- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ برابر سونا ہو تو مجھے یہ اچھا لگے گا کہ تین راتیں ایسی نہ گزریں کہ جن میں اس سونے سے کچھ بھی میرے پاس ہو بجز اتنے کے جسے ادائے قرض کے لیے رکھوں ۱؎(بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1859 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی دن نہیں جس میں بندے سویرا کریں اور دو فرشتے نہ اتریں جن میں سے ایک تو کہتا ہے الٰہی سخی کو زیادہ اچھا عوض دے اور دوسرا کہتا ہے الٰہی بخیل کو بربادی دے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ أعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُولُ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تلفا " مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1860 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت اسماء سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب خرچ کرو مت گنو ورنہ اللہ تعالٰی بھی شمار فرمائے گا ۱؎ اور نہ بچاؤ ورنہ اللہ بھی تم سے بچائے گا جتنا کرسکتی ہو راہِ خدا میں دو ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَنْفِقِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللّٰهُ عَلَيْكِ، وَلَا تُوْعِيْ فَيُوْعِيَ اللّٰهُ عَلَيْكِ، ارْضَخِيْ مَا اسْتَطَعْتِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1861 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالٰی نے فرمایا ہے اے انسان خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ أُنْفِقْ عَلَيْكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1862 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالٰی فرماتا ہے ۱؎ اے انسان اگر تو بجا مال خرچ کردے تیرے لیے اچھا ہے اور اگر تو اسے روک رکھے تو تیرے لیے برا ہے ۲؎ اور بقدرضرورت پر ملامت نہیں اور اپنے عیال سے ابتدا کر۳؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَا ابْنَ آدَمَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ، وَأَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1863 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں ۱؎جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں۲؎ سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1864 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا ۱؎ اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کردیا کنجوسی نے انہیں رغبت دی کہ انہوں نے خون ریزی کی حرام کو حلال جانا ۲؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اتَّقُوا الظُّلْمَ؛ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ،حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1865 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت حارثہ ابن وہب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا ۲؎ کہ کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر چلے گا تو کوئی اس کا قبول کرنے والا نہ ملے گا آدمی کہیں گے کہ اگر تم کل لاتے تو میں لے لیتا آج مجھے اس کی ضرورت نہیں ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا، يَقُولُ الرَّجُلُ: لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا" مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1866 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ کون سے صدقہ کا بڑا ثواب ہے ۱؎ فرمایا یہ کہ تم اپنی تندرستی اور بخل کی حالت میں صدقہ کرو جب کہ تمہیں فقیری کا ڈر اور امیری کی امید ہو۲؎ اور اتنی دیر نہ لگاؤ کہ جب جان گلے میں پہنچے تو تم کہو کہ فلاں کو اتنا دینا اور فلاں کو اتنا۳؎ حالانکہ وہ فلاں کا ہو ہی چکا ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: "أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْغِنَى، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1867 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا حضور کعبہ کے سایہ میں جلوہ گر تھے جب حضور نے مجھے دیکھا تو فرمایا رب کی قسم وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں ۱؎ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا وہ کون لوگ ہیں فرمایا بڑے مالدار لوگ بجز اس کے جو یوں اور یوں اور یوں دے۲؎ یعنی آگےپیچھے دائیں بائیں اور وہ ہیں بہت تھوڑے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي ذَرِّ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: "هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" فَقُلْتُ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مَنْ هُمْ؟ قَالَ: "هُمُ الأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا؛ مِنْ بَين يَدَيْهِ وَمن خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِيْنِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1868 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
ر وایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سخی اللہ سے قریب ہے جنت سے قریب ہے لوگوں سے قریب ہے آگ سے دور ہے ۱؎ اور کنجوس اللہ سے دور ہے جنت سے دور ہے لوگوں سے دور ہے آگ کے قریب ہے اور یقینًا جاہل سخی کنجوس عابد سے افضل ہے ۲؎(ترمذی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللّٰهِ،قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ. وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللّٰهِ، بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ. وَلَجَاهِلٌ سَخِيٌّ أَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ مِنْ عَابِدٍ بَخِيلٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1869 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان کا اپنی زندگی میں ایک درہم خیرات کرنا مرتے وقت سو خیرات کرنے سے بہتر ہے ۱؎ (ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِئَةٍ عِنْدَ مَوْتِهِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1870 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کی مثال جو مرتے وقت خیرات یا آزاد کرے اس کی سی ہے جو اپنے پیٹ بھر جانے پر کسی کو ہدیہ دے ۱؎ (احمد،نسائی،دارمی،ترمذی نے اسےصحیح کہا)
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ أَوْ يُعْتِقُ كَالَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبعَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1871 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن میں دو خصلتیں کبھی جمع نہیں ہوتیں کنجوسی اور بدخلقی ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ: الْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1872 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں نہ تو فریبی آدمی جائے نہ کنجوس نہ احسان جتلانے والا ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ خِبٌّ وَلَا بَخِيلٌ وَلَا مَنَّانٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1873 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کی بدترین خصلت گھبراہٹ والی کنجوسی اور ڈر والی بزدلی ہے ۱؎ (ابوداؤد)ہم حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیثلَا يَجْتَمعُالخ"كِتَابِ الْجِهَاد"میں بیان کریں گے۔ان شاء الله تعالٰی!
