- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- لباس کا بیان
- باب:کنگھی کرنے کا بیان
باب:کنگھی کرنے کا بیان
لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت کعب ابن مرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا ۱؎(ترمذی،نسائی)
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهٗ نُورًا يَوْمَالْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4459 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کیا کرتے تھے ۱؎اور آپ کے بال شریف جمہ سے زیادہ اور وفرہ سے کم تھے۲؎(ترمذی،نسائی)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ لَهٗ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الوَفْرَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4460 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے ابن حنظلیہ سے ۱؎جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب ہیں فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ خریم اسدی۲؎اچھے آدمی ہیں اگر ان کے جمہ کی درازی اور ان کے تہبند کا گھسٹنا نہ ہوتا۳؎یہ خبر جناب خریم کو پہنچی تو انہوں نے چھری لی تو اس سے اپنے گیسو اپنے کانوں تک کاٹ دیئے اور اپنا تہبند اپنی آدھی پنڈلیوں تک اونچا کرلیا۴؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسْدِيُّ لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهٖ وَإِسْبَالُ إِزَارِهٖ» فَبَلَغَ ذٰلِكَ خُرَيْمًا فَأَخَذَ شَفْرَةً فَقَطَعَ بِهَا جُمَّتَهٗ إِلٰى أُذُنيْهِ وَرَفَعَ إِزارَهٗ إِلٰى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4461 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میرے گیسو تھے میری والدہ نے فرمایا کہ میں انہیں نہ کاٹوں گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھینچتے اور انہیں پکڑتے تھے ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتْ لِي ذُؤَابَةٌ فَقَالَتْ لِي أُمِّي: لَا أَجُزُّهَا كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُدُّهَا وَيَأْخُذُهَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4462 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن جعفر سے ۱∞؎کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی۲؎پھر ان کے پاس تشریف لائے فرمایا آج کے بعد میرے بھائی پر نہ رونا۳؎پھر فرمایا کہ میرے بھتیجوں کو میرے پاس بلاؤ۴؎چنانچہ ہم کو لایا گیا گویا کہ ہم چوزے تھے تو فرمایا کہ نائی کو میرے پاس بلاؤ اسے حکم دیا اس نے ہمارے سر مونڈ دیئے ۵؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ: «لَا تَبْكُوا عَلٰى أَخِي بَعْدِ الْيَوْمِ» . ثُمَّ قَالَ: «اُدْعُوا لِي بَنِي أَخِي» . فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ فَقَالَ: «اُدْعُوا لِيَ الْحَلَّاقَ» فَأَمَرَهٗ فَحَلَقَ رُؤُوسَنَارَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4463 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ام عطیہ انصاریہ سے ۱∞؎کہ ایک عورت مدینہ میں ختنہ کرتی تھی ۲؎اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ مبالغہ کرو کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ نافع ہے اور خاوندکو زیادہ پسند ۳؎(ابوداؤد)اور فرمایا یہ حدیث ضعیف ہے اور اس کا راوی مجہول ہے۔
وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَخْتِنُ بِالْمَدِينَةِ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْهِكِي فَإِنَّ ذٰلِكَ أَحْظٰى لِلْمَرْأَةِ وَأَحَبُّ إِلَى البَعْلِ» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ: هٰذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ وَرَاوِيْهُ مَجْهُولٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4464 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے کریمہ بنت ہمام سے ۱∞؎کہ ایک عورت نے جناب عائشہ سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا ۲؎آپ بولیں کوئی حرج نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں۳؎میرے محبوب اس کی مہک ناپسند کرتے تھے ۴؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ هَمَّامٍ: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ فَقَالَتْ: لَا بَأْسَ وَلٰكِنِّي أَكْرَهُهٗ كَانَ حَبِيبِي يَكْرَهٗ رِيحَهُ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4465 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کیا ۱∞؎یارسول اللہ مجھے بیعت فرمالیجئے ۲؎تو فرمایا ہم تم کو بیعت نہ کریں گے حتی کہ تم اپنے ہاتھوں میں تبدیلی کرلو یہ ہاتھ تو گویا درندے کے ہاتھ ہیں ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَأَنَّ هِنْدًا بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ بَايِعْنِي فَقَالَ: «لَا أُبَايِعُكِ حَتّٰى تُغَيِّرِيْ كَفَّيْكِ فَكَأَنَّهُمَا كَفَّا سَبُعٍ» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4466 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے جس کے ہاتھ میں کوئی تحریر تھی پردے کے پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ روک لیا ۱∞؎فرمایا میں نہیں جانتا کہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا ہاتھ ہے وہ بولی بلکہ عورت کا ہاتھ ہے ۲؎فرمایا اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ناخن میں تبدیلی کر لیتی یعنی مہندی سے۳؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْهَا قَالَتْ: أَوَمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهٗ فَقَالَ: َا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ؟ قَالَتْ:بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ قَالَ: َوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ يَعْنِي الْحِنَّاء. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4467 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ بال ملانے والی اور ملوانے والی اور بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی گودنے والی اور گودوانے والی پر لعنت کی گئی ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ قَالَ:لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوشِمَةُ مِنْ غَيْرِ داءٍ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4468 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد پر لعنت کی جو عورتوں کا سا لباس پہنے اور اس عورت پر جو مرد کا سا لباس پہنے ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4469 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابن ابی ملیکہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ سے کہا گیا کہ ایک عورت نعلین پہنتی ہے۲؎آپ بولیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد بننے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ: إِنَّ امْرَأَةً تَلْبَسُ النَّعْلَ قَالَتْ: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَةَ مِنَ النِّسَاءِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4470 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفرکرتے تو آپ کے گھر والوں میں جس شخص سے آپ کی آخری ملاقات ہوتی وہ فاطمہ تھیں اور پہلے جن کے پاس تشریف لاتے فاطمہ ہوتیں ۲؎چنانچہ آپ ایک غزوہ سے تشریف لائے آپ نے اپنے دروازے پر ٹاٹ یا پردہ ڈالا ہوا تھا اور حضرت حسن وحسین کو چاندی کے دو کنگن پہنائے ہوئے تھے ۳؎تو آپ تشریف لائے مگر اندر نہ آئے ۴؎آپ سمجھ گئیں کہ حضور کو تشریف آوری سے اس نے روکا جو آپ نے دیکھا ۵؎چنانچہ انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور دونوں کنگن بچوں سے الگ کردیئے اور دونوں سے کاٹ دیئے ۶؎پس دونوں بچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روتے ہوئے چلے ۷؎حضور نے ان دونوں سے وہ لے لیے پھر فرمایا اے ثوبان اسے فلاں کے پاس لے جاؤ ۸؎یہ لوگ میرے گھر والے ہی ہیں میں یہ ناپسند کرتا ہوں کہ یہ اپنی طیب چیزیں اپنی دنیاوی زندگی میں کھالیں ۹؎اے ثوبان فاطمہ کے لیے عصب کا ہار ۱۰؎اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لاؤ ۱۱∞؎(احمد، ابوداؤد)
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ عَهْدِهٖ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهٖ فَاطِمَةَ وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا فَاطِمَةَ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ وَقَدْ عَلَّقَتْ مَسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلٰى بَابِهَا وَحَلَّتِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ فَظَنَّتْ أَنَّ مَا مَنَعَهٗ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأٰى فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَفَكَّتِ الْقُلْبَيْنِ عَنْ الصَّبِيَّيْنِ وَقَطَعَتْهُ مِنْهُمَا فَانْطَلَقَا إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِيَانِ فَأَخَذَهٗ مِنْهُمَا فَقَالَ: «يَا ثَوْبَانُ اذْهَبْ بِهٰذَا إِلٰى فُلَانٍ إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي أَكْرَهٗ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا.يَا ثَوْبَانُ اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصْبٍ وَ سُوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4471 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اثمد سرما لگایا کرو ۱∞؎کہ وہ نگاہ میں جلا دیتا ہے اور بال اگاتا ہے۲؎انہوں نے گمان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سرمہ دانی تھی جس میں سے ہر رات سرمہ لگاتے تھے تین سلائیاں اس آنکھ میں اور تین اس میں ۳؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اكْتَحِلُوا بِالْإِثْمِدِ فَإِنَّهٗ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ» . وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهٗ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا كُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَةً فِي هٰذِهٖ وَثَلَاثَةً فِي هٰذِه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4472 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے اثمد سرمہ لگاتے تھے ہر آنکھ میں تین سلائیاں ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضور فرماتے تھے کہ بہترین دوا جو تم کرو وہ لیپ ہے ۲؎اور نسوار۳؎اور پچھنے اور جلاب ۴؎اور بہترین وہ سرمہ جو تم لگاؤ اثمد ہے کہ وہ نگاہ میں جلا دیتا ہے اور بال اگاتا ہے ۵؎اور بہترین دن جس میں تم فصد لو سترہ تاریخ ہے اور انیس تاریخ اور اکیسواں دن ۶؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معراج کرائی گئی تو آپ فرشتوں کی کسی جماعت پر نہ گزرے مگر انہوں نے یہ ہی عرض کیا کہ فصد اختیارکرو ۷؎(ترمذی)اور فرمایا حدیث حسن غریب ہے۔
