- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانچ وسق چھوہاروں سے کم میں صدقہ واجب نہیں ۱؎ اور پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں صدقہ واجب نہیں ۲؎ اور پانچ عدد اونٹوں سے کم میں صدقہ واجب نہیں ۳؎ (مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخِدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1794 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ
علیہ وسلم نے کہ مسلمان پر ۱؎ نہ تو اس کے غلام میں صدقہ واجب ہے نہ اس کے گھوڑے میں اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا اس کے غلام میں زکوۃ تو نہیں مگر صدقہ فطر واجب ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي عَبْدِهِ، وَلَا فِي فَرَسِهِ"، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: "لَيْسَ فِي عَبْدِهِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1795 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت انس سے کہ حضرت ابوبکر نے جب انہیں بحرین بھیجا ۱؎ تو انہیں یہ فرمان نامہ لکھ کر دیا مہربان رحمت والے اللہ کے نام سے یہ زکوۃ کا فریضہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض فرمایا اور جس کا اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ۲؎ تو جس مسلمان سے اس فہرست کے مطابق مانگا جائے وہ دے دے اور جس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے تو نہ دے۳؎ چوبیس اور اس سے کم اونٹوں کی زکوۃ بکری ہے کہ ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ۴؎ پھر جب یہ اونٹ پچیس کو پہنچیں تو پینتیس تک ایک سالہ مادہ اونٹنی ہے ۵؎ پھر جب چھتیس تک پہنچیں تو پینتالیس تک میں دو سالہ مادہ اونٹنی ہے ۶؎ پھر جب چھیالیس کو پہنچیں تو ساٹھ تک میں چار سالہ اونٹنی یعنی اونٹ کی جست کے لائق ۷؎ پھر جب اکسٹھ کو پہنچیں تو پچھتر تک میں ایک پنج سالہ اونٹنی ۸؎ پھر جب چھہتر کو پہنچیں تو نوے تک میں دو عدد دو سالہ اونٹنیاں ۹؎ پھر جب اکیانوے کو پہنچیں تو ایک سو بیس تک دو چارسالہ اونٹنیاں نر اونٹ کی جست کے لائق ۱۰؎ پھر جب ایک سو بیس سے زیادہ ہوں تو ہر چالیس میں ایک دو سالہ اونٹنی ہے اور ہر پچاس میں چار سالہ ۱۱؎ اور جس کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو اس میں زکوۃ نہیں ہاں اگر مالک چاہے ۱۲؎ جب پانچ کو پہنچیں تو اس میں ایک بکری ہے اور جس کے اونٹوں کی زکوۃ پنجسالہ اونٹنی تک پہنچے اور اس کے پاس پنجسالہ ہو نہیں بلکہ چار سالہ ہو تو اس سے چار سالہ ہی لے لی جائے اور اس کے ساتھ دو بکریاں اگر میسر ہوں یا بیس درہم۱۳؎ اور جس کے اونٹوں کی زکوۃ چہار سالہ کو پہنچے اور اس کے پاس چہار سالہ ہے ہی نہیں بلکہ پنجسالہ ہو تو اس سے پنجسالہ ہی وصول کرلی جائے اور زکوۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے ۱۴؎ اور جس کے اونٹوں کی زکوۃ چہار سالہ کو پہنچے مگر اس کے پاس دو سالہ ہی ہو تو اس سے دو سالہ ہی وصولی کرلی جائے اور مالک دو بکریاں یا بیس درہم بھی دے اور جس کی زکوۃ دو سالہ کو پہنچے مگر مالک کے پاس چہار سالہ ہو تو اس سے چہار سالہ ہی وصول کرلی جائے اور اسے عامل بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے اور جس کی زکوۃ دو سالہ کو پہنچے اور دو سالہ اس کے پاس ہو نہیں بلکہ اس کے پاس یکسالہ ہو تو اس سے یکسالہ ہی وصولی کرلی جائے اور اس کے ساتھ مالک بیس درہم یا دو بکریاں دے ۱۵؎ اور جس کی زکوۃ یکسالہ کو پہنچے اور اس کے پاس یکسالہ ہو نہیں بلکہ اس کے پاس دو سالہ ہو تو اس سے وہ ہی وصول کرلی جائے اور اس کو عامل بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے اور اگر مالک کے پاس زکوۃ کے مطابق یکسالہ مادہ ہو نہیں بلکہ اس کے پاس یکسالہ نر ہو تو اس سے وہ ہی لے لیا جائے اور اس کے ساتھ اور کچھ نہیں ۱۶؎ اور بکریوں کی زکوۃ میں ۱۷؎ یعنی جنگل میں چرنے والیوں میں جب چالیس ہوں تو ایک سو بیس تک ایک بکری ہے ۱۸؎ پھر جب ایک سو بیس سے بڑھ جائیں تو دو سو تک میں دو بکریاں ہیں اور جب دو سو سے زیادہ ہوں تو تین سو تک میں تین بکریاں ہیں جب تین سو سے زیادہ ہوجائیں تو ہر سینکڑے میں ایک بکری ہے ۱۹؎ پھر جب کسی کی جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں لیکن اگر مالک چاہے تو(خیرات دیدے)۲۰؎ اور زکوۃ میں نہ تو بڑھیا دی جائے نہ کانی ۲۱؎ اور نہ بکرا مگر یہ کہ عامل چاہے(تولے لے)۲۲؎ اور نہ تو متفرق مال کو جمع کیا جائے اور نہ زکوۃ کے ڈر سے جمع مال کو متفرق کیا جائے ۲۳؎ اور جو نصاب دو شریکوں کے درمیان ہو تو وہ آپس میں برابر برابر ایک دوسرے سے لے لیں ۲۴؎ اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکوۃ ہے اور اگر صرف ایک سو نوے درہم ہوں تو ان میں کچھ زکوۃ نہیں مگر یہ کہ مالک چاہے(تو دیدے)۲۵؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهٗ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهٗ إِلَى الْبَحْرِينِ: