باب: بہترین صدقہ

زکوۃ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور حکیم ابن حزام سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو قوت غنا سے ہو ۱؎اور ان سے ابتداءکرو جن کی تم پرورش کرتے ہو۲؎(بخاری) اور مسلم نے صرف حکیم سے روایت کی۔

عَنْ أَبِي هُريرَةَ وَحَكِيم بْنِ حِزَامٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَأبْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ وَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ حَكِيمٍ وَحْدَهُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1929 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت ابومسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب مسلمان اپنے گھر والوں پر ثواب کی طلب میں خرچ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهٗ صَدَقَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1930 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اشرفی تو اللہ کی راہ میں خرچ کرے ۱؎اور جو اشرفی تو گردن آزاد کرنے میں خرچ کردے ۲؎اور جو اشرفی تو کسی مسکین پر صدقہ کرے اور جو اشرفی تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ان سب میں زیادہ ثواب اس کا ہے جو تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَدِيْنَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1931 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین اشرفی جو آدمی خرچ کرتاہے وہ اشرفی ہے جسے اپنے بال بچوں پر خرچ کرے اور وہ اشرفی ہے جسے اپنے اللہ واسطے کے گھوڑے پر خرچ کرے ۱؎اور وہ اشرفی ہے جسے اللہ کی راہ میں اپنے دوستوں پر خرچ کرے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1932 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر جو گویا میرے ہی بچے ہیں خرچ کروں تو کیا مجھے ثواب ملے گا فرمایا ان پر خرچ کرو تمہیں ان پر خرچ کا ثواب ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَلِيَ أَجْرٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟ إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ، فَقَالَ: "أَنَفِقِي عَلَيْهِمْ فَلَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1933 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت زینب زوجہ عبد اللہ ابن مسعود سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی ہو ۱؎فرماتی ہیں میں عبد اللہ کی طرف لوٹی ہوئی بولی کہ تم کچھ مسکین و تنگدست ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو صدقہ کا حکم دیا ہے تم وہاں حاضر ہو کر پوچھ آؤ اگر تم کو میرا صدقہ کرنا درست ہوا تو خیر ۲؎ورنہ میں آپ لوگوں کے سواء کسی اور جگہ خرچ کروں ۳؎فرماتی ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بولے کہ تم ہی وہاں جاؤ ۴؎میں چلی تو حضور کے دروازہ پاک پر ایک اور انصاری بی بی بھی تھیں جنہیں میرے جیسا ہی کام تھا ۵؎فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم پر قدرتی ہیبت دی گئی تھی۶؎فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس حضرت بلال آئے ہم نے ان سے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ عرض کرنا کہ دروازے پر دو بیبیاں ہیں جو حضور سے پوچھتی ہیں ۷؎کہ کیا ان کا اپنے خاوندوں اور یتیموں پر خرچ کر دینا جو ان کی پرورش میں ہوں صدقہ بن جائے گا ۸؎اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں ۹؎فرماتی ہیں کہ حضرت بلال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ پوچھا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کون ہیں عرض کیا کہ ایک انصاری بی بی اور زینب ہیں ۱۰؎فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسی زینب عرض کیا عبداللہ کی زوجہ ۱۱؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں دو ہرا ثواب ہے ایک ثواب قرابت کا دوسرا صدقہ کا ۱۲؎(مسلم،بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں۔

وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ" قَالَتْ: فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللّٰهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ، فَإِنْ كَانَ ذٰلِكَ يُجْزِئُ عَنِّي وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ، قَالَت: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللّٰهِ: بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، حَاجَتِيْ حَاجَتُهَا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ. فَقَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ، فَقُلْنَا لَهُ: ائْتِ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِكَ: أتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا؟ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ. قَالَتْ: فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ هُمَا؟ " قَالَ: امْرَأةٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"أَيُّ الزَّيَانِبِ؟ ". قَالَ: امْرَأةُ عَبْدِ اللّٰهِ، فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَهُمَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظ لِمُسْلِمٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1934 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت میمونہ بنت حارث سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک لونڈی آزاد کی پھر رسول اللہ سے اس کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ اگر تم لونڈی اپنے مامؤوں کو دے دیتیں تو تمہیں بڑا ثواب ملتا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَذَكَرَتْ ذٰلِكَ لِرَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1935 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسولمیرے دو پڑوسی ہیں ان میں سے کسے ہدیہ دیا کروں فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو ۱؎(بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَت: يَا رَسُول اللّٰه! إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قَالَ:"إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1936 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب شوربہ پکاؤ تو اس کا پانی زیادہ کرو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1937 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے انہوں نے عرض کیا یا رسولکونسا صدقہ بہتر ہے فرمایا غریب آدمی کی مشقت ۱؎اور ان سے شروع کرو جن کی پرورش کرتے ہو۲؎(ابوداؤد)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "جُهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1938 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت سلیمان ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور وہ ہی صدقہ اپنے قرابت دار پر دو صدقے ہیں ایک صدقہ دوسرا صلہ رحمی ۱؎(احمد،ترمذی،نسائی، ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِم ثِنْتَانِ:صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1939 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میرے پاس ایک اشرفی ہے ۱؎فرمایا اسے اپنے پر خرچ کر۲؎عرض کیا میرے پاس دوسری بھی ہے فرمایا اسے اپنے بچوں پر خرچ کر عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے فرمایا اسے اپنے گھر والوں ۳؎پر خرچ کر عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے فرمایا اسے اپنے خادم پر خرچ کر ۴؎عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے فرمایا تم جانو۵؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ، قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: "أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: "أَنْتَ أَعْلَمُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1940 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تمہیں بہترین آدمی نہ بتاؤں ۱؎وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے رہے ۲؎کیا تمہیں نہ بتاؤں کہ اس کے بعدکون ہے وہ شخص ہے جو اپنی بکریوں میں رہے ان میں سے اللہ کا حق ادا کرتا رہے ۳؎کیا میں تمہیں بدترین آدمی نہ بتاؤں وہ شخص ہے جو اللہ کے نام پر مانگا جائے اور اس پر بھی نہ دے۴؎(ترمذی،نسائی، دارمی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ؟رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَتْلُوهُ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهٗ يُؤَدِّي حَقَّ اللّٰهِ فِيهَا. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ؟ رَجُلٌ يُسْأَلُ بِاللّٰهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1941 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے ام بجید سے ۱؎فرماتی ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سائل کو دے کر لوٹاؤ اگرچہ جلی کھری ہی ہو ۲؎(مالک،نسائی)اورترمذی و ابوداؤد نے اس کے معنے روایت کئے۔

وَعَنْ أُمِّ بُجَيْدٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ مَعْنَاهُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1942 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو تم سے اللہ کی پناہ لے اسے پناہ دے دو ۱؎اور جو اللہ کے نام پر مانگے اسے کچھ دو اور جوتمہیں دعوت دے اس کی دعوت قبول کرو ۲؎اور جو کوئی تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ کرو ۳؎اگر بدلہ کی چیز نہ پاؤ تو اس کو دعائیں دو ۴؎حتی کہ سمجھ لو کہ تم نے اس کا بدلہ کردیا ۵؎(احمد،ابوداؤد، نسائی)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنِ اسْتَعَاذَ مِنْكُمْ بِاللّٰهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَ بِاللّٰهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ فَادْعُوا لَهٗ حَتَّى تُرَوْا أَنْ قَدْ كَافَأتُمُوهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1943 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ نے کہ اللہ کے نام پر صرف جنت ہی مانگی جائے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يُسْأَلُ بِوَجْهِ اللّٰهِ إِلَّا الْجَنَّةُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1944 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ مدینہ میں تمام انصار سے زیادہ باغوں والے تھے اور انہیں زیادہ پیارا مال باغ بیرحاء تھا ۱؎جو مسجد شریف کے سامنے تھا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں کا بہترین پانی پیتے تھے ۲؎حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ"الخ نازل ہوئی ۳؎تو حضرت ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کھڑے ہوکر بولے یا رسول اللہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ تم بھلائی اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنا پسندیدہ مال خرچ نہ کرو اور مجھے بہت پسندیدہ مال باغ بیرحاء ہے اب وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے میں اللہ کے پاس اس کا ثواب اور اس کا ذخیرہ چاہتا ہوں۴؎یا رسول اللہ آپ اسے وہاں خرچ کریں جہاں رب تعالٰی آپ کی رائے قائم فرمائے ۵؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوب خوب یہ تو بڑا نفع کا مال ہے ۶؎جو تم نے کہا میں نے سن لیا میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے اہل قرابت میں وقف کردو ۷؎ابوطلحہ بولے یا رسول اللہ میں یہ ہی کرتا ہوں پھر اسے ابوطلحہ نے اپنے عزیزوں اور چچا زادوں میں تقسیم کردیا ۸؎(مسلم، بخاری)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو طَلْحَة أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نزَلَتْ هَذِهِ الآيةُ:لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَة إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى يَقُولُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَاءُ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ تعالي أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللّٰهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللّٰهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"بَخٍ بَخٍ، ذٰلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ". فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! فَقَسَّمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1945 ، باب: بہترین صدقہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین صدقہ یہ ہے کہ تم کسی بھوکے کلیجے کو سیر کردو ۱؎(بیہقی فی شعب الایمان)

وَعَنْہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ تُشْبعَ كَبِدًا جَائِعًا". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1946 ، باب: بہترین صدقہ