باب :سفر کے آداب و طریقے

جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا بہتر ساتھی چار ہیں ۱؎اور بہترین فوج چار سو ہیں ۲؎اور بہتر لشکر چار ہزار ہیں۳؎اور بارہ ہزار کی نفری کبھی تھوڑی ہونے کی وجہ سے مغلوب نہ ہوگی۴؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِئَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوْشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3912 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سفر کے دوران پیچھے رہتے تھے ۱؎تو کمزور کو لے آتے اور پیچھے بٹھالیتے تھے اور ان کے لیے دعا فرماتے تھے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّفُ فِي الْمَسِيْرِ فَيُزْجِي الضَّعِيْفَ، وَيُرْدِفُ، وَيَدْعُوْ لَهُمْ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3913 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے ابو ثعلبہ خشنی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ لوگ جب کسی منزل میں اترتے تو گھاٹیوں اور جنگلوں میں بکھر جاتے تھے ۲؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا ان گھاٹیوں میں اور جنگلوں میں بکھرا رہنا یہ کام شیطان سے ہے۳؎چنانچہ اس کے بعد مسلمان کسی منزل میں نہ اترے مگر اس حالت میں کہ بعض بعض سے ملے رہتے حتی کہ کہا جاتا اگر ان پر ایک کپڑا بچھا دیا جاتا تو ان پر پھیل جاتا ۴؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِيْ ثَعْلَبَةَ الخُشَنيِّ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوْا مَنْزِلًا تَفَرَّقُوْا فِي الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِيْ هٰذِهِ الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذٰلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ". فَلَمْ يَنْزِلُوْا بَعْدَ ذٰلِكَ مَنْزِلًا إِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حتّٰى يُقَالَ: لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّهُمْ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3914 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ہم ایک ایک اونٹ پر تین تین تھے ۱؎تو ابولبابہ ۲؎اور علی بن ابی طالب رسول اللہ کے ساتھی۳؎تھے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی(چلنے کی)باری آتی تو یہ دونوں عرض کرتے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چل لیں گے ۴؎تو حضور فرماتے کہ تم دونوں مجھ سے زیادہ قوی نہیں اور میں ثواب سے مستغنی تم سے بڑھ کر نہیں ۵؎(شرح سنہ)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: كُنَّا يَوْمَ بَدْرٍ كُلُّ ثَلَاثَةٍ عَلٰى بَعِيْرٍ،فَكَانَ أَبُوْ لُبَابَةَ وَعَلِيُّ ابْنُ أَبِيْ طَالِبٍ زَمِيْلَيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَانَتْ إِذَا جَاءَتْ عُقْبَةُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَا: نَحْنُ نَمْشِيْ عَنْكَ قَالَ: "مَا أَنْتُمَا بِأَقْوٰى مِنِّيْ وَمَا أَنَا بِأَغْنٰى عَنِ الأَجْرِ مِنْكُمَا". رَوَاهُ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3915 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا اپنے جانوروں کی پیٹھوں کو منبر نہ بناؤ ۱؎کیونکہتعالٰی نے انہیں اس لیے تمہارا تابع کیا ہے کہ تم کو اس شہر تک پہنچادیں جہاں تم بغیرسخت مشقت کے نہ پہنچتے ۲؎اور رب نے زمین تمہارے لیے ہی پیدا کی ہے تو تم زمین پر اپنی ضروريات پوری کرو ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَتَّخِذُوْا ظُهُوْرَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ، فَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُوْنُوْا بَالِغِيْهِ إِلَّا بِشِقِّ الأَنْفُسِ،وَجَعَلَ لَكُمُ الأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوْا حَاجَاتِكُمْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3916 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی منزل پر اترتے تو نوافل نہ پڑھتے تھے حتی کہ کجاوے کھول دیتے تھے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا نَزَلْنَا مَنْزِلًا لَا نُسَبِّحُ حتّٰى نَحُلَّ الرِّحَالَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3917 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پیدل چل رہے تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص آیا جس کے ساتھ گدھا تھا عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سوار ہو جاؤ اور خود پیچھے بیٹھ گیا ۱؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یعنی اپنے جانور کے سینہ کے تم زیادہ حق دار ہو مگر اس طرح کہ تم وہ حق میرے لیے کردو ۲؎اس نے عرض کیا میں نے حضور کو یہ حق دے دیا تب حضور سوار ہوئے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِيْ إِذْ جَاءَهٗ رَجُلٌ مَعَهٗ حِمَارٌ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اِرْكَبْ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهٗ لِيْ" قَالَ: جَعَلْتُهٗ لَكَ فَرَكِبَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3918 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے سعید ابن ہند سے ۱؎وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ تو اونٹ شیطانوں کے ہوں گے اور کچھ گھر شیطانوں کے ہوں گے ۲؎لیکن شیطانوں کے اونٹ وہ تو میں نے دیکھ لیے۳؎کہ تم میں سے کوئی اپنے ساتھ اعلیٰ اونٹنیاں لےکر نکلتا ہے۴؎جنہیں موٹا کیا ہوتا ہے تو ان میں سےکسی اونٹ پر سوار نہیں ہوتا اور اپنے بھائی پر گزرتا ہے جو عاجز رہ گیا ہے تو اسے سوار نہیں کرتا ۵؎لیکن شیطانوں والے گھر تو وہ میں نے نہ دیکھے ہیں ۶؎حضرت سعید کہتے تھے کہ میں نہیں سمجھتا مگر یہ ہیں پنجرے جنہیں لوگ ریشم سے ڈھکتے ہیں ۷؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَعِيْدِ بْنِ هِنْدٍ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَكُوْنُ إِبِلٌ لِلشَّيَاطِيْنِ وَبُيُوْتٌ لِلشَّيَاطِيْنِ" فَأَمَّا إِبِلُ الشَّيَاطِيْنِ فَقَدْ رَأَيْتُهَا: يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ بِنَجِيْبَاتٍ مَعَهٗ قَدْ أَسْمَنَهَا فَلَا يَعْلُوْ بَعِيْرًا مِنْهَا، وَيَمُرُّ بِأَخِيْهِ قَدِ انْقَطَعَ بِهٖ فَلَا يَحْمِلُهٗ، وَأَمَّا بُيُوْتُ الشَّيَاطِيْنِ فَلَمْ أَرَهَا، كَانَ سَعِيْدٌ يَقُوْلُ: لَا أُرَاهَا إِلَّا هٰذِهِ الأَقْفَاصَ الَّتِيْ يَسْتُرُ النَّاسُ بِالدِّيْبَاجِ. رَاوَهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3919 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت سہل ابن معاذ سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوہ کیا تو لوگوں نے منزلیں تنگ کردیں اور رستے بندکردیئے ۲؎تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک اعلانچی بھیجا جو لوگوں میں اعلان کرتا تھا کہ جس نے منزل تنگ کی یا راستہ کاٹا تو اس کا کوئی جہاد نہیں ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيْقَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِيْ فِي النَّاسِ: "أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيْقًا فَلَا جِهَادَ لَهٗ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3920 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اچھا ہے وہ وقت جب مرد اپنے گھر سفر سے آئے وہ شروع رات ملے ۱؎( ابوداؤد)

وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ أَحْسَنَ مَا دَخَلَ الرَّجُلُ أهلَهٗ إِذَا قَدِمَ مِنْ سفرٍ أوَّلُ اللَّيْلِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3921 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی سفر میں ہوتے پھر رات میں اترتے تو اپنی داہنی کروٹ پر لیٹتے ۱؎اور جب صبح سے کچھ پہلے آرام کرتے تو اپنی کلائی کھڑی فرماتے اور اپنا سر اپنے ہاتھ پر رکھتے ۲؎(مسلم)

عَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِيْ سَفَرٍ فعَرَّسَ بِلَيْل اضْطَجَعَ عَلٰى يَمِيْنِهٖ،وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْح نَصَبَ ذِرَاعَهٗ وَوَضَعَ رَأْسَهٗ عَلٰى كَفِّهٖ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3922 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبدابن رواحہ کو کسی فوج میں بھیجا ۱؎یہ جمعہ کے دن میں اتفاقًا واقع ہوا ۲؎تو ان کے ساتھی سویرے ہی چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ میں پیچھے رہ جاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نماز پڑھ لوں پھر ان سے جاملوں گا۳؎تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز پڑھی انہیں دیکھا ۴؎تو فرمایا تم کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح میں جانے سے کس چیز نے روکا تو عرض کیا کہ میں نے چاہا آپ کے ساتھ نماز پڑھ لوں پھر ان سے جا ملوں ۵؎فرمایا کہ اگر تم تمام زمینی چیزیں خیرات کردو تو بھی ان کے سویرے نکل جانے کا درجہ نہیں پاسکتے ۶؎(ترمذی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِيْ سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذٰلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَغَدَا أَصْحَابُهٗ وَقَالَ: أَتَخَلَّفُ وأُصَلِّيْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ، فَلَمَّا صَلَّى مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ فَقَالَ: "مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ؟ " فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ فَقَالَ: "لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيْعًا مَا أَدْرَكْتَ فَضْلَ غَدْوَتهِمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3923 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ رحمت کے فرشتے ان ہمراہیوں کے ساتھ نہیں رہتے جن میں چیتے کی کھال ہو ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جِلْدُ نَمِرٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3924 ، باب :سفر کے آداب و طریقے

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سفر میں قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے۲؎تو جو خدمت میں ان سے آگے بڑھ گیا وہ لوگ کسی پر کسی عمل سے سبقت نہیں کرسکتے سواءشہادت کے ۳؎(بیہقی شعب الایمان) ۴؎

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "سَيِّدُ الْقَوْمِ فِي السَّفَرِ خَادِمُهُمْ، فَمَنْ سَبَقَهُمْ بِخِدْمَةٍ لَمْ يَسْبِقُوْهُ بِعَمَلٍ إِلَّا الشَّهَادَةَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3925 ، باب :سفر کے آداب و طریقے