- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کبھی مکہ معظمہ داخل نہ ہوتے مگر پہلے صبح تک ذی طُویٰ میں رات گزار لیتے غسل کرتے،نماز پڑھتے پھر دن میں مکہ معظمہ میں داخل ہوتے ۱؎اور جب مکہ سے واپس ہوتے تو ذی طویٰ پرگزرتے وہاں رات گزارتے حتی کہ صبح ہوجاتی اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ عمل کرتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَقْدِمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طُوًى حَتّٰى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ وَيُصَلِّيَ فَيَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا وَإِذَا نَفَرَ مِنْهَا مَرَّ بِذِي طُوًى وَبَاتَ بِهَا حَتّٰى يُصْبِحَ وَيَذْكُرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذٰلِكَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2561 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب مکہ معظمہ آئے تو مکہ کے اوپر کے حصہ سے داخل ہوئے اور اس کے نچلے حصے سے تشریف لے گئے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ إِلٰى مَكَّةَ دَخَلَهَا مِنْ أَعْلَاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2562 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت عروہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حج کیا تو مجھے حضرت عائشہ نے خبر دی ۱؎کہ پہلا وہ کام جس سے حضور انور نے مکہ معظمہ آتے وقت ابتداء کی یہ تھا کہ آپ نے وضو کیا پھر بیت اللّٰه کا طواف کیا ۲؎پھر عمرہ نہ ہوا ۳؎پھر حضرت ابوبکر نے حج کیا تو پہلا وہ کام جس سے ابتداء کی یہ تھا کہ بیت اللّٰه کا طواف کیا پھر عمرہ نہ ہوا پھر حضرت عمر نے حضرت عثمان نے اسی طرح عمل کیا ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِقَالَ: قَدْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهٖ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهٗ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةٌ ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةٌ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ مِثْلَ ذٰلِكَ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2563 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب حج یا عمرہ کا آتے ہی طواف کرتے تو تین چکروں میں تیز چلتے اور چار میں درمیانی چال چلتے ۱؎پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر صفا ومروہ کا طواف فرماتے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ مَا يَقْدَمُ سَعٰى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشٰى أَرْبَعَةً ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2564 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سنگِ اسود تک تین تین چکروں میں رمل فرماتے اور چار میں معمولی رفتار ۱؎اور جب صفا مروہ کا طواف کیا تو بطن مسیل میں دوڑتے تھے ۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: رَمَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْحَجَرِ ثَلَاثًا وَمَشٰى أَرْبَعًا وَكَانَ يَسْعٰى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2565 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب مکہ معظمہ تشریف لائے تو حجر اسود پر پہنچے اسے چوما ۱؎پھر اس کی داہنی طر ف چلے تو تین چکروں میں رمل کیا اور چار میں معمولی چال اختیار کی ۲؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهٗ ثُمَّ مَشٰى عَلٰى يَمِينِهٖ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشٰى أَرْبَعًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2566 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت زبیر ابن عربی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت ابن عمر سے سنگ اسود چومنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو اسے ہاتھ لگاتے اور چومتے دیکھا ۲؎(بخاری)
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهٗ وَيُقَبِّلُهٗ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2567 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو بیت اللّٰه کے دو گوشوں یمانیوں کے سوا کسی اور چیز کو چومتے نہ دیکھا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2568 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر طواف کیا ۱؎اور رکن اسود کو چھڑی سے چومتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: طَافَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلٰى بَعِيرٍ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2569 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بیت اللّٰه کا طواف اونٹ پر کیا جب بھی رکن پر آتے تو اپنے ہاتھ کی کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کردیتے ۱؎(بخاری)
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالبَيْتِ عَلٰى بَعِيرٍ كُلَّمَا أَتٰى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِيْ يَدِهٖ وكبَّرَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2570 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ابوطفیل سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو بیت اللّٰه کا طواف کرتے دیکھا ۱؎آپ اپنے پاس ہاتھ کی چھڑی سے سنگ کو چھوتے اور چھڑی چوم لیتے۔(مسلم)