بِسْم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، هٰذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَالَّتِي أَمَرَ اللّٰهُ بِهَا رَسُولَهٗ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِ: فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَمَا دُونَهَا، مِنَ الْغَنَمِ مِنْ كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُوْنٍ أُنْثَى، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِيْنَ إِلَى سِّتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوْقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِيْنَ فَفِيْهَا جَذَعَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِيْنَ إِلَى تِسْعِيْنَ فَفِيْهَا بِنْتَا لَبُوْنٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدٰى وَتِسْعِينَ إِلٰى عِشْرِيْنَ وَمِئَةٍ فَفِيْهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ فَفِيْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَفِي خَمْسِينَ حِقَّةٌ،وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهٗ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيْهَا شَاةٌ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهٗ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةَ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهٗ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهٗ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيُجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةَ الْحِقَّةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةَ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُوْنٍ وَيُعْطٰى شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بَنَتَ لَبُونٍ وَعِنْدَهٗ حِقُّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيْهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بَنْتَ لَبُوْنٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ مَخَاضٍ، وَيُعْطٰى مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهٗ بَنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهٗ، وَعِنْدَهٗ بِنْتُ لَبُوْنٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ عِنْدَهٗ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلٰى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابنُ لَبُونٍ فَإِنَّهٗ يُقْبَلُ مِنْهُ، وَلَيْسَ مَعَهٗ شَيْءٌ، وَفِيْ صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِيْنَ إِلَى عِشْرِيْنَ وَمِئَةٍ شَاةٌ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ إِلَى مِئَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِئَتَيْنِ إِلَى ثَلَاثِ مِئَةٍ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِئَةٍ فَفِي كُلِّ مِئَةٍ شَاةٌ، فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَلَا تُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، وَلَا تَيْسٌ، إِلَّا مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ،وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيْطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعُشْرِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعِيْنَ وَمِئَةٍ فَلَيْسَ فِيْهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1796 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا اس زمین میں جسے آسمان یا چشمے سیراب کریں یا ہو فارغ ۱؎ اس میں دسواں حصہ ہے اور جسے پانی کھینچ کر سیراب کیا جائے اس میں بیسواں حصہ ہے ۲؎ (بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1797 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جانوروں کا زخم باطل ہے ۱؎ اور کنواں باطل ہے اور کان باطل ہے ۲؎ اور کان میں پانچواں حصہ ہے ۳؎ (مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1798 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ کی تو معافی دے دی ۱؎ مگر چاندی کی زکوۃ دو ہر چالیس میں ایک درہم ہے اور ایک سونوے میں کچھ نہیں جب دوسو کو پہنچیں تو ان میں پانچ درہم ہیں ۲؎(ترمذی و ابوداؤد)اور ابوداؤد کی ایک روایت میں حضرت حارث ابن اعور سے ہے ۳؎ وہ حضرت علی سے راوی زہیر کہتے ہیں مجھے خیال ہے حضرت علی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۴؎ کہ آپ نے فرمایا کہ چالیسواں حصہ دو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے اور تم پر کچھ نہیں حتی کہ دو سو درہم پورے ہوجائیں تو جب دو سو درہم ہوجائیں تو ان میں پانچ درہم میں جو اس پر زیادہ ہو تو اسی حساب پر ہے ۵؎ اور بکریاں میں ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری ہے ۶؎ ایک سو بیس تک کہ اگر ایک زیادہ ہوجائے تو دو بکریاں دو سو تک اگر زیادہ ہوں تو تین بکریاں تین سو تک پھر اگر تین سو پر زیادہ ہوں تو ہرسینکڑے میں ایک بکری،اگر بکریاں انتالیس ہوں تو ان کا تم پر کچھ نہیں ۷؎ اور گایوں میں ہرتیس میں ایک سالہ بچہ ہے ۸؎ اور چالیس میں دو سالہ بچہ اور کام کاج کے جانوروں میں کچھ نہیں ۹؎
