- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- لباس کا بیان
- باب:کنگھی کرنے کا بیان
باب:کنگھی کرنے کا بیان
لباس کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ اپنی ڈاڑھی زردی سے پیلی کرتے تھے حتی کہ آپ کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے ۱∞؎ان سے کہا گیا کہ آپ زرد خضاب کیوں کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ کو اسی سے خضاب کرتے دیکھا ۲؎اور کوئی چیز آپ کو اس سے پیاری نہ تھی اور اس سے اپنے کپڑے سارے رنگ لیا کرتے تھے حتی کہ اپنے عمامہ کوبھی ۳؎(ابو داؤد،نسائی)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ كَانَ يُصَفِّرُلِحْيَتَهٗ بِالصُّفْرَةِ حَتّٰى یَمْتَلِئَ ثِيَابُهٗ مِنَ الصُّفْرَةِ فَقِيلَ لَهٗ: لِمَ تَصْبِغُ بِالصُّفْرَةِ؟ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهَا وَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهٗ كُلَّهَا حَتّٰى عِمَامَتَهٗ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4479 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عثمان ابن عبداللہ ابن موہب سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں جناب ام سلمہ کے خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے ہمارے سامنے حضور کے بالوں میں سے ایک بال نکالا خضاب کیا ہوا ۲؎( بخاری)
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4480 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مخنث لایا گیا ۱∞؎جس نے اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے۲؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا کیا حال ہے لوگوں نے عرض کیا کہ عورتوں کی شکل بناتا ہے تو حکم دیا اسے نقیع کیطرف نکال دیا گیا۳؎عرض کیا گیا یارسول اللہ کیا ہم اسے قتل نہ کریں فرمایا مجھے نمازیوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُاللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هٰذَا؟» قَالُوا: يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ فَأَمَرَ بِهٖ فَنُفِيَ إِلَى النَّقِيعِ. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلَا تَقْتُلُهٗ؟ فَقَالَ: «إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4481 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ولید ابن عقبہ سے ۱ ∞؎فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے حضور کے پاس اپنے بچے لانے لگے حضور ان کے لیے دعاء برکت فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ۲؎مجھے آپ کے پاس لایا گیا میں خلوق والا تھا تو خلوق کی وجہ سے مجھے مس نہ فرمایا۳؎(ابوداؤد)
وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبةَ قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهٗ بِصِبْيَانِهِمْ، فَيَدْعُو لَهُم بِالْبَرَكَةِ، وَيَمْسَحُ رُؤُوسَهُمْ فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَأَنَا مُخَلَّقٌ فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجَلِ الْخَلُوقِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4482 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے بال جمہ ہیں ۱∞؎تو کیا میں ان میں کنگھی کروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور ان کی خدمت کرو ۲؎فرماتے ہیں کہ ابوقتادہ بہت دفعہ ان میں ایک دن میں دوبار تیل لگاتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ ہاں اور انکی خدمت کرو۳؎(مالک)
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهٗ قَالَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ وَأَكْرِمْهَا» قَالَ: فَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَّنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ مِنْ أَجْلِ قَوْلُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « نَعَمْ وَأَكْرِمْهَا » . رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4483 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت حجاج ابن حسان سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم انس ابن مالک کے پاس گئے تو مجھے میری بہن مغیرہ نے بتایا بولیں کہ تم اس دن بچے تھے۲؎اور تمہارے دو گیسو یا پیشانی پر دو جوڑے تھے۳؎تو تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اورتمہیں دعائے برکت دی اور فرمایا کہ ان دونوں کو مونڈوا دیا اور کتروادیا کرو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے ۴؎( ابوداؤد)
وَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ دَخَلْنَا عَلٰى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ قَالَتْ: وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ وَقَالَ: «احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هٰذَا زِيُّ الْيَهُودِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4484 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ عورت اپنا سر منڈائے ۱∞؎(نسائی)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4485 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے تو ایک شخص سر اور ڈاڑھی بکھیرے آیا ۲؎تو اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا گویا آپ اسے اپنے بال اپنی ڈاڑھی کی درستی کا حکم دے رہے تھے۳؎چنانچہ اس نے کرلیا پھر واپس آیا۴؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا یہ اس سے بہتر نہیں کہ تم میں سے کوئی شیطان کی طرح سر بکھیرے ہوئے آئے ۵؎(مالک)
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهٖ كَأَنَّهٗ يَأْمُرُهٗ بِإِصْلَاحِ شَعْرِهٖ وَلِحْيَتِهٖ فَفَعَلَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ هٰذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ ثَائِرُ الرَّأْسِ كَأَنَّهٗ شَيْطَانٌ » . رَوَاهُ مَالِكٌ .
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4486 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے ابن مسیب سے ۱∞؎انہیں یہ کہتے سنا گیا کہ اللہ تعالٰی پاک ہے پاکی پسند فرماتا ہے ظاہر باطن ستھرا ہے ستھرا پن پسندکرتا ہے ۲؎کریم ہے کرم پسند کرتا ہے سخی ہے سخاوت پسند فرماتا ہے۳؎تو تم صاف رکھو مجھے خیال ہے کہ فرمایا اپنے صحنوں کو۴؎اور یہود سے مشابہت نہ کرو ۵؎فرماتے ہیں کہ میں نے مہاجر ابن مسمار سے یہ ذکر کیا ۶؎تو انہوں نے کہا کہ مجھے عامر ابن سعد نے ۷؎اپنے والد سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کی مگر انہوں نے کہا کہ اپنے صحنوں کو صاف رکھو ۸؎( ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ سُمِعَ يَقُولُ: " إِنَّ اللّٰهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطِّيبَ نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ جَوَّادٌ يُحِبُّ الْجُودَ فَنَظِّفُوا أُرَاهُ قَالَ: أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِمُهَاجِرِ ابْنِ مِسْمَارٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِيهِ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهٗ إِلَّاأَنَّهٗ قَالَ: «نَظِّفُوا أَفْنِيتَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4487 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے انہوں نے سعید ابن مسیب کو فرماتے سنا کہ رحمن کے خلیل ابراہیم لوگوں میں پہلے وہ ہیں جنہوں نے مہمانوں کی مہمانی کی ۱∞؎اور لوگوں میں پہلے آپ نے ختنہ کیا ۲؎اور لوگوں میں پہلے آپ نے اپنی مونچھ تراشی۳؎اور لوگوں میں پہلے آپ نے بڑھاپا دیکھا۴؎تو عرض کیا یارب یہ کیا رب تعالٰی نے فرمایا یہ وقار ہے ۵؎اے ابراہیم،عرض کیا رب میرے وقارکو بڑھادے ۶؎(مالک)
وَعَنْ يَحْيٰى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهٗ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمٰنِ أوَّلَ النَّاسِ ضَيَّفَ الضَّيْفَ وَأَوَّلَ النَّاسِ اخْتَتَنَ وَأَوَّلَ النَّاسِ قَصَّ شَارِبَهٗ وَأَوَّلَ النَّاسِ رَأَى الشَّيْبَ فَقَالَ: يَا رَبِّ: مَا هٰذَا؟ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى: وَقَارٌ يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: رَبِّ زِدْنِي وَقَارًا. رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4488 ، باب:کنگھی کرنے کا بیان