- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن سائب سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دو رکنوں کے درمیان فرماتے سنا الٰہی ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچالے ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: (رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2581 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت صفیہ بنت شیبہ سے ۱؎فرماتي ہیں مجھے ابی تجراۃ کی بیٹی نے خبر دی فرماتی تھیں کہ میں چند قرشی بیبیوں کے ساتھ ابی حسین کے خاندان کے گھر میں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھنے گئی ۲؎جب کہ آپ صفا و مرہ کے درمیان سعی کر رہے تھے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کا تہبند شریف تیز دوڑنے کے باعث گردش کررہا تھا ۳؎اور میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ لوگو سعی کرو اللّٰه نے تم پر سعی واجب کی۴؎(شرح سنہ)اور احمد نے کچھ اختلاف سے روایت کی۔
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي بِنْتُ أَبِي تُجْرَاةَ قَالَتْ: دَخَلْتُ مَعَ نِسْوَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ دَارَ آلِ أَبِي حُسَيْنٍ نَنْظُرُ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْعٰى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَرَأَيْتُهٗ يَسْعٰى وَإِنَّ مِئْزَرَهٗ لَيَدُورُ مِنْ شِدَّةِ السَّعْيِ وَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: اِسْعَوْا فَإِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ السَّعْيَ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ مَعَ اخْتِلَافٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2582 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت قدامہ ابن عبداللّٰهابن عمار سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو صفا مروہ کے درمیان اونٹ پرسعی کرتے دیکھا ۲؎جس میں نہ اونٹ کا مارنا پیٹنا تھا نہ لوگوں کو ہٹانا نہ ہٹو بچو فرمانا۳؎(شرح سنہ)
وَعَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعٰى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلٰى لَا ضَرْبٌ، وَلَا طَرْدٌ، وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ"، رَوَاهُ فِي "شَرْح السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2583 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت یعلی ابن امیہ سے ۱؎فرماتےہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سبز چادر بغل سے نکالے ہوئے بیتاللّٰهکا طواف کیا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ، دارمی)
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالبَيْتِ مُضْطَبِعًا بِبُرْدٍ أَخْضَرَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2584 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا ۱؎تو بیت اللّٰه شریف کا تین بار رمل کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے لیا پھر انہیں اپنے بائیں کندھے پر ڈالا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم وَأَصْحَابَهٗ اعْتَمَرُوا مِنَ الْجِعْرانَةِ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا، وَجَعَلُوا أَرْدِيتهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ ثُمَّ قَذَفُوهَا عَلٰى عَوَاتِقِهِمُ الْيُسْرٰى. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2585 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم نے رکن یمانی و اسود کا چومنا چھونا سہولت یا دشواری میں کبھی نہ چھوڑا جب سے میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو انہیں چومتے دیکھا ۱؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا تَرَكْنَا اسْتِلَامَ هٰذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ: الْيَمَانِي وَالْحَجَرِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2586 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
اور ان کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا کہ آپ سنگِ اسود کو اپنا ہاتھ لگاتے پھر ہاتھ چوم لیتے اور فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ کرتے دیکھا تب سے کبھی نہ چھوڑا ۱؎
وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُمَا: قَالَ نَافِعٌ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهٖ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهٗ وَقَالَ: مَا تَرَكْتُهٗ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهٗ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2587 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں بیمار ہوں تو فرمایا کہ تم لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کرلو ۱؎تو میں نے طواف کیا جب کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کعبہ سے متصل نماز پڑھ رہے تھے اور سورۂوَالطُّور وَ کتابٍ مَّسْطُورپڑھ رہے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي. فَقَالَ: «طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَ أَنْتِ رَاكِبَةٌ» فَطُفْتُ وَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلٰى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِـ (وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ) (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2588 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت عابس ابن ربیعہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ آپ سنگِ اسود چومتے تھے اور کہتے تھے میں جانتا ہوں تو پتھر ہے نہ نفع دے نہ نقصان ۱؎اگر میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ:وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2589 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اس پر یعنی رکن یمانی پر ستر فرشتے مقرر ہیں ۱؎تو جو کہتا ہے الٰہی میں تجھ سے معافی اور امن و عافیت دینی و دنیاوی مانگتا ہوں ۲؎اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے تو فرشتے کہتے ہیں آمین ۳؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰه عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وُكِّلَ بِهٖ سَبْعُونَ مَلَكًا» يَعْنِي الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ " فَمَنْ قَالَ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالُوا: آمِينَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2590 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیت اللّٰه کا طواف سات چکرکرے اور اس کے سوا اور بات چیت نہ کرے ۱؎کہ اللّٰه پاک ہے،اللّٰه کی تعریف ہے،اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں،اللّٰه بہت بڑا ہے، اللّٰه کے سوا نہ طاقت ہے نہ قوت تو اس کے دس گناہ مٹادیئے جائیں گے اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس درجے بلند ہوں گے ۲؎اور جو شخص طواف کرے اور اسی حالت میں باتیں کرے تو رحمت میں اپنے دونوں پاؤں سے ایسے گھس جائے گا جیسے پانی میں پاؤں سے گھس جاتا ہے ۳؎(ابن ماجہ)
وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ طَافَ بِالبَيْتِ سَبْعًا وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَكُتِبَ لَهٗ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَرُفِعَ لَهٗ عَشْرُ دَرَجَاتٍ. وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ كَخَائِضِ الْمَاءِ بِرِجْلَيْهِ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2591 ، باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- 1
- 2