باب: وضوء کی سنتیں

پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سےکوئی نیندسےجاگے تو برتن میں اپنا ہاتھ نہ ڈالے تاآنکہ تین بار دھولے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ کہاں رہا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهٖ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهٗ فِي الْإِنَاءِ حَتّٰى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِيْ أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 391 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو پھر وضو کرے توتین بارناک جھاڑے کیونکہ شیطان اس کے بانسے پررات گزارتاہے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهٖ فَتَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثًا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيْتُ عَلٰى خَيْشُوْمِهٖ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 392 ، باب: وضوء کی سنتیں

عبداللہ ابن زید ابن عاصم سے کہا گیا ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے تو آپ نے پانی منگایاپھراپنے ہاتھوں پرڈالا دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے ۲؎پھر کلی کی اور ناک جھاڑی(تین بار)پھر تین بار منہ دھویاپھرہاتھ دوبارکہنیوں تک دھوئے پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا کہ انہیں آگے پیچھے لے گئے سر کے اگلے حصے سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر لوٹا لائے حتی کہ اسی جگہ لوٹ آئے جہاں سے شروع کیا تھا۳؎پھر اپنے پاؤں دھوئے ۴؎(مالک و نسائی)اور ابو داؤد کی روایت بھی اسی طرح ہے جیسے جامع والے نے ذکر کیا۵

وَقِيْلَ لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ: كَيْفَ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَدَعَا بِوَضُوْءٍ فَأَفْرَغَ عَلٰى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهٗ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفِقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهَ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهٖ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتّٰى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِيْ بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيُّ، وَلأَبِيْ دَاوُدَ نَحْوُهٗ ذَكَرَهُ صَاحِبُ الْجَامِعِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 393 ، باب: وضوء کی سنتیں

اور مسلم،بخاری میں ہے کہ عبداللہ ابن زیدابن عاصم سے کہا گیا کہ آپ ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کریں تو آپ نے برتن منگایااس سے ہاتھوں پر پانی لے کرتین باردھویا پھراپنا ہاتھ برتن میں ڈالاپھرنکالا ۱؎پھرایک چلوسے کلی کی اور ناک میں پانی لیا ۲؎یہ تین بار کیا پھر اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا اپنا منہ تین بار دھویا، پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو کہنیوں تک دو دو بار ہاتھ دھوئے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو سر کا مسح کیا تو اپنا ہاتھ آگے پیچھے لے گئے پھر ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوئے ۳؎پھرفرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو یوں ہی تھا۴؎اورایک روایت میں ہے کہ دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے لے گئے سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر واپس لائے حتی کہ اسی جگہ لائے جہاں سے شروع کیا تھا پھر اپنے ہاتھ دھوئے اور ایک روایت میں ہے کہ کلی کی،ناک میں پانی لیا اور ناک جھاڑی تین بار تین چلو پانی سے ۵؎اور دوسری روایت میں ہے کہ ایک ہاتھ سے کلی کی اور ناک میں پانی لیا ۶؎یہ تین بار کیا اوربخاری کی روایت میں ہے کہ سر کا مسح کیا تو ہاتھ آگے وپیچھے ایک بار لے گئے ۷؎پھر ٹخنوں تک پاؤں دھوئے انہیں کی دوسری روایت میں ہے کہ تین بار کلی کی اور ناک جھاڑی ایک چلو سے۔

وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: قِيْلَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ: تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوْءَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَأَكْفَأَ مِنْهُ عَلٰى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهٗ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ فَفَعَلَ ذٰلِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهٗ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ وَجْهَهٗ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهٗ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهٗ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِرَأْسِهٖ فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَالَ هٰكَذَا كَانَ وُضُوْءُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيْ رِوَايَةٍ: فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلٰى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتّٰى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِيْ بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ وَ فِيْ رِوَايَةٍ: فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهٖ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتّٰى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِيْ بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رجلَيْهِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِثَلَاث ٍغُرَفَاتٍ مِنْ مَاءٍ. وَفِيْ أُخْرٰى: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفَّةٍ وَاحِدَةٍ، فَفَعَلَ ذٰلِكَ ثَلَاثًا.وَفِيْ رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. وَفِيْ أُخْرٰى لَهٗ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غُرْفَةٍ وَاحِدَةٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 394 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عباس سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک باروضو کیا اس پر زیادتی نہ فرمائی ۱؎(بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً مَرَّةً لَمْ يَزِدْ عَلٰى هٰذَا . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 395 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن زید سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو باروضوکیا۔(بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ الله بْنِ زَيْدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 396 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے ادارے میں وضو کیا ۱؎تو فرمایا کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ دکھاؤں آپ نے تین تین بار وضوکیا۲؎(مسلم)

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ فَقَالَ: أَلَا أُرِيْكُمْ وُضُوءَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 397 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف لوٹے حتی کہ جب ہم اس پانی پر پہنچے جوراہ میں تھا تو عصر کے وقت ایک قوم نے جلدی کی کہ جلدی میں وضو کیا ۱؎ہم ان تک پہنچے اور ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں جنہیں پانی نہ لگا تھاتب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان ایڑیوں کے لئے آگ کاویلہے۲؎وضو پوراکرو(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْروٍ قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِيْنَةِ حَتّٰى إِذا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيْقِ تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ فَتَوَضَّؤُوْا وَهُمْ عُجَّالٌ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوْحُ لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 398 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنی پیشانی اورعمامہ اورموزوں پرمسح کیا۲؎(مسلم)

وَعَنِ الْمُغيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهٖ وَعَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 399 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقدر طاقت اپنے تمام کاموں میں داہنے سے شروع فرمانا پسند کرتے تھے اپنی طہارت میں اور کنگھی کرنے اور نعلین پہننے میں ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِيْ شَأْنِهٖ كُلِّهٖ: فِيْ طُهُورِهٖ وَترَجُّلِهٖ وَتَنَعُّلِهٖ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 400 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم پہنو اور جب وضو کرو تو داہنے سے شروع کرو ۱؎(احمد،ابوداؤد)

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَؤُوْا بِأَيَامِنِكُمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 401 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کا وضو نہیں جس نے اس پر اللہ کا نام نہ لیا ۲؎اسے ترمذی وا بن ماجہ نے روایت کیا،

وَعَنْ سَعِيْدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا وُضُوْءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 402 ، باب: وضوء کی سنتیں

احمدوابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ سے

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 403 ، باب: وضوء کی سنتیں

اور دارمی نے حضرت ابوسعید خدری سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا اس کے شروع میں بڑھایا کہ جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں ۳؎

والدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ عَن أَبِيْهِ، وَزَادُوْا فِيْ أَوَّلِهِ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 404 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرتلقیطابن صبرہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیایارسول اللہ مجھے وضو کے متعلق خبر دیجئے فرمایا وضوپوراکرو انگلیوں کے درمیان خلال کرو اورناک کے پانی میں مبالغہ کرو مگر جب تم روزہ دار ہو۲؎(ابوداؤد)ترمذی اور نسائی نے روایت کی اور ابن ماجہ و دارمی نےبین الاصابعتک روایت کی۔

وَعَنْ لَقِيْطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ أَخْبِرْنِيْ عَنِ الْوُضُوْءِ. قَالَ: أَسْبِغِ الْوُضُوْءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الْاِسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُوْنَ صَائِمًا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ والدَّارِمِيُّ إِلَى قَوْلِهٖ: بَيْنَ الأَصَابِعِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 405 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم وضوکرو تو اپنی ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو ۱؎(ترمذی)اور ابن ماجہ نے اسی طرح روایت کی اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلْ أَصَابِعِ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ:هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 406 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے مستوردابن شداد سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب وضو کرتے تو اپنی چھنگلی سے پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرتے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

وَعَن الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ يَدْلُكُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهٖ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 407 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لےکر ٹھوڑی کے نیچے پہنچاتے جس سے اپنی داڑھی کا خلا ل کرتے اور فرماتے کہ میرے رب نے مجھے یوں ہی حکم دیا ہے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَأَدْخَلَهٗ تَحْتَ حَنَكِهٖ فَخَلَّلَ بِهٖ لِحْيَتَهٗ وَقَالَ: هٰكَذَا أَمَرَنِيْ رَبِّيْ .رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 408 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے ۱؎(ترمذی،دارمی)

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهٗ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 409 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت ابو حیہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا آپ نے وضو کیا تو اپنے ہاتھ دھوئے تاآنکہ انہیں صاف کردیا پھرتین بارکلی تین بارناک میں پانی کیا پھر اپنا منہ وکہنیاں تین تین بار دھوئے ایک بار سر کا مسح کیا ۲؎پھر اپنے قدم ٹخنوں تک دھوئے ۳؎پھر کھڑے ہوئے تو طہارت کا بچا ہوا پانی کھڑے کھڑے پیا۴؎پھرفرمایا میں نے چاہا تمہیں دکھادوں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا۵؎(ترمذی ونسائی)

وَعَنْ أَبِيْ حَيَّةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتّٰى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهٗ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، ثمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهٖ، فَشَرِبَهٗ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُوْرُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 410 ، باب: وضوء کی سنتیں