- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- باب : میت پر رونے کابیان
باب : میت پر رونے کابیان
جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ابوسیف لوہار کے ہاں گئے ۱∞؎جو حضرت ابراہیم کا رضاعی والد تھا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ابراہیم کو لیا انہیں چوما اور سونگھا۲؎کچھ عرصہ بعد ہم پھر وہاں گئے جب کہ حضرت ابراہیم جان دے رہے تھے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی آنکھیں بہنے لگیں حضرت عبدالرحمان بن عوف نے خدمت عالیہ میں عرض کیا یارسول الله آپ بھی ۳؎تو فرمایا اے ابن عوف یہ تو رحمت ہے پھر دوبارہ آنسو بہائے فرمایا آنکھیں بہتی ہیں،دل غمگین ہے مگر ہم وہ ہی کریں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو اے ابراہیم تمہاری جدائی سے ہم غمگین ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهٗ وَشَمَّهٗ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذٰلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهٖ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ. فَقَالَ لَهٗ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَقَالَ: " يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرٰى فَقَالَ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِك يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1722 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی دختر زینب نے حضور کو پیغام بھیجا کہ میرا بچہ فوت ہوگیاتشریف لایئے ۱∞؎حضور نے سلام وپیغام بھیجا کہ الله ہی کا ہے جو دے یا لے اس کے ہاں ہر چیز مدت مقرر پر ہے، صبر و طلب اجر لیں ۲؎انہوں نے پھر پیغام بھیجا آپ کو قسم دیتی تھیں کہ ضرور آئیں ۳؎آپ اٹھے آپ کے ساتھ سعد ابن عبادہ اور معاذ ابن جبل،ابی ابن کعب،زید ابن ثابت کچھ اور لوگ تھے بچہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا جو دم توڑ رہا تھا تب حضور کی آنکھیں بہنے لگیں حضرت سعد نے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم یہ کیا ہے فرمایا یہ رحمت ہے جو الله نے اپنے بندوں کے دل میں ڈالی ہے الله اپنے بندوں میں سے رحم والوں پر ہی رحم کرتا ہے ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ: إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا. فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ:”إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَهٗ مَا أَعْطٰى وَكُلٌّ عِنْدَهٗ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ” . فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهٗ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَزَيْدُ ابْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهٗ تَتَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ. فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ فَقَالَ: “هٰذِهٖ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهٖ. فَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1723 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت سعد ابن عبادہ کچھ بیمار ہوئے ۱∞؎تو حضورصلی الله علیہ وسلم عبدالرحمان ابن عوف،سعد ابن ابی وقاص اور ابن مسعود کے ساتھ ان کے پاس تشریف لے گئے جب وہاں پہنچے تو انہیں غشی میں پایا پوچھا کیا وفات ہوگئے ۲؎لوگوں نے کہا نہیں یارسول الله تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم روئے جب قوم نے نبی کا رونا دیکھا تو وہ بھی رونے لگےحضور نے فرمایا کیا تم سنتے نہیں کہ الله تعالٰی آنکھ کے آنسوؤں دل کے غم سے عذاب نہیں دیتا اپنی زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ اس سے یہ عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے۳؎اور میت کو گھر والوں کے رونے پر عذاب ہوتا ہے ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: اشْتَكىٰ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوىٰ لَهٗ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهٗ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهٗ فِي غَاشِيَةٍ فَقَالَ: (قَدْ قَضٰى؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى القَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا فَقَالَ: أَلَا تَسْمَعُونَ؟ أَنَّ اللهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلٰى لِسَانِهٖ أَوْ يَرْحَمُ وَإِنَّ الْمَيِّتَ لِيُعَذِّبَ بِبُكَاءِ أَهْلِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1724 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ وہ ہم میں سے نہیں جو منہ پیٹے،گریبان پھاڑے اور جہالت کی باتیں بکے ۱∞؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1725 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت ابوبردہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ بے ہوش ہوئے تو ان کی بیوی ام عبد الله چیخ کر روتی آئیں ۲؎پھر انہیں آرام ہوا تو فرمایا کیا تم جانتی نہیں آپ انہیں حدیث سنایا کرتے تھے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میں اس سے بیزار ہوں جو سر منڈائے،چیخیں مارے،کپڑے پھاڑے۳؎(مسلم،بخاری)لفظ مسلم کے ہیں۔
وَعَنْ أَبِيْ بُرْدَةَ قَالَ: أُغْمِيَ عَلیٰ أَبِيْ مُوسٰى فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهٗ أُمُّ عَبْدِ اللهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمِي؟ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَصَلَقَ وَخَرَقَ” . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ لِمُسْلِمٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1726 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میری امت میں جہالت کی چار باتیں ہیں جنہیں وہ نہ چھوڑیں گے:قومی فخر،نسب میں طعنے اور تاروں سے بارش مانگنی اور نوحہ ۱∞؎فرمایا اگر نوحہ والی موت سے پہلے توبہ نہ کرلے تو قیامت میں اس طرح کھڑی ہوگی کہ اس پر رال کا لباس اور جرب کی قمیص ہوگی۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ وَالِاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ ". وَقَالَ: “النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدَرْعٌ مِنْ جَرَبٍ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1727 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک عورت پرگزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی فرمایا الله سے ڈر اور صبرکر وہ بولی میرے پاس سے ہٹ جائیے آپ کو میری سی مصیبت نہیں پہنچی اس نے حضورکو پہچانا نہیں ۱∞؎تو اسے بتایا گیا یہ تو نبی صلی الله علیہ وسلم تھے تو وہ حضور کے آستانہ پر آئی نبی صلی الله علیہ وسلم کے ہاں کوئی دربان نہ پایا ۲؎عرض کیا حضور میں نے آپ کو پہچانا نہیں فرمایا صبرشروع صدمے پر ہی ہوتا ہے۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ: “اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي” قَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي وَلَمْ تَعْرِفْهُ فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهٗ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ: لَمْ أَعْرِفْكَ. فَقَالَ: “إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولٰى”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1728 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جس کے تین بچے مرجائیں پھر وہ آگ میں جائے مگر قسم پوری کرنے کو ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا يَمُوتُ لِمُسْلِمٍ ثَلَاثٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجُ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ”
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1729 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انصاری عورتوں سے فرمایا کہ جس ماں کے تین بچے مرجائیں وہ صبرکرے وہ جنت میں ضرور جائے گی ۱∞؎ان سے ایک بی بی بولی یارسول الله صلی الله علیہ وسلم یا دو فرمایا دو ۲؎(مسلم)اور مسلم،بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ تین وہ بچے جو بلوغ کو نہ پہنچے ہوں۳؎
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- لِنِسْوَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ: "لَا يَمُوتُ لإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ من الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبُهُ الا دَخَلَتِ الْجنَّةَ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوِ اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَوِ اثْنَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهما: "ثَلَاثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1730 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے انہی سے فرماتے فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی فرماتاہے کہ جب میں بندہ مؤمن کی دنیا کی پیاری چیز لے لوں پھر وہ صبرکرے تو اس کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہیں ۱∞؎(بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللهُ : مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهٗ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ الا الْجنَّةَ ". رَوَاهُ البُخَارِي
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1731 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور سننے والی پر لعنت فرمائی ۱∞؎(ابوداؤد)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1732 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عجیب ہے مؤمن کے لیے اگر اسے بھلائی پہنچے تو الله کی حمد اور شکر کرے اور اگر مصیبت پہنچے تو الله کی حمد اور صبر کرے ۱∞؎مؤمن کو ہر چیز میں ثواب ملتا ہے حتی کہ لقمہ میں بھی جو اپنی بیوی کے منہ تک پہنچاتا ہے ۲؎(بیہقی ،شعب الایمان )۳؎
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجَبٌ لِلْمُؤْمِنِ: إِنْ أَصَابَهٗ خَيْرٌ حَمِدَ اللَّه وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللَّهَ وَصَبَرَ، فَالْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ أَمْرِهٖ حَتّٰى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلٰى فِي امْرَأَتِهٖ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1733 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہر مؤمن کے دو دروازے ہیں ایک دروازہ وہ جس سے اس کے عمل چڑھتے ہیں دوسرا وہ جس سے اس کی روزی اترتی ہے،جب مؤمن مرجاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں یہ ہی رب کا فرمان ہے کہ کفار پر آسمان و زمین نہیں روتے ہوتے ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهٗ بَابَانِ: بَابٌ يَصْعَدُ مِنْهُ عَمَلُهُ، وَبَابٌ يَنْزِلُ مِنْهُ رِزْقُهُ، فَإِذَا مَاتَ بَكَيَا عَلَيْهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهٗ تَعَالٰى: {فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ} رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1734 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میری امت میں سے جس کے دو بچے فوت ہوں گے الله اسے اس کی برکت سے جنت میں داخل کرے گا تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ جس امتی کا ایک ہی فرط (پیشرو)ہوتو فرمایا اے توفیق خیر والی وہ بھی جس کا ایک ہی فرط ہووہ بولیں جس امتی کا کوئی فرط نہ ہو آپ نے فرمایا اس کا میں ہی فرط(یعنی پیشرو)ہوں ۱∞؎انہیں میری جیسی مصیبت نہ پہنچے گی۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَ لَهٗ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللّٰهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ كَانَ لَهٗ فَرَطٌ مَنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: “وَمَنْ كَانَ لَهٗ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ” . فَقَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهٗ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: “فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1735 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب کسی بندے کا بچہ مرجاتا ہے تو الله تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے کیا تم نے میرے بندے کے بچے کو وفات دے دی وہ کہتے ہیں ہاں توکہتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا تو عرض کرتے ہیں ہاں فرماتا ہے میرے بندے نے کیا کہا عرض کرتے ہیں تیری حمد کی اوراِنَّا لِلّٰہپڑھی،رب فرماتا ہے میرے بندے کے لیے جنت میں گھر بناؤ اور گھر کا نام بیتالحمدرکھو ۱∞؎(احمد،ترمذی)
وَعَنْ أَبِي مُوسى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللهُ تَعَالٰى لِمَلَائِكَتِهٖ: قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهٖ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: مَاذَا قَالَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ. فَيَقُولُ اللهُ : ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ ". رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1736 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو کسی مصیبت زدہ کوتسلی دے(اسے)اس جیسا ثواب ملے گا ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے جسے ہم صرف علی ابن عاصم راوی کی حدیث ہی سے مرفوع پہنچانتے ہیں اور بعض محدثین نے یہ حدیث اسی اسناد سے محمد ابن سوقہ سے موقوفًا روایت کی۔
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «من عَزّٰى مُصَابًا فَلَهٗ مِثْلُ أَجْرِهٖ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهٗ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ الرَّاوِي وَقَالَ: وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَوْقَةَ بِهَذَا الإِسْنَاد مَوْقُوفًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1737 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت ابی برزہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو فوت شدہ بچے کی ماں کو تسلی دے اسے جنت میں چادر اوڑھائی جائے گی ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ عَزّٰى ثَكْلٰى كُسِيَ بُرْدًا فِي الْجَنَّةِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1738 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن جعفر سے فرماتے ہیں کہ جب حضرت جعفر کی موت کی خبر آئی ۱∞؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جعفر کے گھر والو ں کے لیئے کھانا پکاؤ ۲؎کہ ان کے پاس وہ خبر آئی ہے جو کھانے سے باز رکھے گی ۳؎(ترمذی،ابو داؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اصْنَعُوا لآِلِ جَعْفَرَ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يُشْغِلُهُمْ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1739 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کوفرماتے سنا کہ جس پر نوحہ کیا جائے اسے قیامت کے دن نوحہ کی وجہ سے عذاب ہوگا ۱∞؎(مسلم،بخاری)
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: “من نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهٗ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1740 ، باب : میت پر رونے کابیان
روایت ہے حضرت عمرہ بنت عبدالرحمان سے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کو سنا ان سے ذکر کیا گیا کہ عبد الله ابن عمر فرماتے ہیں کہ زندوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتاہے فرمانے لگیں الله ابو عبدالرحمان کو بخشے انہوں نے جھوٹ نہ بولا لیکن وہ بھول گئے یا خطا کر گئے ۱∞؎نبی صلی الله علیہ وسلم ایک یہودیہ پر گزرے جس پر رویا جارہا تھا تو فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہورہا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ تَقُولُ: يَغْفِرُ اللهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهٗ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهٗ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ يَهُودِيَّةٍ يُبْكٰى عَلَيْهَا فَقَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1741 ، باب : میت پر رونے کابیان
- 1
- 2