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ: "قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ، مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِئَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِئَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ عَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ زُهَيْرٌ: أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَّهُ قَالَ: "هَاتُوا رُبع الْعُشْرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِئَتَيْ دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ مِئَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ، وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَشَاتَانِ إِلَى مِئَتَيْنِ،فَإِنْ زَادَتْ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِئَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِئَةٍ فَفِي كُلِّ مِئَةٍ شَاةٌ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعٌ وَثَلَاثُونَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا شَيْءٌ، وَفِي الْبقَرِ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ، وَفِي الأَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ، وَلَيْسَ عَلَى الْعَوَامِلِ شَيْءٌ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1799 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت معاذ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن میں بھیجا ۱؎ تو حکم دیا کہ گائے میں ہرتیس سے ایک سالہ نر یا مادہ وصول کریں اور ہر چالیس سے دو سالہ۲؎ (ابو داؤد،ترمذی،نسائی،دارمی)
وَعَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَمَّا وَجَّهَهٗ إِلَى الْيَمَنِ أَمْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرَةِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِيْنَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1800 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ زکوۃ میں حد سے تجاوز کرنے والا زکوۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1801 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دانوں اور کھجوروں میں زکوۃ نہیں حتی کہ پانچ وسق کو پہنچیں ۱؎(نسائی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1802 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت موسٰی ابن طلحہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت معاذ ابن جبل کی کتاب ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف سے ہے فرمایا کہ انہیں حضور نے یہ حکم دیا کہ وہ گیہوں،جو کشمش،کھجور سے زکوۃ لیں ۲؎(شرح سنہ)
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، [أَنَّهُ] قَالَ: إِنَّمَا أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ. مُرْسَلٌ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1803 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت عتاب ابن اسید سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکوۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا یوں ہی انداز ہ لگایا جائے جیسے کھجور کا لگایا جاتا ہے پھر اس کی کشمش سے یوں ہی زکوۃ دی جائے جیسے کھجور سے چھوہاروں کی دی جاتی ہے۲؎(ترمذی و ابوداؤد)
وَعَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ فِي زَكَاةِ الْكُرُوْمِ : "إِنَّهَا تُخْرَصُ كَمَا تُخْرَصُ النَّخْلُ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهٗ زَبِيبًا، كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1804 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت سہل ابن ابی حثمہ سے انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ جب تم اندازہ لگاؤ تو تہائی چھوڑ دو اگر تہائی نہ چھوڑو تو چوتھائی تو ضرور چھوڑ دو ا؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ يَقُولُ: "إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ،فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأبو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1805 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبد اللہ ابن رواحہ کو ۱؎ یہود(خیبر)کی طرف بھیجتے تھے تو وہ کھجوروں کا اندازہ لگاتے تھے پکنے کے وقت کھائے جانے سے پہلے ۲؎ (ابوداؤد)۳؎