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالبَيْتِ وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهٗ ويقبِّلُ الْمِحْجَنَ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2571 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ہم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوئے حج کے سواء کسی چیز کا خیال بھی نہ کرتے تھے ۱؎جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں کپڑوں سے ہوگئی ۲؎نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم آئے تو میں رو رہی تھی فرمایا شاید تم مہینے سے ہوگئی میں نے عرض کیا ہاں ۳؎فرمایا کہ یہ تو وہ شے ہے جو اللّٰه تعالٰی نے عورتوں پر مقرر فرمادی۴؎جو کچھ حجاج کریں تم بھی کرو بجز اس کے کہ طواف بیت اللّٰه نہ کرنا حتی کہ پاک ہوجاؤ ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ طَمِثْتُ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ: «لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَإِنَّ ذٰلِكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللّٰهُ عَلٰى بَنَاتِ آدَمَ فَافْعَلِيْ مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالبَيْتِ حَتّٰى تَطَهَّرِيْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2572 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں حضرت ابوبکر نے اس حج میں جس میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں امیر الحج بنایا تھا یعنی حجۃ الوداع سے پہلے ۱؎بقرعید کے دن مجھے ایک جماعت میں بھیجا جسے آپ نے حکم دیا کہ لوگوں میں یہ اعلان کردو ۲؎کہ خبردار اس سال کے بعد کوئی کافر حج نہ کرے اور کوئی ننگا طواف نہ کرے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ أَمَرَهٗ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ: «أَلَا لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفَنَّ بِالبَيْتِ عُرْيَانٌ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2573 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت مہاجر مکی سے فرماتے ہیں کہ حضرت جابر سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو بیت اللّٰه کو دیکھ کر اپنے ہاتھ اٹھائے فرمایا ہم نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ حج کیا ہم تو یہ نہ کرتے تھے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)
عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ قَالَ: سُئِلَ جَابِرٌ عَنِ الرَّجُلِ يَرَى الْبَيْتَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهٗ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2574 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مکہ معظمہ میں داخل ہوئے،حجر اسود کے سامنے آئے اسے چوما پھر بیت اللّٰه کا طواف کیا پھرصفا پر تشریف لائے ۱؎تو اس پر اتنا چڑھے کہ بیت اللّٰه نظر آگیا تو اپنے ہاتھ اٹھائے تو اس قدر اللّٰه کا ذکر و دعا کرتے رہے جتنا رب نے چاہا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ فَأَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهٗ ثُمَّ طَافَ بِالبَيْتِ ثُمَّ أَتٰى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَتّٰى يَنْظُرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللّٰهَ مَا شَآءَ وَيَدْعُو. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2575 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا بیت اللّٰه کے گرد طواف نماز کی طرح ہے ۱؎بجز اس کے کہ تم اس میں بات کرسکتے ہو تو جو طواف میں کلام کرے تو اچھا ہی کلام کرے۲؎(ترمذی،نسائی،دارمی)اور ترمذی نے اس جماعت کا ذکر کیا جنہوں نے اسے ابن عباس پر موقوف کیا۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَذَكَرَ التِّرْمِذِيُّ جَمَاعَةً وَقَفُوهُ عَلٰى ابْنِ عَبَّاسٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2576 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ حجر اسود جنت سے آیا ۱؎وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا،اسے آدمیوں کے گناہوں نے سیاہ کردیا ۲؎(احمد،ترمذی) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِيْ آدَمَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2577 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حجر کے متعلق فرمایا رب کی قسم اللّٰه اسے قیامت کے دن ایسے اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے بولتا ہوگا حق سے چومنے والوں کي گواہی دے گا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجَرِ: «وَاللّٰهِ لَيَبْعَثَنَّهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهٗ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهٖ يَشْهَدُ عَلٰى مَنِ اسْتَلَمَهٗ بِحَقٍّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه والدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2578 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ رکن اسود اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے یاقوت ہیں جن کی روشنی اللّٰہ نے چھپالی ہے ۱؎اگر ان کی روشنی نہ چھپاتا تو یہ پورب و پچھم کے درمیان کو جگمگا دیتے ۲؎(ترمذی)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: « إِنَّ الرّكْنَ وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ طَمَسَ اللّٰهُ نُورَهُمَا، وَلَوْ لَمْ يَطْمِسْ نُورَهُمَا لأَضَاءَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2579 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت عبید ابن عمیر سے ۱؎کہ حضرت ابن عمر دو رکنوں میں اس قدر بھیڑ میں گھستے ۲؎کہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے کسی کو وہاں اس قدر گھستے نہ دیکھا ۳؎فرماتے ہیں کہ اگر میں یہ کرتا ہوں تو درست ہے کیونکہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ان کا چھونا گناہوں کا کفارہ ہے ۴؎اور میں آپ کو فرماتے سنا کہ جو اس بیت اللّٰه کا ایک ہفتہ نہایت حفاظت و احتیاط سے طواف کرے ۵؎تو غلام آزاد کرنے کی طرح ہوگا اور میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ طواف کرنے والا ایک قدم نہیں رکھتا اور دوسرا نہیں اٹھاتا مگر رب تعالٰی ان کی برکت سے ایک گناہ مٹاتا ہے اور ایک نیکی لکھتا ہے ۶؎(ترمذی)
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِ قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا» وَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: «مَنْ طَافَ بِهٰذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ» . وَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: «لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرٰى إِلَّا أَحَطَّ اللّٰهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهٗ بِهَا حَسَنَةً » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2580 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- 1
- 2