باب :سفر کے آداب و طریقے

جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعرات کے دن غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے ۲؎اور آپ جمعرات کے دن نکلنا پسند فرماتے تھے۳؎(بخاری)

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيْسِ فِيْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيْسِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3892 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت عبدابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر لوگ جانتے کہ تنہائی میں کیا نقصان ہیں ۱؎تو میں نہیں جانتا کہ کوئی سوار رات کو اکیلا چلتا ۲؎(بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ،مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهٗ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3893 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ فرشتے ان ساتھیوں کے ساتھ نہیں رہتے جن میں کتا ہو اور نہ جن میں جھانجھ ہوا ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيْهَا كَلْبٌ وَلَا جَرَسٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3894 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جھانجھ شیطان کا باجہ ہے ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اَلْجَرَسُ مَزَامِيْرُ الشَّيْطَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3895 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت ابو بشیر انصاری سے ۱؎کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حضور کے بعض سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک قاصد بھیجا کہ کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا ہار نہ چھوڑا جائے مطلقًا کوئی ہار نہ چھوڑا جائے مگر وہ کاٹ دیا جائے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ بَشِيْرٍ الأَنْصَارِيِّ: أَنَّهٗ كَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ بَعْضِ أَسْفَارِهٖ فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُوْلًا: "لَا تُبْقَيَنَّ فِيْ رَقَبَةِ بَعِيْرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ -أَوْ قِلَادَةٌ- إِلَّا قُطِعَتْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3896 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم سبزی کی سال میں سفر کرو ۱؎تو اونٹ کو اس کی زمین کا حصہ دو ۲؎اور جب تم خشکی کی سال میں سفر کرو تو اس پر تیز رفتار کرو۳؎اور جب تم رات آرام کرو تو راستہ سے الگ اترو ۴؎کیونکہ وہ جانوروں کے راستے اور رات میں کیڑے مکوڑوں کے ٹھکانے ہیں ۵؎اور ایک روایت میں ہے کہ جب تم خشک سال میں سفرکرو تو اونٹ کے دبلے ہونے سے جلدی کرو ۶؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا مِنَ الأَرْضِ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوْا عَلَيْهَا السَّيْرَ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيْقَ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ". وَفِيْ رِوَايَةٍ: "إِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَبَادِرُوْا بِهَا نِقْيَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3897 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں اس حال میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۱؎کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص اونٹ پر آیا ۲؎تو دائیں بائیں طرف مارنے لگا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس کے پاس بچی ہوئی زائد سواری ہو تو وہ اس پر خرچ کرے جس کے پاس سواری نہیں۳؎اور جس کے پاس بچا ہوا توشہ ہو تو وہ ا س پر خرچ کرے جس کے پاس توشہ نہیں۴؎فرماتے ہیں کہ حضور نے ہر قسم کے مال کا ذکر فرمایا ۵؎حتی کہ ہم سمجھے کہ ہم میں سے کسی کو بچے ہوئے میں کوئی حق ہی نہیں ۶؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِيْ سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذ جَاءَهٗ رَجُلٌ عَلٰى رَاحِلَةٍ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِيْنًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَانَ مَعَهٗ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهٖ عَلٰى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهٗ، وَمَنْ كَانَ لَهٗ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهٖ عَلٰى مَنْ لَا زَادَ لَهٗ" قَالَ: فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ حتّٰى رَأَيْنَا أَنَّهٗ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِيْ فَضْلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3898 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ سفر عذاب کا ٹکڑا ہے ۱؎تم میں سے ہر ایک کو اس کی نیند اس کے کھانے پینے سے روکتا ہے۲؎تو جب کوئی اس طرف سے اپنی حاجت پوری کرے۳؎تو اپنے گھر کی طرف جلدی کرے ۴؎(متفق علیہ)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهٗ وَطَعَامَهٗ وَشَرَابَهٗ، فَإِذَا قَضٰى نَهْمَتَهٗ مِنْ وَجْهِهٖ فَلْيَعْجَلْ إِلَى أَهْلِهٖ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3899 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن جعفر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سفر سے تشریف لاتے تھے تو آپ کے گھر والے بچے پیشوائی کے لیے جاتے تھے ۲؎حضور ایک سفر سے آئے تو مجھے حضور کی پیشوائی کے لیے لایا گیا تو مجھے حضور نے اپنے آگے سوار کرلیا پھر حضرت فاطمہ کے بیٹوں میں سے ایک لایا گیا۳؎تو اسے اپنے پیچھے بٹھالیا فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تین ایک سواری پر داخل ہوئے۴؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مَنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهٖ، وَإِنَّهٗ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَسُبِقَ بِيْ إِلَيْهِ، فَحَمَلَنِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جِيْءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ فَأَرْدَفَهٗ خَلْفَهٗ، قَالَ: فَأُدْخِلْنَا الْمَدِيْنَةَ ثَلَاثَةً عَلٰى دَابَّةٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3900 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت انس سے کہ وہ اور ابوطلحہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ آئے ۱؎حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ صفیہ تھیں جنہیں حضور اپنی سواری پر پیچھے سوار کیے ہوئے تھے ۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهٗ أَقْبَلَ هُوَ وَأَبُوْ طَلْحَةَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةُ مُرْدِفَهَا عَلٰى رَاحِلَتِهٖ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3901 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر رات میں سفر سے نہ آتے تھے ۱؎مگر صبح یا شام کے وقت ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهٗ لَيْلًا وَكَانَ لَا يَدْخُلُ إِلَّا غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3902 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کوئی تم میں سے بہت عرصہ غائب رہے تو رات میں اپنے گھر نہ آئے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذا أ طَال أَحَدُكُمُ الْغَيبَةَ فَلَا يَطْرُقْ أَهْلَهٗ لَيلًا". مُتَّفَقٌ عَلَيهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3903 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تم رات میں آؤ تو اپنی بیوی کے نہ جاؤ ۱؎حتی کہ وہ زیر ناف لوہا استعمال کرلیں ۲؎اور پریشان بالوں میں کنگھی پھیرلیں ۳؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدَخُلْ علي أَهْلَكَ حتّٰى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيْبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3904 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب مدینہ تشریف لائے ۱؎تو ایک اونٹ یا گائے قربان فرمائی ۲؎(بخاری)

وَعَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِيْنَةَ نَحَرَ جَزُوْرًا أَوْ بَقَرَةً. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3905 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف نہ لاتے تھے مگر دن کو دوپہر کے وقت پھر جب تشریف لاتے تو مسجد سے ابتداء فرماتے وہاں دو رکعتیں پڑھتے ۱؎پھر وہاں ہی لوگوں کے لیے تشریف رکھتے ۲؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجدِ فَصَلَّى فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ، ثم جَلَسَ فِيْهِ لِلنَّاسِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3906 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا تو جب ہم مدینہ منورہ آئے تو مجھ سے فرمایا مسجد میں جاؤ ۱؎وہاں دو رکعت پڑھو(بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ سَفَرٍ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِيْنَةَ قَالَ لِيْ: "اُدْخُلِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3907 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت صخر ابن وداعہ غامدی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے الٰہی میری امت کے صبح کے کاموں میں برکتیں دے ۲؎اور جب کوئی فوج یا لشکر بھیجتے تو شروع دن میں بھیجتے تھے۳؎اورصخر تاجر تھے تو وہ اپنا مال تجارت اول دن میں بھیجاکرتے تھے تو وہ بڑے امیر ہوگئے اور ان کا مال بہت بڑھ گیا۴؎(ترمذی،ابوداؤد، دارمی) ۵؎

عَنْ صَخْرِ بْنِ وَدَاعَةَ الغَامِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِيْ فِيْ بُكُوْرِهَا" وَكَانَ إِذا بعثَ سريَّةً أوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ تَاجِرًا فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهٗ أَوَّلَ النَّهَارِ، فَأَثْرٰى وَكَثُرَ مالُهٗ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3908 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم تاریکی شب میں سفر کیا کرو ۱؎کیونکہ رات میں زمین لپٹ جاتی ہے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ، فَإِنَّ الأَرْضَ تُطْوٰى بِاللَّيْلِ". رَوَاهُ أَبَو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3909 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک سوار ایک شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ۲؎اور تین سوار صحیح سوار ہیں ۳؎(مالک، ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3910 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تین شخص سفر میں ہوں تو ایک کو اپنا امیر بنالیں ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا كَانَ ثَلَاثةٌ فِيْ سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوْا أَحَدَهُمْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3911 ، باب :سفر کے آداب و طریقے