- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
جنازوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابوسعید و ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے مُردوں کو"لا اِلٰہ الّاالله"سکھاؤ ۱∞؎(مسلم)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ “ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1616 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی بات بولو ۱∞؎کیونکہ فرشتے تمہارے کہے پرآمینکہتے ہیں۲؎(مسلم)
وَعَنْ أُمِّ سَلْمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَو الْمَيِّتَ فَقُوْلُوْا خَيْرًا فَإِن الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلیٰ مَا تَقُولُونَ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1617 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جسے کوئی مصیبت پہنچے تو وہ وہی کہے جس کا الله نے حکم دیا کہ ہم الله کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں الٰہی مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور اس کا بہتر بدل عطاکر مگر الله اسے بہترعوض دیتا ہے ۱∞؎جب ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں بولی کہ ابوسلمہ سے بہتر کون مسلمان ہوگا وہ تو پہلے گھر والے ہیں جنہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی پھر میں نے یہ دعا کہہ ہی لی چنانچہ الله نے مجھے ان کے عوض رسول الله صلی الله علیہ وسلم عطا فرمائے ۲؎(مسلم)
وَعَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهٗ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللهُ بِهٖ : (إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) اَللّٰهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ لَهٗ خَيْرًا مِنْهَا ".فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلمَة قُلْتُ: أَيُّ الِمُسْلِمينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ أَوَّلُ بَيْتِ هَاجَرَ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا فَأَخْلَفَ اللهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1618 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ابو سلمہ پر تشریف لائے ان کی آنکھیں کھلی رہ گئیں تھیں،انہیں بند کردیا،پھر فرمایا کہ روح جب قبض کرلی جاتی ہے تو نظر اس کے پیچھے جاتی ہے ۱∞؎ان کے گھر کے لوگوں نے آہ وبکاکی تو حضور نے فرمایا اپنے متعلق خیر ہی کی دعا کرنا کیونکہ فرشتے تمہارے کہے پرآمینکہتے ہیں۲؎پھر فرمایاالٰہی ابوسلمہ کو بخش دے اور ہدایت والوں میں ان کا درجہ بلندکر ان کے پسماندگان میں ان کا تو خلیفہ ہو اور اےرب العلمینہماری اور ان کی مغفرت فرما اور ان کی قبر میں روشنی اور وسعت دے۳؎(مسلم)
وَعَنْہَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ أَبِيْ سَلْمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرَهٗ فَأَغْمَضَهٗ ثُمَّ قَالَ: “إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ” فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهٖ فَقَالَ: “لَا تَدْعُوا عَلیٰ أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤْمِنُوْنَ عَلیٰ مَاتَقُوْلُوْنَ” ثُمَّ قَالَ: “اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهٗ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهٖ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهٗ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَأَفْسِحْ لَهٗ فِي قَبْرِهٖ وَنَوِّرْ لَهٗ فِيهِ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1619 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کو حبری چادر اوڑھائی گئی ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ سُجِّيْ بِبَرْدِ حِبْرَةَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1620 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جس کا آخری کلام"لا اِلٰہ الّاالله"ہوگا وہ جنت میں جائے گا ۱∞؎(ابوداؤد)