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَبْعَثُ عَبْدَ اللّٰهِ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى يَهُودٍ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ، قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1806 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کے بارے میں کہ ہر دس مشک میں ایک مشک ہے ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ اس کی اسناد میں کلام ہے اور اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ زیادہ منقول نہیں ۲؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "فِي الْعَسَلِ فِي كُلِّ عَشْرَةِ أَزُقِّ زِقٌّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَلَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي هَذَا الْبَابِ كَثِيرُ شَيْءٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1807 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت زینب زوجہ عبد اللہ(ابن مسعود) سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا فرمایا کہ اے بیبیو خیرات دو اگرچہ اپنے زیور ہی سے ہو کیونکہ قیامت میں تم زیادہ دوزخی ہوگی ۱؎(ترمذی)۲؎
وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "يَا مَعْشَر النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ،فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1808 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ دو عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن (کڑے)تھے ان سے حضور انور نے فرمایا کہ تم ان کی زکوۃ دیتی ہو ۱؎ وہ بولیں نہیں تب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللہ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ۲؎ وہ بولیں نہیں فرمایا تو ان کی زکوۃ دیا کرو(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث مثنی ابن صباح نے روایت کی عمرو ابن شعیب سے اس کی مثل اور مثنی ابن صباح اور ابن لہیعہ حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں اور اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ۳؎
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَفِي أَيْدِيهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُمَا: "أَ تُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ؟ " قَالَتَا: لَا. فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّركُمَا اللَّهُ بِسِوَاريْنِ مِنْ نَارٍ؟ " قَالَتَا: لَا، قَالَ: "فَأَدِّيَا زَكَاتَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَى الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ هَذَا، وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ. وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- شَيْءٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1809 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ میں سونے کے کنگن پہناکرتی تھی میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ بھی خزانہ کرنا ہے ۱؎ فرمایا جو وجوب زکوۃ کی حدکو پہنچے تو تم اس کی زکوۃ دیتی رہو تو خزانہ نہیں ۲؎(مالک وابوداؤد)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: "مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1810 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ اس مال کی زکوۃ دیں جو تجارت کے لیے رکھتے ہیں ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1811 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت ربیعہ ابن ابی عبدالرحمن سے وہ چند راویوں سے راوی ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال ابن حارث مزنی کو ۲؎ قبیلہ کی کانیں جاگیر دیں۳؎ قبیلہ مقام فرع کے اطراف میں واقع ہے تو ان کانوں سے آج تک زکوۃ کے سوا کچھ نہیں لیا جاتا ہے ۴؎ (ابوداؤد)
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَقْطَعَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنيِّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ، وَهِيَ مِنْ ناحِيَةِ الْفُرْعِ، فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا تُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1812 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
روایت ہے حضرت علی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ تو سبزیوں میں زکوۃ ۱؎ ہے اور نہ عرایا(عاریۃً)میں ۲؎ اور نہ پانچ وسق سے کم میں زکوۃ ۳؎ ہے نہ کام کاج کے جانوروں میں زکوۃ ہے ۴؎ اور نہ پیشانیوں میں،امام صقر نے فرمایا کہ پیشانی سے مراد گھوڑے اور خچر اور غلام ہیں ۵؎ (دارقطنی)
عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ، وَلَا فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ، وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِي الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ، وَلَا فِي الْجَبْهَةِ صَدَقَةٌ"، قَالَ الصَّقْرُ: الْجَبْهَةُ الْخَيْلُ وَالْبِغَالُ وَالْعَبِيدُ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1813 ، باب: کس چیز میں زکوۃ واجب ہے
- 1
- 2