- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے دو غلام جو آپس میں بھائی تھے ۱؎عطا فرمائے میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کردیا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا اے علی تمہارا غلام کیا ہوا میں نے آپ کو یہ خبر دی ۲؎تو فرمایا اسے واپس لے لو اسے واپس لے لو ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَلِيِّ قَالَ: وَهَبَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ، فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا فَقَالَ لي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا عَلِيُّ مَا فَعَلَ غُلَامُكَ؟ " فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "رُدَّهُ رُدَّهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3362 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچہ میں جدائی کردی ۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں اس سے منع فرمایا،تو بیع لوٹا لی(ابوداؤد منقطعًا)
وَعَنْهُ: أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فردَّ البَيْعَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد مُنْقَطِعًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3363 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جس میں تین خصلتیں ہوں گی اﷲاس کی موت آسان کردے گا ۱؎اور اسے اپنی جنت میں داخل کر دے گا ۲؎کمزور پر نرمی اور ماں باپ سے شفقت،غلام سے اچھا سلوک ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ يَسَّرَ اللّٰهُ حَتْفَهُ وَأَدْخَلَهُ جَنَّتَهُ: رِفْقٌ بِالضَّعِيفِ، وَشَفَقَةٌ عَلَى الْوَالِدَيْنِ، وَإِحْسَانٌ إِلَى الْمَمْلُوكِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3364 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے ابو امامہ سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے جناب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک غلام دیا، تو فرمایا اسے مارنا مت ۱؎کیونکہ مجھے نمازیوں کی مار سے منع کیا گیا ہے۲؎اور میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے ۳؎یہ مصابیح کے الفاظ ہیں
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَبَ لِعَلِيٍّ غُلَامًا فَقَالَ: "لَا تَضْرِبْهُ، فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي" هَذَا لَفْظُ "الْمَصَابِيحِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3365 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
اور دار قطنی کے مجتبیٰ میں ہے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا کہ ہم کو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے نمازیوں کو مارنے سے منع فرمایا ۱؎
وَفِي "الْمُجْتَبَى" لِلدَّارَقُطْنِيِّ: أَنَّ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3366 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہواعرض کیا یارسول اﷲہم خادم کو کتنی بار معافی دیں حضور خاموش رہے ۲؎اس نے پھر وہ سوال دہرایا آپ خاموش رہے پھر جب تیسری بار سوال ہوا۳؎تو فرمایا اسے ہر دن میں ستر بار معافی دو۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! كَمْ نَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ فَصَمَتَ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قَالَ: "اعْفُوا عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3367 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
ترمذی بروایت عبداﷲابن عمرو ۱؎
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3368 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حصرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تمہارے غلاموں سے جو تمہارے موافق ہو ا؎تو اس میں سے اسے کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور پہناؤ اس سے جو خود پہنتے ہو ۲؎اور جو موافق نہ ہواسے بیچ دو اﷲکی مخلوق کو عذاب نہ دو ۳؎(احمد،ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ مَمْلُوكِيكُمْ، فَأَطْعِمُوهُ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُ مِمَّا تَكْسُونَ، وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ مِنْهُمْ فَبِيعُوهُ، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللّٰهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3369 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت سہیل ابن حنظلیہ سے ۱؎فرماتے ہیں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم ایک اونٹ پر گزرے،جس کی پیٹھ پیٹ سے مل گئی تھی ۲؎تو فرمایا ان بے زبان جانوروں میں اﷲسے ڈرو۳؎ان پر سوار ہو جب وہ لائق سواری ہوں ۴؎اور انہیں چھوڑ دو لائق سواری کی حالت میں ۵؎(ابوداؤد)
وَعَنْ سُهیلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعِيرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ فَقَالَ: "اتَّقُوا اللّٰهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ الْمُعْجَمَةِ، فَارْكَبُوهَا صَالِحَةً واترُكُوهَا صَالِحَةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3370 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں جب اﷲتعالٰی کا یہ فرمان نازل ہوا کہ یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو اچھا ہو ۱؎اور یہ فرمان نازل ہوا کہ جو لوگ ظلمًا یتیموں کا مال کھاتے ہیں ۲؎تو جن کے پاس یتیم تھے وہ چلے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے علیحدہ کردیاتو جب یتیم کے کھانے پینے سے کچھ بچ رہتا تو اسی کے لیے رکھ لیتےحتی کہ یا تو یتیم کھا پی لیتا یا وہ چیز بگڑ جاتی ان لوگوں پر یہ بہت گراں گزرا ۳؎تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے انہوں نے یہ عرض کیا ۴؎تب یہ آیت اللہ نے اتاری کہ لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق پوچھتے ہیں فرما دو ان کی اصلاح بہتر ہے اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں تب انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے ملایا ۵؎(ابو داؤد،نسائی)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى: وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًاالآيَةَ ، انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ، فَعَزَلَ طَعَامَهُ مِنْ طَعَامِه،وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ،فَإِذَا فَضَلَ مِنْ طَعَامِ الْيَتِيمِ وَشَرَابِهِ شَيْءٌ حُبِسَ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسُدَ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالَى: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ، فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِمْ وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3371 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ لعنت فرمائی رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر جو باپ کو اس کے بچہ سے اور بھائی کو اس کے بھائی سے جدا کرے ۱؎(ابن ماجہ،دار قطنی)
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ، وَبَيْنَ الأَخِ وَبَيْنَ أَخِيهِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3372 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت عبداﷲابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جب قیدی لائے جاتے تو آپ سارے گھر والے ایک کو اکٹھے دیتے ۱؎یہ ناپسند فرماتے ہوئے کہ ان میں جدائی ڈالیں ۲؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالسَّبْيِ أَعْطَى أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمْ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3373 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا میں تمہیں تم میں بدترین لوگوں کی خبر نہ دوں ؟ وہ ہے جو اکیلا کھائے ۱؎اور اپنے غلام کو کوڑے مارے اور وہ اپنی عطا ۲؎روکے (رزین)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمُ؟ الَّذِي يَأْكُلُ وَحْدَهُ، وَيَجْلِدُ عَبْدَهُ، وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ". رَوَاهُ رَزِينٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3374 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بدخلق آدمی جنت میں نہ جائے گا ۱؎لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲکیا آپ نے ہم کو یہ خبر نہ دی کہ یہ امت تمام امتوں سے زیادہ غلاموں اور یتیموں والی ہے ۲؎فرمایا ہاں تم ان پر اپنی اولاد کی طرح مہربانی کرو اور انہیں اس سے کھلاؤ جو خود کھاتے ہو ۳؎لوگوں نے عرض کیا کہ ہم کو کتنی دنیا نفع دے گی ۴؎فرمایا وہ گھوڑا جسے تم پالوجس پر اﷲکی راہ میں جہاد کرو اور ایک غلام تمہیں کافی ہے ۵؎جب وہ نماز پڑھے تو تمہارا بھائی ہے ۶؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ أَكْثَرُ الأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى؟ قَالَ: "نَعَمْ، فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلَادِكُمْ، وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ" قَالُوا: فَمَا تَنْفَعُنَا الدُّنْيَا؟ قَالَ: "فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ،تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ، فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3375 ، باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- 1
- 2