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهٖ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ” رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1621 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت معقل ابن یسار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اپنے مرنے والوں پر سورۂ یسین پڑھاکرو ۱∞؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “اِقْرَؤُوْا سُورَةَ (يس) عَلیٰ مَوْتَاكُمْ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1622 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عثمان ابن مظعون کی میت کو چوما حالانکہ حضور رو رہے تھے حتی کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے آنسو عثمان کے چہرے پر بہنے لگے ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ وَهُوَ يَبْكِي حَتّٰى سَالَ دُمُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ وَجْهِ عُثْمَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1623 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو بوسہ دیا حالانکہ حضور وفات یافتہ تھے ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْھَا قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1624 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت حصین ابن وحوح سے طلحہ بن براء بیمار ہوئے ۱∞؎تو انکے پاس نبی کریم صلی الله علیہ وسلم عیادت کے لئے تشریف لائے پھر فرمایا میرا گمان ہے کہ طلحہ کی وفات آہی گئی ہے مجھے اس کی خبردینا اورجلدی کرنا کیونکہ مسلمان میت کا اپنے گھر والوں میں رکا رہنا مناسب نہیں ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهٗ فَقَالَ:”إِنِّي لَا أَرٰى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ بِهٖ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهٖ وَعَجِّلُوا فَإِنَّهٗ لَا يَنْبَغِي لِحِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهٖ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1625 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت عبد الله ابن جعفر سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اپنے مُردوں کو یہ تلقین کرو الله کے سوا کوئی معبود نہیں،حلم والا ہے،کرم والاہے، پاک ہے،عرش عظیم کا رب ہے،ساری حمد اللهرب العلمینکی ہے ۲؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله یہ دعا زندوں کے لیےکیسی فرمایا بہت اچھی اچھی۳؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ” قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ؟ قَالَ: “أَجْوَدْ وَأَجْوَدْ” . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1626 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میت کے پاس فرشتے آتے ہیں ۱∞؎اگر آدمی نیک ہوتاہے تو اس سے کہتے ہیں اے پاک روح نکل جو پاک جسم میں تھی ۲؎نکل قابلِ تعریف خیریت،راحت اور پاک رزق اور راضی رب کی بشارت حاصل کر اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہے۳؎پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے اس کے لیئے آسمان کھولاجاتاہے کہاجاتاہے یہ کون ہے فرشتے کہتے ہیں یہ فلاں ہے تو کہاجاتاہےکہ خوب آئی پاک روح جو پاک جسم میں تھی داخل ہوقابلِ تعریف ہے اور خیریت،راحت،پاک رزق اور راضی رب کی بشارت لے اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں الله کی تجلی ہے۴؎اور جب آدمی برا ہوتاہے ۵؎تو کہتے ہیں کہ اے خبیث جان نکل جوخبیث جسم میں تھی ۶؎نکل قابلِ ملامت ہوکر اورکھولتے پانی پیپ اور اس کے ہمشکل دوسرے عذابوں کی بشارت لے ۷؎اس سے یہ کہتے رہتے ہیں حتی کہ نکل آتی ہےپھر اسے آسمان کی طرف چڑھایاجاتاہے تو اس کے لیئے آسمان کھلوایاجاتاہے پوچھاجاتا ہے یہ کون ہے کہاجاتاہے فلاں تو کہاجاتاہے اس کے لیئے مرحبا نہیں،خبیث جان ہے جو خبیث جسم میں تھی ملامت کی ہوئی لوٹ جاکیونکہ تیرے لیئے آسمان کے دروازے نہیں کھل سکتے ۸؎پھر اسے آسمان سے پھینکاجاتاہےحتی کہ قبرمیں آجاتی ہے ۹؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ المَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ اخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحَ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفسِ الطّيبَة ِ كَانَت فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ادْخُلِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰى تَنْتَهِيَ إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللهُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ قَالَ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ اخْرُجِي ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهٖ أَزْوَاجٌ فَمَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذٰلِكَ حَتّٰى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهَا لَا تفتح لَهٗ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى القَبْر ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1627 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے انہی سےکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاجب مسلمان کی روح نکلتی ہے تو اسے دو فرشتے ملتے ہیں جو اسے چڑھا لے جاتےہیں ۱∞؎حماد نے کہاحضور نے