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْتَحِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ بِالْإِثْمِدِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ قَالَ: وَقَالَ: «إِنَّ خَيْرَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهٖ اللَّدُودُ وَالسَّعُوطُ وَالْحِجَامَةُ وَالْمَشِيُّ وَخَيْرَ مَا اكْتَحَلْتُمْ بِهِ الْإِثْمِدُ فَإِنَّهٗ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ وَإِنَّ خَيْرَ مَا تَحْتَجِمُونَ فِيهِ سَبْعَ عَشْرَةَ وَ يَوْمَ تِسْعَ عَشْرَةَ وَيَوْمَ إِحْدٰى وَعِشْرِينَ»وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ عُرِجَ بِهٖ مَا مَرَّ عَلٰى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا:عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4473 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے منع فرمایا ۱∞؎پھر مردوں کو اجازت دی کہ وہ تہبند کے ساتھ وہاں جائیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنْ دُخُولِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوا بِالْمَيَازِرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4474 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوالملیح سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے پاس حمص کی کچھ عورتیں آئیں ۲؎آپ نے کہا تم کہاں کی ہو وہ بولیں شام کی آپ نے فرمایا شاید تم اس جہاں کی عورتیں ہو جو حماموں میں جاتی ہیں وہ بولیں ہاں ۳؎آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ اپنے کپڑے نہیں اتارتی مگر وہ اپنے اور رب تعالٰی کے درمیان پردہ پھاڑ دیتی ہے۴؎اور ایک روایت میں ہے کہ اپنے گھر کے علاوہ میں مگر وہ اپنا پردہ اپنے اور اللہ عزوجل کے درمیان پھاڑ دیتی ہے ۵؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ: قَدِمَ عَلٰى عَائِشَةَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ فَقَالَتْ: مِنْ أَيْنَ أَنْتُنَّ؟ قُلْنَ: مِنَ الشَّامِ فَلَعَلَّكُنَّ مِنَ الْكُورَةِ الَّتِي تَدْخُلُ نِسَاؤُهَا الْحَمَّامَاتِ؟ قُلْنَ: بَلٰى قَالَتْ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَخْلَعُ امْرَأَةٌ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا هَتَكَتِ السِّتْرَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِلَّا هَتَكَتْ سِتْرَهَابَيْنَهَا وَبَيْنَ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4475 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تمہارے لیے عجم کی زمین فتح کی جاوے گی ۱∞؎اور تم اس میں ایسے گھر پاؤ گے جنہیں حمامات کہا جاوے گا تو اس میں مرد نہ جائیں مگر تہبندوں کے ساتھ اور وہاں سے عورتوں کو منع کرو سواء بیمار کے یا نفاس والی کے ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْعَجَمِ وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا: الْحَمَّامَاتُ فَلَا يَدْخُلَنَّهَا الرِّجَالُ إِلَّا بِالْأُزُرِ وَامْنَعُوهَا النِّسَاءَ إِلَّا مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4476 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اللہ تعالٰی اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو ۱∞؎تو بغیر تہبند حماموں میں نہ جائے ۲؎اور جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی بیوی کو حمام میں نہ جانے دے۳؎اور جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو تو ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چل رہا ہو۴؎(ترمذی،نسائی)
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ بِغَيْر إِزارٍ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الحَمَّامَ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَجْلِسُ عَلٰى مَائِدَةٍ تُدَارُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيٌّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4477 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ثابت سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت انس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ اگر میں چاہتا کہ وہ سفید بال گنوں جو آپ کے سر میں تھے تو کرلیتا ۲؎فرمایا اور خضاب نہ کیا،ایک روایت میں یہ زیادہ ہے کہ حضرت ابوبکر نے مہندی اور وسمہ سے خضاب کیا۳؎اور حضرت عمر نے خالص مہندی سے خضاب کیا۔ (مسلم،بخاری)
عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَوْ شِئْتَ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأْسِهٖ فَعَلْتُ قَالَ: وَلَمْ يَخْتَضِبْ زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَقَدِ اخْتَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَاخْتَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ بَحْتًا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4478 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان