- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
جہاد کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو سنا حالانکہ آپ ممبر پر تھے ۲؎کہ فرماتے تھے تیار کرو ان کے مقابل وہ قوت جس کی طاقت رکھو خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے،خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے،خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے۳؎(مسلم)
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُوْلُ: " وَأَعِدُّوْا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3861 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب روم تم پر فتح کیا جائے گا اورﷲتمہیں کفایت کرے گا ۱؎تو تم سے کوئی اس سے عاجز نہ ہوجائے کہ اپنے تیروں سے کھیلے۳؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الرُّوْمُ وَيَكْفِيْكُمُ اللّٰهُ، فَلَا يَعْجِزْ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهٖ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3862 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو وہ ہم سے نہیں ۱؎یا اس نے نافرمانی کی ۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقولُ: "مَنْ عَلِمَ الرَّميَ ثُمَّ تَرَكَهٗ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَى". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3863 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکو ع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم قبیلہ اسلم کی ایک قوم پر تشریف لائے جو بازار میں تیر اندازی کررہی تھی۲؎تو فرمایا اے بنی اسماعیل تیر چلاؤ کیونکہ تمہارے والد تیر انداز تھے اور میں فلاں جماعت کے ساتھ ہوں(دو فریق میں سے ایک کے لیے)تو انہوں نے اپنے ہاتھ روک لیے۴؎فرمایا تمہیں کیا ہوا وہ بولے ہم کیسے تیر اندازی کریں آپ فلاں قبیلہ والوں کے ساتھ ہوگئے ۵؎فرمایا تیر اندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں۶؎(بخاری)
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكوَعِ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُوْنَ بِالسُّوْقِ فَقَالَ: "اُرْمُوْا بَنِيْ إِسْمَاعِيْلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا، وَأَنَا مَعَ بَنِيْ فُلَانٍ"لِأَحَدِ الْفَرِيْقَيْنِ فَأَمْسَكُوْا بِأَيْدِيْهِمْ فَقَالَ: "مَا لَكُمْ؟ " قَالُوْا : وَكَيْفَ نَرْمِيْ وَأَنْتَ مَعَ بَنِيْ فُلَانٍ؟ قَالَ: "اُرْمُوْا وَأَنَا مَعكُمْ كُلِّكُمْ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3864 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ ۱؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک ڈھال سے آڑ لیتے تھے ۲؎اور ابو طلحہ اچھے تیرانداز تھے تو وہ جب تیر پھینکتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اچک کر دیکھتے۳؎ان کے تیر گرنے کی جگہ کو ملاحظہ فرماتے تھے۔(بخاری)
وَعَن أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَبُوْ طَلْحَةَ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ أَبَو طَلْحَةَ حَسَنَ الرَّمْي، فَكَانَ إِذَا رَمٰى تَشَرَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْظُرُ إِلَى مَوْضِعِ نَبْلِهٖ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3865 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ برکت گھوڑے کی پیشانی کے بالوں میں ہے ۱؎(مسلم ،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْبَرَكَةُ فِيْ نَوَاصِي الْخَيْلِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3866 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت جریر بن عبداللہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ گھوڑے کی پیشانی کے بال اپنی انگلی سے ہٹا رہے ہیں ۱؎اور فرمارہے ہیں کہ گھوڑے کی پیشانی کے بالوں سے قیامت تک بھلائی وابستہ ہے ۲؎ثواب اور غنیمت ۳؎(مسلم)
وَعَنْ جَرِيْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْوِيْ ناصِيَةَ فَرَسٍ بِأُصْبُعِهٖ وَهُوَ يَقُوْلُ: "اَلْخَيْلُ مَعْقُوْدٌ بِنَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ: الأَجْرُ وَالغَنِيْمَةُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3867 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھا ۱؎اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اور اس کے وعدوں کی تصدیق کرتے ہوئے ۲؎تو اس کا پیٹ بھرنا پانی پلانا اس کی لید اور پیشاب قیامت کے دن اس شخص کی میزان میں ہوں گے ۳؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِيْ سَبِيْل اللّٰهِ إِيْمَانًا بِاللّٰهِ وَتَصْدِيْقًا بِوَعْدِهٖ فإِنَّ شِبَعَهٗ وَرِيَّهٗ ورَوْثَهٗ وبَوْلَهٗ فِيْ مِيْزَانِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3868 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم گھوڑے میں شکال کو ناپسند فرماتے تھے ۱؎اور شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے داہنے پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا اس کے داہنے ہاتھ اور بائیں پاؤں میں سفیدی ہو۳؎
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ فِي الْخَيْلِ، وَالشِّكَالُ: أَنْ يَكُوْنَ الْفَرَسُ فِيْ رِجْلِهِ الْيُمْنٰى بَيَاضٌ وَفِيْ يَدِهِ الْيُسْرٰى، أَوْ فِيْ يَدِهِ اليُمْنٰى وَرِجْلِهِ اليُسْرٰى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3869 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عبدﷲابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان گھوڑوں کے درمیان جن کا ضمار کیا گیا ہو ۱؎حفیا سے دوڑ کرائی اور اس کی انتہا ثنیہ وداع تھی ۱؎اور دو حدود کے درمیان چھ میل کا فاصلہ تھا ۲؎اور ان گھوڑوں کے درمیان جن کا ضمار نہیں کیا گیا ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک دوڑائی کرائی ۴؎جن کے درمیان ایک میل کا فاصلہ تھا۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِيْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ، وَبَيْنَهُمَا سِتَّةُ أَمْيَالٍ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِيْ لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثِّنْيَةِ إِلٰى مَسْجِدِ بَنِيْ زُرَيْقٍ، وَبَيْنَهُمَا مِيْلٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3870 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا ۱؎وہ کبھی دوڑ میں پیچھے نہ رہتی تھی ۲؎ایک بدوی اپنے چھوٹے اونٹ پر آیا ۳؎تو وہ اس سے آگے نکل گیا یہ مسلمانوں پر گراں گزارا ۴؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہﷲکے ذمہ قدرت پر لازم ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اونچی نہ جائے مگر اسے کبھی پست فرمائے ۵؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتْ ناقَةٌ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ، وَكَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلٰى قَعُوْدٍ لَهٗ فَسَبَقَهَا، فَاشْتَدَّ ذٰلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ حَقًّا عَلَى اللّٰهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهٗ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3871 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالٰی ایک تیر کے ذریعہ تین شخصوں کو جنت میں داخل کرے گا ۱؎اس کے بنانے والے کو جب کہ اپنی صنعت میں بھلائی کی نیت کرے ۲؎اور تیر مارنے والے کو۳؎اور تیر دینے والے کو ۴؎تیر چلاؤ اور گھوڑے کی سواری کرو ۵؎اور تمہارا تیر چلانا گھوڑے کی سواری سے مجھے زیادہ پیارا ہے ۶؎ہر وہ چیز جس سے مرد کھیلے باطل ہے ۷؎سوا اس کے کہ اپنی کمان سے تیر اندازی کرنے کے اور اپنے گھوڑے کو سکھانے کے اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے کہ یہ کھیل برحق ہیں ۸؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد، دارمی نے یہ اور زیادتی کی کہ جو تیر اندازی سیکھ کر بے رغبتی سے اسے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت تھی جسے چھوڑ دیا فرمایا اس کی ناشکری کی ۹؎
عَنْ عُقْبَةَ ابْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهٗ يَحْتَسِبُ فِيْ صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهٖ، وَمُنَبِّلَهٗ، وَارْمُوْا وَارْكَبُوْا،وَأَنْ تَرْمُوْا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوْا، كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُوْ بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهٖ، وَتَأْدِيْبَهُ فَرَسَهٗ، وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهٗ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ: "وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهٗ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهٗ نِعْمَةٌ تَرَكَهَا" أَوْ قَالَ: "كَفَرَهَا".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3872 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے ابونجیحسلمی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا جس نے اللہ کی راہ میں تیر پہنچایا تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ ہے ۲؎اور جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا تو اس کے لیے آزاد کیے ہوئے کے برابر ہے ۳؎اور جو اسلام میں بوڑھا ہوا تو اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۴؎بیہقی شعب الایمان اور ابوداؤد نے پہلی فصل روایت کی ۵؎اور نسائی نے پہلی اور دوسری ۶؎اور ترمذی نے دوسری اور تیسری ۷؎اور ان بیہقی اور ترمذی کی روایات میں۸؎بجائےفی الاسلامکے یوں ہے کہ جو اللہ کی راہ میں جوان ہوا ۹؎
وَعَنْ أَبِيْ نَجيحٍ السُّلَميِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَهُوَ لَهٗ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ رَمٰى بِسَهْمٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَهُوَ لَهٗ عِدْلُ مُحَرَّرٍ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الإِسْلَامِ كَانَتْ لَهٗ نُوْرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ" وَرَوٰى أَبُوْ دَاوُدَ الْفَصْلَ الْاَوَّلَ، وَالنَّسَائِيُّ الأَوَّلَ وَالثَّانِيَ، وَالتِّرْمِذِيُّ الثَّانِيَ وَالثَّالِثَ وَفِيْ رِوَايَتِهِمَا: "مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ" بَدَلَ "فِي الْإِسْلَامِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3873 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں ہے سبقت پر مال ۱؎مگر تیر یا اونٹ یا گھوڑے میں ۲؎(ترمذی، ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا سَبَقَ إِلَّا فِيْ نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3874 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو ایک گھوڑا دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے ۱؎تو اگر وہ پیچھے رہ جانے سے مطمئن ہو تو اس میں بھلائی نہیں اور اگر پیچھے رہ جانے سے امن نہ ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۲؎شرح سنہ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا جو دو گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کرے مطلب یہ ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے سے امن میں نہ ہو تو وہ جوا نہیں اور جو گھوڑا دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور پیچھے رہ جانے سے امن میں ہو تو وہ جوا ہے۳؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَينِ فَإِنْ كَانَ يُؤْمَنُ أَنْ يُسْبَقَ فَلَا خَيْرَ فِيْهِ، وَإِنْ كَانَ لَا يُؤْمَنُ أَنْ يُسْبَقَ فَلَا بَأْسَ بِهٖ". رَوَاهُ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَفِيْ رِوَايَةِ أَبِيْ دَاوُدَ: قَالَ: "مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ يَعْنِيْ وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يُسْبَقَ فَلَيْسَ بِقِمَارٍ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَقَدْ أَمِنَ أَنْ يُسْبَقَ فَهُوَ قِمَارٌ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3875 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ تو ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ ساتھ میں گھوڑا رکھنا ۲؎یحیی نے اپنی حدیث میں یہ زیادتی کی کہ گھوڑ دوڑ میں۲؎ابوداؤد،نسائی اور اسے ترمذی نے کچھ زیادتی کے ساتھباب الغصبمیں روایت کیا ۳؎
وَعَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ" زَادَ يَحْيٰى فِيْ حَدِيْثِهٖ: "فِي الرِّهَانِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مَعَ زِيَادَةٍ فِيْ بَابِ الْغَصَبِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3876 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا بہترین گھوڑا سیاہ رنگ کا ہے سفید پیشانی والا ناک سفید والا ۱؎پھر سفید پیشانی والا پانچ کلیان،داہنا پاؤں خالی پھر اگر کالا نہ ہو تو اس صفت کا سرخ رنگ والا۔(ترمذی،دارمی)
وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "خَيْرُ الْخَيْلِ الأَدْهَمُ الأَقْرَحُ الأَرْثَمُ، ثُمَّ الأَقْرَحُ الْمُحَجَّلُ طُلُقُ الْيَمِيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ فَكُمَيْتٌ عَلٰى هٰذِهِ الشِّيَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3877 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابو وہب جشمی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے تم اختیار کرو ہر سرخ پنج کلیان سفید پیشانی والا یا صاف سرخ پنج کلیان ۲؎یا کالا پنج کلیان ۳؎(ابوداؤد، نسائی)
وَعَنْ أَبِيْ وَهَبٍ الْجُشَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3878 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ گھوڑے کی مبارکی صاف سرخی میں ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يُمْنُ الْخَيْلِ فِي الشُّقْرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3879 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
روایت ہے حضرت عتبہ ابن عبدسلمی سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہ تو گھوڑے کی پیشانی کے بال کاٹو ۱؎نہ گردن کے بال اور نہ ان کی دم کیونکہ ان کی دم ان کے مورچھل(پنکھے)ہیں ۲؎اور ان کی گردن کے بال ان کے کمبل ہیں۳؎اور ان کی پیشانی کے بالوں میں خیر وابستہ ہے ۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عُتْبَةَ اِبْنِ عَبْدٍ السُّلميِّ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "لَا تَقُصُّوْا نَوَاصِيَ الْخَيْلِ وَلَا مَعَارِفَهَا وَلَا أَذْنَابَهَا، فَإِنَّ أَذْنَابَهَا مَذَابُّهَا، وَمَعَارِفَهَا دِفاؤُهَا، وَنَوَاصِيْهَا مَعْقُوْدٌ فِيْهَا الْخَيْرُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3880 ، باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- 1
- 2