اس کی عمدہ خوشبو کا اورمشک کا ذکر فرمایا ہے۲؎فرمایا کہ آسمان والے کہتے ہیں پاک روح زمین کی طرف سے آئی الله تجھ پر اور اس جسم پر رحمتیں کرے جسے تو آبادکرتی تھی۳؎پھر اسے رب کے پاس لے جاتےہیں رب فرماتا ہے کہ اسے آخر وقت تک کے لیئے وہیں پہنچادو۴؎فرمایا کہ جب کافر کی روح نکلتی ہے حماد فرماتے ہیں کہ حضور نے اس کی بدبو اورلعنت کا ذکر فرمایا آسمان والے کہتے ہیں خبیث روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی تو کہاجاتاہے اسے معیاد تک کے لیئے لےجاؤ،ابوہریرہ فرماتےہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پرچادرتھی اسے حضورصلی الله علیہ وسلم نے اس طرح اپنی ناک سے لگالیا ۵؎(مسلم)
وَعَنْہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا” . قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ قَالَ: " وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكِ وَعَلیٰ جَسَدٍ كُنْتِ تُعَمِّرِينَهٗ فَيُنْطَلَقُ بِهٖ إِلٰى رَبِّهٖ ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهٖ إِلٰى آخِرِ الْأَجَلِ ". قَالَ: “وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ” قَالَ حَمَّادٌ: وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا وَذَكَرَ لَعْنَهَا. " وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهٖ إِلٰى آخِرِ الْأَجَل " قَالَ أَبُو هُرَيْرَة: فَرَدَّ رَسُول الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِيْطَةٍ كَانَت عَلَيْهِ عَلیٰ أَنْفِهِ هٰكَذَا . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1628 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب مؤمن کو موت آتی ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشم لےکر آتے ہیں ۱∞؎کہتے ہیں نکل تو راضی،تجھ سے رب راضی الله کی طرف سے راحت،روحانی رزق اور راضی رب کی طرف چل تو وہ بہترین مشک کی خوشبو کی طرح نکلتی ہے۲؎حتی کہ بعض فرشتے بعض کو وہ روح دیتے ہیں اسے آسمان کے دروازوں تک لاتے ہیں ۳؎آسمان والے کہتے ہیں یہ کیا اچھی خوشبو ہے جو زمین سے تمہیں آئی پھر اسےمسلمانوں کی روحوں کے پاس لاتے ہیں مؤمنین اس کی وجہ سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جیسےتم میں سےکوئی گمشدہ آدمی کے آجانے سے خوش ہوئے ۴؎اس سے پوچھتے ہیں کہ فلاں کیاکرتا ہے فلاں کیاکرتاہے پھر کہتے ہیں اسے چھوڑو یہ دنیا کے غم میں تھا ۵؎یہ کہتاہے کہ وہ مرگیا کیاتمہارے پاس نہ آیا وہ کہتے ہیں کہ اسے ام ہاویہ میں پہنچادیا گیا ہے ۶؎اور کافر کی موت جب آتی ہے تو اس کے پاس عذاب کے فرشتے ٹاٹ لےکر آتے ہیں ۷؎کہتے ہیں نکل تو رب سے ناراض تجھ پر رب ناراض الله کے عذاب کی طرف چل تو وہ مردار کی سخت بدبو کی طرح نکلتی ہے حتی کہ اسے زمین کے دروازے تک لاتے ہیں۸؎تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسی سخت بدبوہے یہاں تک کہ اسے کفار کی روحوں میں پہنچا دیتے ہیں ۹؎(احمد،نسائی)
وَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيًّا عَنْكِ إِلٰى رَوْحِ اللهِ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتّٰى إِنَّهٗ لَيُنَاوِلُهٗ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتّٰى يَأْتُوا بِهٖ أَبْوَابَ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هٰذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ فَيَأْتُونَ بِهٖ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهٖ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهٖ يَقْدُمُ عَلَيْهِ فَيَسْأَلُونَهٗ: مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ فَإِنَّهٗ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: قَدْ مَاتَ أَمَا أَتَاكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: قَدْ ذُهِبَ بِهٖ إِلٰى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ. وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: أُخْرِجِيْ سَاخِطَةً مَسْخُوْطًا عَلَيْكِ إِلٰى عَذَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَتَخْرُجُ كَأَتَیْنِ رِيْحٍ جِيْفَةٍ حَتّٰى يَأْتُوْنَ بِهِ الٰی بَابِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هٰذِهِ الرِّيحَ حَتّٰى يَأْتُونَ بِهٖ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ ". رَوَاهُ أَحْمدُ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1629 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت براءابن عازب سے فرماتےہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے میں گئے قبر پر پہنچے قبر ابھی تیار نہ تھی حضورصلی الله علیہ وسلم بیٹھ گئے ہم آپ کے آس پاس