باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسولصلی اللہ علیہ وسلمسے راوی فرماتے ہیں شراب ان دونوں درختوں سے ہوتی ہے کھجور اور انگور ۱؎(مسلم)

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرتيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3634 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے منبر پر خطبہ پڑھا ۱؎تو فرمایا کہ شراب کی حرمت نازل ہوچکی ہےاور شراب پانچ چیزوں سے ہوتی ہے ۲؎انگور،چھوہارے،گیہوں،جو اور شہد سے ۳؎خمر وہ ہے جو عقل بگاڑے ۴؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ عَلٰى مِنْبَرِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهٗ قَدْ نزَلَ تَحْرِيْمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ: الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيْر، وَالْعَسَلِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3635 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے جب شراب حرام کی گئی ۱؎حالانکہ ہم شراب بہت تھوڑی ہی پاتے تھے ہماری عام شرابیں کچی کھجوروچھوہارے کی تھیں ۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ حِيْنَ حُرِّمَتْ، وَمَا نَجِدُ خَمْرَ الأَعْنَابِ إِلَّا قَلِيْلًا، وَعَامَّةُ خَمْرِنَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3636 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم سےبتعکے بارے میں پوچھا گیا اور وہ شہد کی شراب ہے ۱؎تو فرمایا ہر شراب جو نشہ دے وہ حرام ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ وَهُوَ نبَيذُ الْعَسَلِ فَقَالَ: "كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3637 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر نشہ آور چیز خمر ہے ۱؎اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو دنیا میں شراب پیئے پھر اس پر دوام کرتے مرجائے تو وہ آخرت میں نہ پی سکے گا۲؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ فَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3638 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک شخص یمن سے آئے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس شراب کے متعلق پوچھا جو ان کی زمین میں پی جاتی ہے جوار کی ہوتی ہے اسے مزر کہا جاتا ہے ۱؎تو فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کیا وہ نشہ آور ہے عرض کیا ہاں فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۲؎بے شککے ذمہ ایک وعدہ ہے ۳؎اس کے متعلق جو نشہ پئیے۴؎یہ کہ اسے طینۃ الخبال پلائے لوگوں نے عرض کیا یارسولصلی اللہ علیہ و سلم طینۃ الخبال کیا چیز ہے فرمایا دوزخیوں کا پسینہ یا دوزخیوں کا کچ لہو ۵؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُوْنَهٗ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ: الْمِزْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَوَمُسْكِرٌ هُوَ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، إِنَّ عَلَى اللّٰهِ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهٗ مِنْ طِيْنَةِ الْخَبَالِ" قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَمَا طِيْنَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: "عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3639 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے چھوارے اور کچے کھجور کے ملاؤنی سے اور کشمش و چھوہاروں کی ملاؤنی سے اور کچے کھجور اور تر کھجور کی ملاؤنی سے منع فرمایا ۱؎اور فرمایا کہ ہر ایک کا علیٰحدہ نبیذ بناؤ ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ خَلِيْطِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ، وَعَنْ خَلِيْطِ الزَّبِيْبِ وَالتَّمْرِ، وَعَنْ خَلِيْطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ، وَقَالَ: "اِنْتَبِذُوْا كُلَّ وَاحِدٍ عَلٰى حِدَةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3640 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے شراب کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ سرکہ سے بنالی جائے ۱؎تو فرمایا نہیں ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ يُتَّخَذُ خَلًّا،فَقَالَ: "لَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3641 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت وائل حضرمی ۱؎سے کہ حضرت طارق ابن سوید ۲؎نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے شراب کے متعلق پوچھا تو منع فرمایا وہ بولے کہ دوا کے لیے بناتا ہوں تو فرمایا کہ شراب دوا نہیں لیکن وہ نری بیماری ہے ۳؎(مسلم)

وَعَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ: أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ، فَقَالَ: "إِنَّهٗ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ داءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3642 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت عبدابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے شراب پی توتعالٰی قبول نہ کرے گا اس کی چالیس دن کی نماز ۱؎پھر اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول فرمائے گا۲؎پھر اگر لوٹے تواس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہ کرے گا پھر اگر توبہ کرے تواس کی توبہ قبول کرلے گااگر پھر لوٹے تو اللہ اس کی چالیس دین کی نمازیں قبول نہ کرے گا ۳؎پھر اگر توبہ کرے تواس کی توبہ قبول کرلے گا۴؎اگر پھر چوتھی بار لوٹے تواس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہ کرے گا پھر اگر توبہ کرے تواس کی توبہ قبول نہ کرے گا۵؎اور اسے خبال کی نہر سے پلائے گا ۶؎(ترمذی)