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "شَرُّ مَا فِي الرَّجُلِ شُحٌّ هَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: "لَا يَجْتَمعُ الشُّحُّ وَالإِيمَانُ" فِي "كِتَابِ الْجِهَاد" إِن شَاءَ اللَّهُ تَعَالٰى.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1874 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم سب میں پہلے آپ سے کون ملے گی ۱؎ فرمایا تم میں لمبے ہاتھ والی ۲؎ انہوں نے بانس لے کر ہاتھ ناپنے شروع کردیئے ۳؎ تو حضرت سودہ دراز ہاتھ نکلیں بعد میں معلوم ہوا کہ درازیٔ ہاتھ سے مراد صدقہ خیرات تھی ہم سب میں پہلے حضور کے پاس زینب سدھاریں اور وہ سرکار خیرات بہت پسند کرتی تھیں ۴؎ (بخاری)مسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے پہلےمجھے وہ ملے گی جو لمبے ہاتھ والی ہو فرماتی ہیں کہ ازواج پاک جھگڑتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں فرماتی ہیں ہم سب میں لمبے ہاتھ والی زینب ہی ہیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتی تھیں اور خیرات کرتی تھیں ۵؎
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاج النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قُلْنَ لِلنَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَيَّتُنَا أَسْرعُ بِكَ لُحُوقًا؟ قَالَ: "أَطْوَلُكُنَّ يَدًا" فَأَخَذوا قَصَبَةً يَذْرَعُونها، وَكَانَت سَوْدَةُ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا، فَعَلِمْنَا بَعْدُ أَنَّمَا كَانَ طُولُ يَدِهَا الصَّدَقَةَ، وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ زينَبُ،وكَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَسْرَعكُنَّ لُحُوقًا بِي أَطْوَلكُنَّ يَدًا". قَالَتْ: وَكَانَتْ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا، قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ، لأَنَّهَا كَانَت تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّقُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1875 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی بولا میں خیرات کروں گا ۱؎ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو کسی چور کے ہاتھ میں دے دیا ۲؎ لوگ صبح کو چرچا کرنے لگے کہ آج رات چور کو خیرات دی گئی وہ بولا الٰہی تیرا شکر ہے چور پر صدقہ۳؎ اب پھر صدقہ کروں گا وہ اپنا صدقہ لےکر نکلا تو ایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا ۴؎ لوگ صبح کو چرچا کرنے لگے کہٍ آج رات زانیہ کو صدقہ دیاگیا۵؎ وہ بولا الٰہی تیرا شکر ہے کیا زانیہ کو خیرات میں اور صدقہ کروں گا پھر وہ اپنا صدقہ لے کر چلا تو کسی مالدار کے ہاتھ میں دے دیا ۶؎ لوگ صبح کو چرچا کرنے لگے کہ آج رات غنی کو صدقہ دیا گیا ۷؎ وہ بولا الٰہی تیرا شکر ہی ہے کیا چور پر زاینہ پر اور غنی پر ۸؎ اسے جواب میں کہا گیا کہ الٰہی تیری رحمت خیرات چور پر تو شاید وہ چور چوری سے باز رہے لیکن زاینہ تو شاید وہ زنا سے باز رہے لیکن غنی تو شاید وہ عبرت پکڑے اور اللہ کے دیئے میں سے کچھ خیرا ت کرے ۹؎(مسلم، بخاری)لفظ بخاری کے ہیں۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "قَالَ رَجُلٌ: لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، عَلَى سَارِقٍ؟ ! لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، عَلَى زَانِيَةٍ؟ ! لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، عَلَى سَارِق وزَانِيَة وغَنِيٍّ؟ فَأُتِيَ، فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ عَلَى سَارِقٍ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعِفَّ عَنْ سَرِقَتِهِ، وَأَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ عَنْ زِنَاهَا، وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقَ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1876 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے انہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ ایک شخص کسی زمین کے جنگل میں تھا اس نے بادل میں آواز سنی ۱؎ کہ فلاں کے باغ کو سیراب کر یہ بادل ایک طرف گیا اور پتھریلی زمین پر پانی برسایا ۲؎ تو نالیوں میں سے ایک نالی نے یہ سارا پانی جمع کرلیا تب یہ شخص اس پانی کے پیچھے چل دیا دیکھا کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا ہوا بیلچے سے پانی باغ میں پھیر رہا ہے۳؎ اس سے پوچھا کہ اے اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے وہ بولا فلاں یعنی وہ ہی نام جو اس نے بادل میں سنا تھا۴؎ اس نے پوچھا اے اللہ کے بندے تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے تویہ بولا کہ میں نے اس بادل میں جس کا یہ پانی ہے ایک آواز سنی تھی کہ کوئی تیرا نام لے کر کہہ رہا تھا کہ فلاں کے باغ کو سیراب کرو تو تو اس میں کیا نیکی کرتا ہے ۵؎ وہ بولا کہ جب تو پوچھتا ہے تو بتاتا ہوں کہ میں اس باغ کی پیداوار میں غور کرتا ہوں تو تہائی خیرات کردیتا ہوں اور تہائی میں اور میرے بال بچے کھاتے ہیں اورتہائی اس میں دوبارہ خرچ کردیتا ہوں ۶؎(مسلم)
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ، فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ، يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَان -الاسْمُ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ- فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ! لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي؟فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ، وَيَقُول: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِكَ، فَمَا تَصْنعُ فِيهَا؟ قَالَ: أَمَّا إِذَا قُلْتَ هَذَا فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1877 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے کوڑھی گنجا اور اندھااللہ تعالٰی نے ان کا امتحان لینا چاہا ۱؎تو ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا کوڑھی کے پاس آیا بولا تجھے کیا چیز پسند ہے وہ بولا اچھا رنگ اوراچھی کھال اور یہ بیماری جاتی رہے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں ۲؎حضور نے فرمایا کہ فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی اور اسے اچھا رنگ اچھی کھال دیدی گئی۳؎فرشتہ بولا تجھے کون سا مال پسند ہے وہ بولا اونٹ یا حضور نے فرمایا گائے،اسحاق کو شک ہے مگر کوڑھی اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کہا تھا اور دوسرے نے گائے ۴؎فرمایا کہ اسے گیابھن اونٹنی دے دی گئی فرشتے نے کہا اللہ تجھے اس میں برکت دے ۵؎فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ تجھے کیا چیز پسند ہے وہ بولا اچھے بال اور یہ کہ میری بیماری جاتی رہے جس سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں فرمایا کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی گنج جاتی رہی فرمایا کہ اسے اچھے بال دے دیئے گئے ۶؎پوچھا تجھے کون سا مال پسند ہے بولا گائے تو اسے گیابھن گائے دی اور کہا کہ اللہ تجھے اس میں برکت دے فرمایا پھر وہ اندھے کے پاس پہنچا کہا تجھے کون سی چیز پسند ہے وہ بولا کہ اللہ مجھے میری آنکھیں لوٹا دے جس سے میں لوگوں کو دیکھوں فرمایا کہ اس نے اندھے پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اس کی بینائی لوٹا دی۷؎پھر پوچھا کہ تجھے کون سا مال پسند ہے کہا بکریاں اسے گیابھن بکری دے دی پھر ان دونوں جانوروں نے بچے دیئے اور یہ بھی بیاہی تو اس کے پاس اونٹوں کا جنگل ہوگیا اور اس کے پاس گایوں کا جنگل اور اس کے پاس بکریوں کا جنگل ۸؎فرمایا پھر فرشتہ کوڑھی کے پاس اپنی اسی شکل و صورت میں آیا۹؎بولا مسکین آدمی ہوں بحالت سفر میرے سارے اسباب جاتے رہے ۱۰؎تو اب اللہ کی توفیق پھر تیری مدد کے بغیر گھر نہیں پہنچ سکتا ۱۱؎میں تجھ سے اس خدا کے نام پر ایک اونٹ مانگتا ہوں جس نے تجھے اچھا رنگ اچھی کھال اور مال دیا تاکہ میں اپنے سفر میں مقصد پر پہنچ جاؤں۱۲؎تو وہ بولا کہ حقوق مجھ پر بہت ہیں ۱۳؎فرشتہ بولا میں شاید تجھے پہچانتا ہوں تو کوڑھی فقیر نہ تھا؟ کہ تجھ سے لوگ گھن کرتے تھے پھر تجھے اللہ نے مال دیا وہ بولا کہ میں تو اس مال کا پشت درپشت وارث ہوا ہوں ۱۴؎فرشتہ بولا کہ اگر تو جھوٹا ہو تو اللہ تجھے جیساتھا ویسا ہی کردے ۱۵؎فرمایا پھر فرشتہ گنجے کے پاس اسی صورت میں آیا اس سے وہی کہا جو کوڑھی سے کہا تھا اور اس نے ویسا ہی جواب دیا جو اس نے دیا تھا ۱۶؎فرشتہ بولا اگر تو جھوٹا ہو تواللہ تجھے ویسا ہی کردے جیسا تو تھا فرمایا پھر وہ اپنی شکل و صورت میں اندھے کے پاس آیا بولا مسکین و مسافر ہوں میرے سفر میں اسباب منقطع ہوچکے ہیں آج خدا تعالٰی کی پھر تیری مدد کے بغیر میں منزل تک نہیں پہنچ سکتا۱۷؎میں تجھ سے اس اللہ کے نام جس نے تجھے آنکھیں لوٹائیں ایک بکری مانگتا ہوں جس کے ذریعہ اپنے سفر میں گھر پہنچ سکوں ۱۸؎وہ بولا میں اندھا تھا اللہ نے مجھے روشنی لوٹائی تو جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے رب کی قسم آج تو جو کچھ اللہ کے نام پر لے گا میں تجھے اس سے منع نہ کروں گا ۱۹؎فرشتہ بولا اپنا مال رکھ تم سب کی آزمائش کی گئی ہےتجھ سے رب راضی ہوا اور تیرے دو یاروں سے ناراض ۲۰؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ أَنَّهُ سَمعَ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: "إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ، وَأَقْرَعَ، وَأَعْمَى، فَأَرَادَ اللّٰهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَأَتَى الأَبْرَصَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ ! قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ، وَجِلْدٌ حَسَنٌ، وَيَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَني النَّاسُ"، قَالَ: "فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ، وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الإبِلُ -أَوْ قَالَ: الْبَقَرُ شَكَّ إِسْحَاقُ- إِلَّا أَنَّ الأَبْرَصَ أَوِ الأَقْرَعَ قَالَ أَحَدُهُمَا: الإِبِلُ، وَقَالَ الآخَرُ: الْبَقَرُ، قَالَ: فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ، فَقَالَ: بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ فِيهَا". قَالَ: "فَأَتَى الأَقْرَعَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ: شَعَرٌ حَسَنٌ، وَيَذْهَبُ عَنِّي هٰذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ". قَالَ: "فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ"، قَالَ: "وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْبَقَرُ، فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا، قَالَ: بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ فِيهَا"، قَالَ: "فَأَتَى الأَعْمَى فَقَالَ:أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: أَنْ يَرُدَّ اللّٰهُ إِلَيَّ بَصَرِي، فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ". قَالَ: "فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللّٰهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْغَنَمُ، فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا.
فَأَنْتَجَ هٰذَانِ، وَولَّد هٰذَا، فَكَانَ لِهٰذَا وَادٍ مِنَ الإِبِلِ، وَلِهٰذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ، وَلِهٰذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ". قَالَ:"ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الأَبْرَصَ فِي صُوْرَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلَا بَلاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللّٰهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ بِهِ فِي سَفَرِي، فَقَالَ: الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَأَنِّي أَعْرِفُكَ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ، فَقِيرًا فَأَعْطَاكَ اللّٰهُ مَالًا؟ فَقَالَ: إِنَّمَا وُرِّثْتُ هٰذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللّٰهُ إِلَى مَا كُنْتَ". قَالَ: "وَأَتَى الأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ لَهٗ مِثْلَ مَا قَالَ لِهٰذَا، وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَى هٰذَا، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللّٰهُ إِلَى مَا كُنْتَ". قَالَ: "وَأَتَى الأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ، انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللّٰهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللّٰهُ إِلَيَّ بَصَرِي، فَخُذْ مَا شِئْتَ، وَدَعْ مَا شِئْتَ، فَوَاللّٰهِ لَا أُجْهِدُكَ الْيَوْم شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ، فَقَالَ: أَمْسِكْ مَالَكَ، فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ، فقد رَضِيَ عَنْكَ وَسَخَطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1878 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی
- 1
- 2