باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی

زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

۱∞روایت ہے حضرت ام بجید سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی غریب میرے دروازہ پر کھڑا ہوتاہے حتی کہ میں شرما جاتی ہوں ۲؎اور اپنے گھر میں کچھ پاتی نہیں جو اس کے ہاتھ میں دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ہاتھ میں کچھ ضرور دے دو اگرچہ جلی کھری ہو۳؎(احمد،ابوداؤد، ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

وَعَنْ أُمِّ بُجَيْدٍ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقِفُ عَلَى بَابِي حَتَّى أَسْتَحْيِيَ، فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أَدْفَعُ فِي يَدِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ادْفَعِي فِي يَدِهِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.وقال ھذا حدیث حسن صحیح

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1879 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی

۱∞روایت ہے حضرت عثمان کے غلام سے فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ کو گوشت کا پارچہ ہدیہ بھیجا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت مرغوب تھا تو انہوں نے خادم سے فرمایا ۱؎کہ اسے گھر میں رکھ چھوڑو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھائیں خادمہ نے وہ طاق میں رکھ دیا ایک سائل آیا دروازہ پر کھڑا ہوا بولا اللہ تمہیں برکت دے ۲؎کچھ خیرات کرو گھر والوں نے کہا اللہ تجھے برکت دے سائل چلا گیا۳؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا اے ام سلمہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو ہم کھائیں ۴؎عرض کیا ہاں خادمہ سے بولیں جاؤ وہ گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لاؤ وہ گئیں تو طاق میں پتھر کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہ پایا ۵؎تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چونکہ تم نے سائل کو گوشت نہ دیا اس لیے وہ گوشت کا پتھر بن گیا۶؎(بیہقی،دلائل النبوۃ)

وَعَنْ مَوْلًى لِعُثْمَانَ قَالَ: أُهْدِيَ لأُمِّ سَلَمَةَ بُضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُعْجِبُهُ اللَّحْمُ، فَقَالَتْ لِلْخَادِمِ: ضَعِيهِ فِي الْبَيْتِ، لَعَلَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَأْكُلُهٗ، فَوَضَعَتْهُ فِي كَوَّةِ الْبَيْتِ، وَجَاءَ سَائِلٌ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: تَصَدَّقُوا، بَارَكَ اللّٰهُ فِيكُمْ، فَقَالُوا: بَارَكَ اللّٰهُ فِيكَ. فَذَهَبَ السَّائِلُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "يَا أُمَّ سَلَمَةَ! هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ أَطْعَمُهُ؟ ". فَقَالَتْ: نَعَمْ. قَالَتْ لِلْخَادِمِ: اذْهَبِي فَأتِي رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِذَلِكِ اللَّحْم. فَذَهَبَتْ فَلَمْ تَجِدْ فِي الْكَوَّةِ إِلَّا قِطْعَةَ مَرْوَةٍ، فَقَالَ النَّبِي -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "فَإِنَّ ذَلِك اللَّحْمَ عَادَ مَرْوَةً لِمَا لَمْ تُعْطُوهُ السَّائِلَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِل النُّبُوَّةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1880 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں بدتر درجہ والے آدمی کی خبر نہ دوں عرض کیا گیا ہاں فرمایا وہ جس سےاللہ کے نام پر مانگا اور نہ دے ۱؎(احمد)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -رضي اللّٰه عنهما- قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: الَّذِي يُسْأَلُ بِاللّٰهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1881 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی

۱∞روایت ہے حضرت ابو ذر سے انہوں نے حضرت عثمان کی خدمت میں حاضری کی اجازت مانگی مل گئی ابو ذر کے ہاتھ میں ان کی لاٹھی تھی ۱؎حضرت عثمان نے کہا اے کعب عبدالرحمن کی وفات ہوئی انہوں نے بہت مال چھوڑا ۲؎اس بارے میں تمہاری رائے کیا ہے فرمایا کہ اگر اس میں اللہ کا حق ادا کرتے ہوں تو کوئی حرج نہیں ۳؎تب ابو ذر نے لاٹھی اٹھاکر کعب کو ماری۴؎اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اس پہاڑ برابر سونا ہو جسے میں خیرات کروں اور وہ قبول ہوجائے کہ اس سے چھ اوقیہ اپنے پیچھے چھوڑ دوں ۵؎اے عثمان تمہیں اللہ کی قسم کیا تم نے حضور کو یہ کہتے سنا(تین بار فرمایا)آپ نے کہا ہاں ۶؎(احمد)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُثْمَانَ، فَأَذِنَ لَهُ، وَبِيَدِهِ عَصَاهُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا كَعْبُ! إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مَالًا فَمَا تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَصِلُ فِيهِ حَقَّ اللّٰهِ فَلَا بَأْسَ عَلَيْهِ. فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاهُ فَضَرَبَ كَعْبًا وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: "مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِي هٰذَا الْجَبَلَ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ وَيُتَقَبَّلُ مِنِّي أَذَرُ خَلْفِي مِنْهُ سِتَّ أَوَاقِيَّ". أَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ يَا عُثْمَانُ! أَسَمِعْتَهُ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1882 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی

روایت ہے حضرت عقبہ ابن حارث سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مدینہ منورہ میں نماز عصر پڑھی آپ نے سلام پھیرا پھر تیزی سے کھڑے ہوئے ۱؎لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے بعض بیویوں کے حجرے میں تشریف لے گئے ۲؎لوگ حضور کی جلدی سے گھبرا گئے پھر واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ آپ کی جلدی سے تعجب کررہے ہیں ۳؎فرمایا مجھے اپنے پاس سونے کا پترا یاد آگیا تو مجھے یہ ناپسند ہوا کہ وہ مجھے مشغول کرے میں نے اس کے تقسیم کردینے کا حکم دے دیا ۴؎بخاری کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ فرمایا میں نے گھر میں صدقہ کا پترا چھوڑا تھا تو رات کو اپنے گھر میں رکھنا ناپسند کیا ۵؎

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا، فَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَرَأَى أَنَّهُمْ قَدْ عَجِبُوا مِنْ سُرْعَتِهِ، قَالَ: "ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي، فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ قَالَ: "كُنْتُ خَلَّفْتُ فِي الْبَيْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَةِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُبَيِّتَهُ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1883 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی

۱∞روایت ہے حضرت عائشہ سے آپ فرماتی ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مرض میں آپ کے میرے پاس چھ یا سات دینار تھے ۱؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بانٹ دینے کا حکم دیا لیکن حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے مجھے اس کی فرصت نہ دی پھرحضور نے اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا کہ ان چھ سات دینار کا تم نے کیا کیا میں نے عرض کیا اللہ کی قسم آپ کی بیماری نے مشغول رکھا آپ نے وہ منگایا اسے اپنے ہاتھ پر رکھا فرمایا کہ اللہ کے نبی کا خیال ہے اللہ سے اس حال میں ملے کہ یہ اس کے پاس ہو۲؎(احمد)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عِنْدِي فِي مَرَضِهِ سِتَّةُ دَنَانِيرَ أَوْ سَبْعَةٌ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنْ أُفَرِّقَهَا، فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيِّ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا: "مَا فَعَلَتِ السِّتَّةُ أَوِ السَّبْعَةُ؟ " قُلْتُ: لَا وَاللّٰهِ، لَقَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ، فَدَعَا بِهَا، ثُمَّ وَضَعَهَا فِي كَفِّهِ، فَقَالَ: "مَا ظَنُّ نبِيِّ اللّٰهِ لَوْ لَقِيَ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ؟ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1884 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال کے پاس تشریف لائے ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر تھا فرمایا اے بلال یہ کیا عرض کیا کہ اسے میں نے کل کے لیے جمع کیا ہے فرمایا کیا تمہیں اس سے خوف نہیں کہ تم کل اس کے سبب دوزخ کی آگ میں بخار قیامت کے دن دیکھو ۱؎اے بلال خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا خطرہ نہ کرو۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ، وَعِنْدَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ: "مَا هٰذَا يَا بِلَالُ؟ " قَالَ: شَيْءٌ ادَّخَرْتُهُ لِغَدٍ. فَقَالَ: "أَمَا تَخْشَى أَنْ تَرَى لَهٗ غَدًا بُخَارًا فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَنْفِقْ بِلَالُ! وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1885 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سخاوت جنت میں ایک درخت ہے جو سخی ہوا اس نے اس درخت کی شاخ پکڑلی ۱؎وہ شاخ اسے نہ چھوڑے گی حتی کہ اسے جنت میں داخل کردے گی ۲؎اور بخل آگ میں درخت ہے جو بخیل ہوا اس نے اس کی شاخ پکڑی وہ اسے نہ چھوڑے گی حتی کہ آگ میں داخل کرے گی۳؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "السَّخَاءُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ، فَمَنْ كَانَ سَخِيًّا أَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْهَا فَلَمْ يَتْرُكْهُ الْغُصْنُ حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ. وَالشُّحُّ شَجَرَةٌ فِي النَّارِ، فَمَنْ كَانَ شَحِيْحًا أَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْهَا فَلَمْ يَتْرُكْهُ الْغُصْنُ حَتَّى يُدْخِلَهُ النَّارَ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1886 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ میں جلدی کرو ۱؎کہ بلاء اس سے آگے نہیں بڑھتی ۲؎(رزین)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "بَادِرُوا بِالصَّدَقَةِ؛ فَإِنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتَخَطَّاهَا". رَوَاهُ رَزِينٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1887 ، باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی