداری سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں ۶؎( شرح سنہ،بیہقی شعب الایمان) مگر بیہقی نے یہ عبارت روایت نہ کیانّ روح القدس۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يُقَرِّبُكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَيْسَ شَيْءٌ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ، وَإِنَّ الرُّوحَ الأَمِينَ -وَفِي روايةٍ: وَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ- نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا،أَلَا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوهُ بِمَعَاصِي اللَّهِ؛ فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللَّهِ إِلَّا بِطَاعَتِهِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ"إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: "وَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5300 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ دنیا میں زہد و تقویٰ نہ تو حلال کو حرام کرلینے سے ہے ۱؎اور نہ مال برباد کرنے سے ۲؎لیکن دنیا میں زہد یہ ہے کہ اپنے قبضہ کی چیز پر اس سے زیادہ بھروسہ نہ کر جو الله کے قبضہ میں ہے ۳؎اور جب تو مصیبت میں گرفتار ہو تو مصیبت کے ثواب میں زیادہ راغب ہو اگر وہ تجھ پر باقی رکھی جاوے ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب اور عمرو ابن واقد راوی منکر الحدیث ہے۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ، وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ بِمَا فِي يَد اللَّهِ، وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الرَّاوِي مُنْكَرُ الحَدِيثِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5301 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پیچھے تھا ۱؎تو فرمایا اے لڑکے حقوق الٰہی کی حفاظت کرو اتمہاری حفاظت کرے گا ۲؎تو اسے اپنے سامنے پائے گا ۳؎اور جب مانگو تو الله سے مانگو جب مدد مانگو تو اسے مانگو ۴؎اور یقین رکھو کہ اگرپوری امت اس پر متفق ہوجاوے کہ تم کو نفع پہنچائے تو وہ تم کو کچھ نفع نہیں پہنچاسکتی مگر اس چیز کا جو الله نے تمہارے لیے لکھ دی ۵؎اور اگر اس پر متفق ہو جاویں کہ تمہیں کچھ نقصان پہنچادیں تو ہر گز نقصان نہیں پہنچاسکتے مگر اس چیز سے جو انے لکھی ۶؎قلم اٹھ چکے دفتر خشک ہوچکے ۷؎(احمد،ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَوْمًا فَقَالَ: "يَا غُلَامُ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تجِدْهُ تُجَاهَكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5302 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ انسان کی نیک بختی سے ہے اس کا الله کے فیصلہ سے راضی ہونا ۱؎اور انسان کی بدبختی اس کا الله سے خیر مانگنا چھوڑ دینا ہے ۲؎انسان کی بدبختی سے ہے کہ اس کا اپنے متعلق الله کے فیصلہ سے ناراض ہونا ہے ۳؎(احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ،وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5303 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا ۱؎تو جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم واپس ہوئے تو وہ بھی حضور کے ساتھ واپس ہوئے ایک بہت خار دار درختوں والے جنگل میں انہیں دوپہری آئی ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم اترے اور لوگ درختوں سے سایہ لینے کے لیے الگ الگ ہوگئے رسول الله صلی الله علیہ و سلم بھی ایک خار دار درخت کے نیچے اترے اس سے اپنی تلوار لٹکادی ہم کچھ سوئے تھے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہم کو پکارنے لگے۳؎آپ کے پاس ایک دیہاتی تھا تو فرمایا کہ اس شخص نے مجھ پر میری تلوارسونت لی میں سورہا تھا میں جاگا تو تلوار اس کے ہاتھ میں پڑی تھی۴؎بولا مجھ سے آپ کو کون بچائے گا تو میں نے تین بار کہا الله ۵؎حضور نے اس سے بدلہ نہ لیا وہ بیٹھ گیا ۶؎(مسلم،بخاری)

عَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- تَحْتَ سَمُرَةٍ، فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، وَنِمْنَا نَوْمَةً، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَدْعُونَا وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: "إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا"، قَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: "اللَّهُ" ثَلَاثًا، وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجَلَسَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5304 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

ابوبکر اسماعیل کی صحیح روایت میں یوں ہے کہ وہ بولا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا میں نے کہا الله تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی ۱؎تو تلوار رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے لے لی پھر فرمایا تجھے مجھ سے کون بچائے گا وہ بولا آپ بہترین پکڑ فرمانے والے ہو ۲؎فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور میںکا رسول ہوں وہ بولا نہیں لیکن میں آپ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ نہ آپ سے جنگ کروں گا اور نہ آپ سے لڑنے والی قوم کے ساتھ رہوں گا ۳؎تو حضور نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ۴؎وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا بولا میں تمہارے لوگوں میں سب سے بہترین کے پاس سے آرہا ہوں ۵؎کتاب حمیدی اور ریاض میں یوں ہی ہے۔

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ الإِسْمَاعِيلِيِّ فِي "صَحِيحِهِ": فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: "اللَّهُ"، فَسَقَطَ السيفُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- السَّيْفَ فَقَالَ: "مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ، فَقَالَ: "تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ"؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ،فَأَتَى أَصْحَابَهُ فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. هَكَذَا فِي "كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ" وَفِي "الرِّيَاضِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5305 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوذر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اسے اختیار کرلیں تو وہ انہیں کافی ہو ۱؎کہ جو الله سے ڈرے گا ۲؎تو الله اس کے لیے چھٹکارا بنادے گا اور بے گمان جگہ سے اسے روزی دے گا ۳؎(احمد،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنِّي لأَعْلَمُ آيَةً لَوْ أَخَذَ النَّاسُ بِهَا لَكَفَتْهُمْ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْن مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5306 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھائی میں ہوں روزی رساں بڑی قوت والا ۱؎(ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: (إني أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ الْمَتِينُ). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5307 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں دو بھائی تھے ۱؎جن میں سے ایک نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آتا تھا ۲؎اور دوسرا کوئی پیشہ کرتا تھا ۳؎تو کماؤ پیشہ والے نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی ۴؎تو فرمایا شاید تجھے اس کی برکت سے روزی مل رہی ہے ۵؎(ترمذی اور فرمایا یہ حدیث صحیح غریب ہے)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَالآخَرُ يَحْتَرِفُ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم-،فَقَالَ: "لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5308 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ انسانی دل کی ہر جنگل میں ایک شاخ ہے ۱؎تو جو اپنے دل کو ان تمام شاخوں کے پیچھے ڈال دے ۲؎الله پرواہ نہیں کرے گا کہ کسی جنگل میں اسے ہلاک کردے ۳؎اور جو اپر بھروسہ کرے الله اسے گھاٹیوں سے بچائے گا ۴؎(ابن ماجہ)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ قَلْبَ ابْنِ آدَمَ بِكُلِّ وَادٍ شُعْبَةٌ، فَمَنْ أَتْبَعَ قَلْبَهُ الشُّعَبَ كُلَّهَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ بِأَيِّ وَادٍ أَهْلَكَهُ، وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ كَفَاهُ الشُّعَبُ". رَوَاهُ ابْن مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5309 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہیں عظمت و جلالت والا رب فرماتا ہے کہ اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں رات میں ان پر بارش برسایا کروں ۱؎اور دن میں دھوپ نکالا کروں ۲؎اور انہیں گرج کی آواز بھی نہ سناؤں ۳؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْ أَنَّ عَبِيدِي أَطَاعُونِي لأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ، وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ، وَلَمْ أُسْمِعْهُمْ صَوْتَ الرَّعدِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5310 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنے گھر والوں کے پاس گیا ۱؎جب ان کی محتاجی دیکھی تو جنگل کی طرف نکل گیا ۲؎جب اس کی بیوی نے یہ دیکھا تو وہ چکی کی طرف اٹھی اسے رکھا ۳؎اور تنور کی طرف گئی اسے جھونک دیا ۴؎پھر بولی الٰہی ہمیں روزی دے ۵؎تو پیالہ بھر گیا ۶؎روای کہتے ہیں کہ وہ عورت تنور کی طرف گئی تو اسے بھرا ہوا پایا ۷؎فرماتے ہیں کہ پھر خاوند لوٹا بولا کیا تم نے میرے پیچھے کچھ پایا ۸؎اس کی بیوی نے کہا کہ ہاں اپنے رب کی طرف سے اور وہ شخص چکی کی طرف اٹھا ۹؎یہ واقعہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا گیا ۱۰؎تو فرمایا کہ یقینًا اگر وہ شخص اسے نہ اٹھاتا تو چکی قیامت تک گھومتی رہتی ۱۱؎(احمد)

وَعَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إلَى الْبَرِيَّةِ،فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَوَضَعَتْهَا وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: اللهُمَّ ارْزُقْنَا، فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلأَتْ، قَالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا، قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ، قَالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتِ امْرَأَتَهُ: نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا، وَقَامَ إِلَى الرَّحَى، فَذُكِرَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ: "أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5311 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ روزی بندے کو ایسی ڈھونڈھتی ہے جیسے اسے اس کی موت ڈھونڈتی ہے ۱؎(ابونعیم حلیہ)

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ الرِّزْقَ لَيَطْلُبُ الْعَبْدَ كَمَا يَطْلُبُهُ أَجَلُهُ". رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي "الْحِلْية".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5312 ، باب : توکل اور صبر کا بیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں گویا میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھ رہا ہوں ۱؎کہ آپ نبیوں میں سے ایک نبی کی حکایت فرمارہے ہیں جنہیں ان کی قوم نے مارا ۲؎تو انہیں خونا خون کردیا وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے تھے۳؎اورکہتے تھے الٰہی میری قوم کو بخش دے کہ یہ جانتے نہیں ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5313 ، باب : توکل اور صبر کا بیان