- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کیا ۱؎یارسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم ابو سفیان بخیل آدمی ہیں مجھے اس قدر خرچہ نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہو مگر یہ کہ میں ان کی بے خبری میں ان سے لے لوں ۲؎تو فرمایا جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو بقدر معروف لے لو ۳؎(مسلم، بخاری)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ هِنْدًا بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَيْسَ يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدي، إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَقَالَ: "خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3342 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے جب اﷲتم میں سے کسی کو مال دے تو وہ اپنے نفس اور اپنے گھر والوں سے شروع کرے ۱؎(مسلم)۲؎
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا أعْطَى اللّٰهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3343 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ غلام کے لیے اس کا کاکھانا کپڑا ہے ۱؎اور اسے اس قدر کام کی تکلیف نہ دے جس کی وہ طاقت نہ رکھے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَل إِلَّا مَا يُطِيقُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3344 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے تمہارے بھائی ہیں جنہیں اﷲتعالٰی نے تمہارے قبضہ میں دے دیا ۱؎تو جسے اﷲاس کے بھائی کا مالک بنا دے تو اسے اس میں کھلائے جو خود کھائے اور اس سے پہنائے جو خود پہنے ۲؎اور اس کام کی تکلیف نہ دے جو اس پر غالب آجائے اور اگر غالب کام کی تکلیف دے تو اس پر اس کی مدد کرے ۳؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللّٰهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ جَعَلَ اللّٰهُ أَخَاهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3345 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمرو سے ۱؎کہ ان کے پاس ایک خزانچی آیا ۲؎تو آپ نے اس سے فرمایا کہ تم نے غلام کو ان کا کھانا دے دیا،بولا نہیں،فرمایا جاؤ انہیں دے دو۳؎کیونکہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ انسان کے لیے یہ ہی گناہ بہت ہے کہ مملوک سے اس کا کھانا روکے ۴؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ انسان کے لیے کافی گناہ یہ ہے کہ اسے ہلاک کردے جس کو روزی دیتا ہے ۵؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْروٍ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كَفَى بِالرَّجُلِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ". وَفِي رِوَايَةٍ: "كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3346 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے پھر وہ کھانا لائے اور اس کی گرمی اور دھواں برداشت کرچکاہو ۱؎تو اسے اپنے ساتھ بٹھال لے کہ وہ بھی کھائے ۲؎لیکن اگر کھانا تھوڑا ہو ۳؎تو اس میں سے خادم کے ہاتھ پر ایک دو لقمے رکھ دے ۴؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَه، فَلْيَأْكُلْ، وَإِن كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3347 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمر سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب غلام اپنے مولیٰ کی خیر خواہی کرے ۱؎اور اﷲکی عبادت اچھی طرح کرے ۲؎تو اسے ڈبل ثواب ہے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللّٰهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مرَّتَيْنِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3348 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے غلام کے لیے یہ بہت اچھا ہے ۱؎کہ اﷲتعالٰی اسے اس حال میں موت دے کہ اپنے رب کی عبادت اور مولا کی اطاعت کرتا ہو یہ اس کے لیے بہت اچھا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللّٰهُ بِحُسْنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ وَطَاعَةِ سَيّدِهِ، نِعِمَّا لَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3349 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت جریر ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کوئی غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۲؎اور ان سے دوسری روایت میں ہے فرماتے ہیں جو غلام بھاگ جائے تو اس کا ذمہ بری ہوگیا۳؎اور انہیں کی ایک روایت میں یوں ہےفرمایا جو غلام اپنے مولاؤں سے بھاگ جائے وہ کافر ہوگیا ۴؎حتی کہ ان تک لوٹ آئے ۵؎(مسلم)
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ"، وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: "أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ"، وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: "أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِم". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3350 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو مولیٰ اپنے مملوک کو تہمت لگائے وہ اس سے بری ہو تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے ۱؎مگر یہ واقعہ وہی ہے جو اس نے کہا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ؛ جُلِدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3351 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو اپنے غلام کو وہ حد مارے ۱؎جو جرم اس نے کیا نہیں یا اسے طمانچہ مارے توا س کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کردے ۲؎(مسلم)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَهُ؛ فَإِن كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3352 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابن مسعود انصاری سے ۱؎فرماتے ہیں میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی ۲؎کہ اے ابو مسعود سوچو کہ اﷲتم پر اس سے زیادہ قادر ہے جتنے تم اس پر ہو ۳؎میں نے پیچھے پھر کر دیکھا تو وہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم تھے ۴؎میں نے عرض کیا یارسول اﷲیہ آزاد ہے اﷲکی راہ میں ۵؎تب حضور نے فرمایا اگر تم یہ نہ کرتے تو تم کو آگ جلاتی یا آگ پہنچتی ۶؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي، فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا: "اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ" فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللّٰهِ، فَقَالَ: "أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ،أَوْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3353 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا بولا کہ میرے پاس مال ہے اور میرے والد میرے مال کے محتاج ہیں۱؎فرمایا تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کے ہیں ۲؎یقینًا تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی سے ہے،اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ ۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)۴؎
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِي مَالًا، وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ إِلَى مَالِي قَالَ: "أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، كُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3354 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے انہی سے وہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے راوی کہ ایک شخص نبی کریم صلی علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا میں محتاج ہوں ۱؎میرے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس ایک یتیم ہے۲؎تو فرمایا اپنے یتیم کے مال سے کھاؤ نہ فضول خرچی کرکے نہ جلد ی کر کے اور نہ مال جمع کرتے ہوئے ۳؎(ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ)
وَعنهُ عَن أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ، لَيْسَ لِي شَيْءٌ، وَلِي يَتِيمٌ، فَقَالَ: "كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَادِرٍوَلَا مُتَأَثِّلٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3355 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض میں فرماتے تھے نماز ۱؎اور غلاموں کی نگرانی کرو ۲؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ: "الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَان".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3356 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
اور احمد و ابوداؤد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح ۱؎
وَرَوَى أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَهُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3357 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایاجنت میں داخل نہ کیا جاوے گا بدخلق ۱؎(ترمذی، ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3358 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت رافع ابن مکیث سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ خوش خلقی برکت ہے اور بدخلقی نحوست ۲؎(ابو داؤد)اور میں نے سوائے مصابیح کے وہ نہ دیکھا جو اس حدیث میں اس پر زیادہ ہے۳؎آپ کا فرمان کہ صدقہ بری موت سے بچاتا ہے اور نیکی عمر بڑھاتی ہے۴؎
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "حُسْنُ الْمَلَكَةِ يُمْنٌ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَلَمْ أَرَ فِي غَيْرِ "الْمَصَابِيحِ" مَا زَادَ عَلَيْهِ فِيهِ منْ قولِهِ: "والصَّدَقةُ تَمْنَعُ مِيتةَ السُّوءِ، والبِرُّ زيادةٌ فِي العُمُرِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3359 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے تو وہ اﷲکا ذکر کردے تو اپنے ہاتھ اٹھالو۱؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)لیکن ان کے نزدیک یوں ہےکہ اپنا ہاتھ روک لو بجائے اس کے کہ اپنے ہاتھ اُٹھالو ۲؎
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ، فَذَكَرَ اللّٰهَ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ"، لَكِنْ عِنْدَهُ "فَلْيُمْسِكْ" بدل "فَارْفَعُوا أَيْدِيكُم".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3360 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص ماں اور اس کے بچے میں جدائی ڈالے ۱؎تو اﷲتعالٰی قیامت کے دن اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان ۲؎جدائی کردے گا۔(ترمذی،دارمی)۳؎
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللّٰهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3361 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- 1
- 2