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ لَهٗ صَلَاةَ أَرْبَعِيْنَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ لَهٗ صَلَاةَ أَرْبَعِيْنَ صَبَاحًا؛ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ لَهٗ صَلَاةَ أَرْبَعِيْنَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ لَهٗ صَلَاةَ أَرْبَعِيْنَ صَبَاحًا،فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبِ اللّٰهُ عَلَيْهِ، وَسَقَاهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3643 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

اور نسائی،ابن ماجہ،دارمی نے حضرت عبدابن عمرو سے روایت کی۱؎

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3644 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس چیز کی بہت مقدار نشہ دے تو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا أَسْكَرَ كَثِيْرُهٗ فَقَلِيْلُهٗ حَرَامٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3645 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جس کا ایک فرق نشہ دے اس سے ایک چلو بھی حرام ہے ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا أَسْكَرَ مِنْهُ الْفَرَقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3646 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ گیہوں سے شراب ہوتی ہے اور جو سے شراب ہوتی ہے اور کھجور سے شراب ہوتی ہے اور کشمکش سے شراب ہوتی ہے اور شہد سے شراب ہوتی ہے،۲؎(ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا، وَمِنَ الشَّعِيْرِ خَمْرًا، وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا، وَمِنَ الزَّبِيْبِ خَمْرًا، وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3647 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی ۱؎تو جب سورۂ مائدہ اتری ۲؎تو میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے اس کے متعلق پوچھا اور عرض کردیا کہ وہ شراب یتیم کی ہے ۳؎فرمایا اسے گرا دو ۴؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا خَمْرٌ لِيَتِيْمٍ، فَلَمَّا نزَلَتِ الْمَائِدَةُ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقُلْتُ: إِنَّهٗ لِيَتِيْمٍ، فَقَالَ : "أَهْرِيْقُوْهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3648 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے وہ حضرت ابو طلحہ سے ۱؎راوی انہوں نے عرض کیا یا نبیمیں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی جو میری پرورش میں ہیں ۲؎فرمایا شراب بہا دو مٹکے توڑ دو ۳؎روایت کیا اسے ترمذی نے اور ضعیف کہا اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ان یتیموں کے بارے میں پوچھا جو شراب کے وارث ہوئے ہیں فرمایا اسے بہادو عرض کیا کہ کیا سرکہ نہ بنالیں فرمایا نہیں۴؎

وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِيْ طَلْحَةَ أَنَّهٗ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِيْ حِجْرِيْ، قَالَ: "أَهْرِقِ الْخَمْرَ وَاكْسِرِ الدِّنَانَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهٗ، وَفِيْ رِوَايَةِ أَبِيْ دَاوُدَ أنه سأل النبي صلي الله عليه وسلم عن إيتام ورثوا خمرا قال:"أَهْرِقْهَا"، قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًا؟ قَالَ: "لَا".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3649 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں منع فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ہر نشہ آور اعضاء بکھیر دینے والی چیز سے ۱؎(ابوداؤد)

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفْتِرٍ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3650 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت دیلم حمیری سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا یارسولہم ایک ٹھنڈی زمین میں ہیں اور وہاں سخت کام کرتے ہیں۲؎اور ہم اس گیہوں سے شراب بناتے ہیں جس سے اپنے اعمال پر اور اپنے ملک کی ٹھنڈک پرقوت حاصل کرتے ہیں۳؎فرمایا کیا وہ نشہ دیتی ہے میں نے عرض کیا ہاں فرمایا اس سے بچو۴؎میں نے عرض کیا کہ لوگ اسے چھوڑیں گے نہیں ۵؎فرمایا اگر نہ چھوڑیں تو ان سے جنگ کرو ۶؎(ابوداؤد)

وَعَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: قُلتُ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ وَنُعَالِجُ فِيْهَا عَمَلًا شَدِيْدًا، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًامِنْ هٰذَا الْقَمْحِ، نَتَقَوّٰى بِهٖ عَلٰى أَعْمَالِنَا وَعَلٰى بَرْدِ بِلَادِنَا، قَالَ: "هَلْ يُسْكِرُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: "فَاجْتَنِبُوْهُ" قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيْهِ، قَالَ: "إِنْ لَمْ يَتْرُكُوْهُ قَاتِلُوْهُمْ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3651 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے شراب اور جوئے طبلہ اور جوار کی شراب سے منع فرمایا ۱؎اور فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۲؎(ابوداؤد)۳؎

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوْبَةِ وَالْغُبَيْرَاءِ، وَقَالَ: "كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3652 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہ داخل ہوگا جنت میں ۱؎ماں باپ کا نافرمان۲؎اور نہ جواری اور احسان جتلانے والا ۳؎اور نہ شراب کا عادی۔(دارمی)اس کی دوسری روایت میں بجائے جواری کے حرام زادہ ہے۴؎

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ، وَلَا قَمَّارٌ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهٗ: "وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ" بَدَلَ "قَمَّارٍ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3653 ، باب:شراب اور اس کے پینے والے کی وعید کا بیان