ایسے بیٹھ گئے کہ ہمارے سروں پر پرندے ہیں ۱∞؎حضور کے ہاتھ میں چھڑی تھی جس سے آپ زمین کریدنے لگے۲؎پھر اپنا سر اٹھایا دو یا تین بارفرمایا کہ عذاب قبر سے الله کی پناہ مانگو پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے روانہ ہوکر آخرت کی طرف جانے لگتا ہے تو اس پر آسمان سے سفید چہرے والے فرشتے اترتے ہیں گویا ان کے چہرے سورج ہیں۳؎جن کے ساتھ جنت کے کفنوں سے کفن اور وہاں کی خوشبو ہوتی ہے حتی کہ میت کی تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت علیہ السلام آتے ہیں اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتے ہیں۴؎اے پاک روح الله کی بخشش اور رضا کی طرف چل تو وہ نکلتی ہے ایسی بہتی ہوئی جیسے مشک سے قطرہ ۵؎ملک الموت اسے لے لیتے ہیں جب لیتے ہیں تو فرشتے ان کے ہاتھ میں پل بھرنہیں چھوڑتے حتی کہ اسے لے لیتے ہیں اس کو کفن اور خوشبو میں ڈال دیتے ہیں اس میت سے ایسی نفیس خوشبونکلتی ہے جیسے روئے زمین پر بہترین مشک سے۶؎فرمایا اسے لےکر چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی کسی جماعت پرنہیں گزرتے مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ کیا ہی نفیس خوشبو ہے یہ کہتے ہیں کہ یہ فلاں ابن فلاں ہے اس کا وہ اعلیٰ نام لےکر جو زمین میں لیا جاتاتھا حتی کہ اسے لےکر دنیاوی آسمان پرپہنچتے ہیں تو اس کے لیے کھلواتے ہیں تو کھول دیاجاتاہے اسے ہر آسمان کے فرشتے دوسرے آسمان پرپہنچانے جاتے ہیں حتی کہ ساتویں آسماں تک پہنچادیتے ہیں ۷؎رب فرماتا ہے کہ میرے بندے کی کتاب علیین میں لکھو۸؎اور اسے زمین کی طرف کردو کیونکہ میں نے انہیں زمین سے ہی پیدا کیا وہاں ہی لوٹاؤں گا وہاں ہی سے دوبارہ نکالوں گا فرمایا اس کی روح جسم میں واپس کی جاتی ہے ۹؎پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ رب تیرا کون وہ کہتاہے رب میر الله ہے وہ کہتے ہیں دین تیرا کیا وہ کہتا ہے دین میرا اسلام کہتے ہیں یہ صاحب کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے وہ کہتاہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہیں وہ کہتے ہیں تجھے کیسے معلوم ہوا یہ کہتا ہے میں نے الله کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اس کی تصدیق کی ۱۰؎تو آسمان سے پکارنے والاپکارتاہے کہ میرا بندہ سچا ہے ۱۱∞؎اس کے لیے جنت کا فرش بچھاؤ جنتی لباس پہناؤ اور جنت کی طرف دروازہ کھول دو فرمایا تب اس تک جنت کی راحت و خوشبو آتی ہے،تاحدنگاہ اس کی قبر میں فراخی کی جاتی ہے۱۲؎فرمایا کہ اس کے پاس ایک خوبصورت اچھے کپڑوں اچھی خوشبو والاشخص آتا ہے کہتاہے اس سے خوش ہو جو تجھے مسرور کرے گی یہ تیرا وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۱۳؎یہ کہتا ہے تو کون ہے تیرا چہرہ بھلائی لاتاہے۱۴؎وہ کہتاہے میں تیرا نیک عمل ہوں۱۵؎تب بندہ کہتا ہے یارب قیامت قائم کر یا رب قیامت قائم کر تاکہ میں اپنے گھر بار اور مال میں پہنچوں۱۶؎فرمایا کہ بندہ کافر جب دنیا کے خاتمے اور آخرت کی آمد میں ہوتا ہے توا س کی طرف آسمان سے سیاہ چہرے والے فرشتے اترتے ہیں جن کے ساتھ ٹاٹ ہوتے ہیں۱۷؎اس کی حدنگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں،پھر ملک الموت آتےہیں اس کے سر کے پاس بیٹھتے ہیں کہتے ہیں اے خبیث جان رب کی ناراضی کی طرف نکل فرمایا کہ جان اس کے جسم میں چھپتی پھرتی ہے وہ اسے ایسے کھینچتے ہیں جیسے گرم سیخ بھیگی اون سے کھینچی جاتی ہے ۱۸؎پھر اسے لے لیتےہیں جب لیتے ہیں تو دوسرے فرشتے وہ جان ملک الموت کے ہاتھ میں پلک جھپکتے تک نہیں چھوڑتےحتی کہ اسے ان ٹاٹوں میں ڈال لیتے ہیں اور اس سے روئے زمین کے بدترین مردار کی سی بدبو نکلتی ہے اسے لےکر چڑھ جاتے ہیں ۱۹؎فرشتوں کی جس جماعت پربھی گزرتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کون خبیث جان ہے وہ اس کے دنیاوی بدترین ناموں سے جس سے موسوم کیاجاتا تھا نام لےکر کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کا بیٹا یہاں تک کہ اسے لےکر آسمان دنیا تک آتے ہیں۲۰؎کھلوایاجاتا ہے تو اس کے لیے کھولانہیں جاتا پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی نہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں اور نہ وہ جنت میں جائیں حتی کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے ۲۱∞؎پھر رب تعالٰی فرماتا ہے کہ اس کی کتاب نچلی زمین کے سجّین میں لکھو پھر ان کی جاں پٹخ دی جاتی ہے پھر حضور نے یہ تلاوت کی کہ جس نے الله سے شرک کیا گویا وہ آسمان سے گر گیا جسے پرندے اچکتے ہیں یا اسے دور جگہ میں ہوا پھینْکتی ہے۲۲؎پھر روح جسم میں لوٹائی جاتی ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں کہتے ہیں تیرا رب کون ہے وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا پھر کہتے ہیں تیرا دین کیا ہے وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا پھر کہتے ہیں یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے وہ کہتے ہیں ہائے ہائے میں نہیں جانتا ۲۳؎تب آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے یہ جھوٹا ہے۲۴؎اس کے لیے آگ کا بستربچھاؤ اور آگ کی طرف دروازہ کھولو تب اس تک دوزخ کی گرمی اور وہاں کی لو آتی ہے اس پر قبر اتنی تنگ کی جاتی ہے کہ ا س کی پسلیاں اِدھر اُدھر ہوجاتی ہیں۲۵؎اس کے پاس ایک بدشکل برے لباس والا بدبو دار آدمی آتاہےکہتا ہے اس کی خبرلے جو تجھے غمگین کرے گی یہی وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ تھا مردہ کہتا ہے کہ تو ہے کون کہ تیرا چہرہ شر(ڈر)لاتا ہے وہ کہتا ہے میں تیرے برے عمل ہوں تب یہ کہتا ہے الٰہی قیامت نہ قائم کر ۲۶؎اور ایک روایت میں اس کی مثل ہے اس میں اتنی زیادتی ہے کہ جب مؤمن کی جان نکلتی ہے تو آسمان و زمین کے درمیان کے سارے فرشتے اس پر دعا کرتے ہیں اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ہر درازے والے یہی دعاکرتے ہیں کہ اس کی روح ان کی طرف سے چڑھے۲۷؎اور کافر کی جان اس کی رگوں کے ساتھ نکالی جاتی ہے اس پر آسمان زمین کے درمیان والے فرشتے اور آسمان کے سارے فرشتے لعنت کرتے ہیں آسمان کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۲۸؎ہر دروازے والے یہی دعا کرتے ہیں کہ الٰہی اس کی روح ان کی طرف سے نہ چڑھے۔(احمد)
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى القَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهٗ كَأَنَّ عَلٰى رُؤُوْسِنَا الطَّيْرَ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "اسْتَعِيذُوا بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، حَتّٰى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عليه السلام حَتّٰى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلٰى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ" قَالَ: "فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنَ السِّقَاءِ فَيَأْخُذهَا،فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ، حَتّٰى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا في ذَلِكَ الْكَفَنِ، وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلٰى وَجْهِ الأَرْضِ"، قَالَ: "فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ -يَعْنِي بِهَا- عَلٰى مَلأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هٰذِه الرُّوْحُ الطّيِّبُ؟ ! فَيَقُولُونَ: فلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهٗ بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتّٰى يَنْتَهُوا بِهَا إِلٰى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهٗ فَيُفْتَحَ لَهٗ، فَيُشَيِّعُهٗ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا حَتّٰى يُنْتَهٰى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَيَقُولُ اللّٰهُ عزَّ وجلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي علِّيِّينَ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الأَرْضِ، فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَة ً أُخْرٰى، قَالَ: "فَتُعَادُ رُوْحُهٗ فِي جَسَدِهِ، فَيَأُتيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللّٰهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُول: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولَانِ لَهُ: وَمَا عَلَّمَكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءَ صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوا لَهٗ بَابًا إِلَى الجَنَّةِ، قَالَ: "فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا، فَيُفْسَحُ لَهٗ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ" قَالَ: "وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ حَسَنُ الثِّيَابِ طَيِّبُ الرّيحِ فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ، فَيَقُولُ لَهُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيء بِالْخَيْرِ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ، فَيَقُولُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ، رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ،حَتّٰى أَرْجِعَ إِلٰى أَهْلِي وَمَالِي". قَالَ: "وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَةِ، نزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ مَعَهُمُ الْمُسُوحُ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتّٰى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلٰى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ" قَالَ: "فَتَفَرَّقَ فِي جَسَدِهِ فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُودُ من الصُّوفِ الْمَبْلُولِ فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتّٰى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ، وَتَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلٰى وَجْهِ الأَرْضِ،فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلٰى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرّوحُ الْخَبيثُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ -بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمّٰى بِهَا فِي الدُّنْيَا- حَتّٰى يُنْتَهٰى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فيُسْتَفْتَحُ لَهٗ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ"، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: {لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ}: فَيَقُولُ اللّٰهُ عزَّ وجلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَهٗ فِي سِجِّين فِي الأَرْض السُّفْلٰى، فَتُطْرَحُ رُوحُهٗ طَرْحًا، ثُمَّ قَرَأَ: {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ} فَتُعَادُ رُوحُهٗ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهٗ بَابًا إِلَى النَّارِ، فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهٗ حَتّٰى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوؤُكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يجِيءُ بِالشَّرِّ، فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ. وَفِي رِوَايَةٍ نَحوَه، وَزَاد فِيهِ: "إِذَا خَرَجَ رُوحُهٗ صَلّٰى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَفُتِحَتْ لَهٗ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ. وَتُنْزَعُ نَفْسُهٗ -يَعْنِي الْكَافِرَ- مَعَ الْعُرُوقِ، فَيَلْعَنُهٗ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَكلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّه أَنْ لَا يُعْرَجُ رُوحُهٗ مِنْ قِبلِهِمْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1630 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن کعب سے وہ اپنے والد سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں کہ جب حضرت کعب کو موت آئی تو ان کے پاس ام بشر بنت ابن معرور آئیں ۲؎بولیں اے ابوعبدالرحمان اگر تم فلاں سے ملو تو انہیں میرا سلام پہنچانا ۳؎وہ بولے ام بشر الله تمہیں بخشے ہم تو ان چیزوں سے زیادہ مشغول ہوں گے وہ بولی اے ابو عبدالرحمان کیا تم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ مسلمانوں کی روحیں سبز پرندوں میں جنت کے درخت سے لٹکائی جاتی ہیں فرمایا ہاں بولیں یہ وہی ہے ۴؎(ابن ماجہ،بیہقی،کتاب البعث والنشور)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ فُلَانًا فَاقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ. فَقَالَ: غَفَرَ اللهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: “إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تُعْلَقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ؟” قَالَ: بَلٰى. قَالَتْ: فَهُوَ ذَاكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1631 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے انہی سے وہ اپنے والد سے راوی وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کی روح پرندہ ہے جو جنت کے درخت میں لٹکایاجاتاہے حتی کہ الله جس دن اسے اٹھائے گا اس کے جسم میں لوٹائے گا ۱∞؎(مالک، نسائی،بیہقی فی کتاب البعث و النشور)
وَعَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَنَّهٗ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ تُعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتّٰى يُرْجِعَهُ اللهُ فِي جَسَدِهٖ يَوْمَ يَبْعَثُهُ” . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1632 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے
روایت ہے حضرت محمد ابن منکدر سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت جابر ابن عبد الله کے پاس گیا جب کہ وہ وفات پارہے تھے میں نے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا ۱∞؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَهُوَ يَمُوتُ فَقُلْتُ: اقْرَأْ عَلیٰ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1633 ، باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے