باب: وضوء کی سنتیں

پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت عبدخیرسے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم بیٹھے ہوئے حضرت علی کو دیکھ رہے تھے جب انہوں نے وضو کیا اوراپناداہنا ہاتھ ڈالا تو منہ بھرکر کلی کی اور ناک میں پانی لیا اوربائیں ہاتھ سے ناک جھاڑی یہ تین بار کیا پھر فرمایا کہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا پسندہوتوحضور کا وضو یہ تھا۲؎(دارمی)

وَعَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: نَحْنُ جُلُوْسٌ نَنْظُرُ إِلٰى عَلِيٍّ حِيْنَ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنٰى فَمَلَأَ فَمَهٗ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرٰى فَعَلَ هٰذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَنْظُرَ إِلٰى طَهُوْرِ رَسُولِ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهٰذَا طَهُوْرُهٗ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 411 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن زید سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہاتھ سے کلی کی اور ناک میں پانی لیا۲؎یہ تین بار کیا۔(ابوداؤد وترمذی)

وَعَنْ عَبْدِ ا للهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ فَعَلَ ذٰلِكَ ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 412 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرو کانوں کا مسح فرماتے تھے اندرونی کانوں کا کلمہ کی انگلیوں سے ۱؎بیرونی کا اپنے انگوٹھوں سے۲؎(نسائی)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ: بَاطِنَهُمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرَهُمَابِإِبْهَامَيْهِ.
رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 413 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت ربیع بنت معوذ سے ۱؎انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو فرماتے دیکھا تو آپ نے اپنے اگلے پچھلے حصہ،سر کا اور کنپٹیوں اور کانوں کا ایک بار مسح کیا۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے وضو کیا تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں کے سوراخوں میں ڈالیں ۳؎اسے ابوداؤد نے روایت کیا ترمذی نے پہلی روایت اوراحمدوابن ماجہ نے دوسری روایت نقل کی۔

وَعَن الرُّبَيَّعِ بِنْتِ مُعَوَّذٍ: أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَتْ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ،وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً.
وَفِيْ رِوَايَةٍ: أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِيْ جُحْرَيْ أُذُنَيْهِ.
رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ الرِّوَايَةَ الأُوْلٰى وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ الثَّانِيَةَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 414 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن زید سے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوکرتے دیکھا اور آپ نے اپنے سر کا اس پانی سے مسح نہ کیا جو ہاتھوں کا بچا ہوا تھا ۱؎اسے ترمذی نے روایت کیا اور مسلم نے کچھ زیادتیوں کے ساتھ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ،وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مَعَ زَوَائِدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 415 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے ۱؎کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا فرماتے ہیں کہ آپ آنکھ کے کونوں کو بھی ملتے تھے اور فرمایا کہ دونوں کان سر سے ہیں ۲؎اسے ابن ماجہ،ابوداؤد اورترمذی نے روایت کیا دونوں نے کہا حماد فرماتے ہیں مجھے خبر نہیں کہ یہ قول کہ کان سر سے ہیں آیا ابوامامہ کاقول ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سےہے۳؎

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ ذَكَرَ وُضُوءَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ، وَقَالَ: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَذَكَرَا: قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَدْرِيْ: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ مِنْ قَوْلِ أَبِيْ أُمَامَةَ أَمْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 416 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ ایک بدوی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکروضو کے متعلق پوچھنے لگے تو آپ نے اسے تین باروضوکرکے دکھایا اورفرمایاوضو یوں ہی ہے جو اس پر زیادتی کرے اس نے گناہ کیا تعدی کی اور ظلم کیا ۱؎اسے نسائی ابن ماجہ نے روایت کیا ابوداؤد نے اس کے معنی ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْوُضُوْءِ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: هٰكَذَا الْوُضُوْءُ فَمَنْ زَادَ عَلٰى هٰذَا فَقَدْ أَسَاءَ تَعَدّٰى وَظَلَمَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوٰى أَبُوْ دَاوُدَ مَعْنَاهُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 417 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مغفل سے ۱؎کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہتے سنا کہ الٰہی میں تجھ سے جنت کی داہنی طرف سفید محل مانگتا ہوں تو فرمایا کہ اے میرے بچے اللہ سے جنت مانگواور دوزخ سے اس کی پناہ مانگو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس امت میں وہ قوم ہوگی جو وضو اور دعا میں حد سے تجاوز کیا کرے گی۲؎(احمدوابوداؤد و ابن ماجہ)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الأَبْيَضَ عَنْ يَمِيْنِ الْجَنَّةِ، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ سَلِ اللّٰهَ الْجَنَّةَ، وَتَعَوَّذْ بِهٖ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُول: إِنَّه سَيَكُوْنُ فِيْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُوْنَ فِي الطَّهُوْرِ وَالدُّعَاءِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 418 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ وضو کا ایک شیطان ہے جسےولہانکہا جاتا ہے ۱؎تو پانی کے وسوسوں سے بچو۲؎(ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد محدثین کے نزدیک قوی نہیں کیونکہ ہم نے خارجہ کے سوا کسی کو نہ جانا جو اسے مرفوعًا نقل کرے اور خارجہ ہمارے دوستوں کے نزدیک قوی نہیں۔

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ لِلْوُضُوْءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهٗ الْوَلَهَانُ فَاتَّقُوْا وَسْوَاسَ الْمَاءِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيْثِ لِأَنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهٗ غَيْرَ خَارِجَةَ وَهُوَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 419 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ جب وضو کرتےتو اپنا چہرہ اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے ۱؎(ترمذی)

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ وَجْهَهٗ بِطَرَفِ ثَوْبِهٖ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 420 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کپڑا تھا جس سے وضو کے بعد اپنے اعضاءشریف پونچھا کرتے تھے ۱؎روایت کیا ترمذی نے اور فرمایا کہ یہ حدیث قوی الاسناد نہیں اور ابومعاذ راوی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں ۲؎

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ لِرَسُولِ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِرْقَةٌ يُنَشِّفُ بِهَا أَعْضَاءَهٗ بَعْدَ الْوُضُوْءِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَأَبُوْ مُعَاذِ الرَّاوِيُّ ضَعِيْفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيْثِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 421 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت ثابت ابن ابی صفیہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر سے جومحمدباقرہیں ۲؎عرض کیا آپ کوحضرت جابرنے خبردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار دو دو بارتین تین بار وضو کیا فرمایا ہاں۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)

عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِيْ صَفِيَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِيْ جَعْفَرٍ هُوَ مُحَمَّدٌ الْبَاقِرُ حَدَّثَكَ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا ثَلَاثًا؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 422 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضر ت عبداللہ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو بار وضو کیا اورفرمایاکہ یہ نور پرنورہے ۱؎

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ: هُوَ نُورٌ عَلٰى نُورٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 423 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کیااورفرمایا کہ یہ میرا اورمجھ سے اگلے نبیوں کا وضو ہے اورحضرت ابراہیم کا وضو ہے ۱؎ان دونوں حدیثوں کو رزین نے روایت کیانووی نے شرح مسلم میں دوسری کو ضعیف بتایا۔

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَقَالَ: αهٰذَا وُضُوْئِيْ وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِيْ وَوُضُوءُ إِبْرَاهِيْمَ.رَوَاهُمَا رَزِيْنٌ وَالنَّوَوِيُّ ضَعَّفَ الثَّانِيْ فِيْ شَرْحِ مُسْلِمٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 424 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ۱؎اورہم کو ایک ہی وضواسوقت تک کافی ہوتا جب تک بے وضو نہ ہوتے ۲؎(دارمی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَكَانَ أَحَدُنَا يَكْفِيْهِ الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ. رَوَاهُ الدَّارْمِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 425 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت محمدابن یحیی ابن حبان سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے عبید اللہ ابن عبد اللہ ابن عمر سے کہا کہ بتائیے تو کہ عبد اللہ ابن عمر ہرنماز کے لئے وضو کرتے تھے باوضو ہوں یا بے وضو یہ کس سے لیا تو کہنے لگے کہ انہیں اسماء بنت زید ابن خطاب نے خبری دی۲؎کہ عبد اللہ ابن حنظلہ ابن ابی عامر غسیل نے انہیں خبر دی تھی ۳؎کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیئے وضو کا حکم دیا گیا تھا باوضو ہوں یا بے وضو۴؎لیکن جب یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دشوارہواتو ہرنماز کے وقت مسواک کا حکم دیا گیا اور وضو موقوف کیا گیا ان سے مگر حدث سے۵؎فرمایا عبد اللہ سمجھتے تھے کہ ان میں اس کی طاقت ہے(یعنی ہرنماز کے لیئے تازہ وضو کی)تووفات تک ہی کرتے رہے۶؎(احمد)

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ قَالَ: قُلْتُ لِعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ :أَرَأَيْتَ وُضُوءَ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كانَ أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ، عَمَّنْ أَخَذَهٗ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِيْ عَامِرِالْغَسِيْلِ حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أُمِرَ بِالْوُضُوْءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كَانَ أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذٰلِكَ عَلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَوُضِعَ عَنْهُ الْوُضُوءُ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ قَالَ فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَرٰى أَنَّ بِهٖ قُوَّةً عَلٰى ذٰلِكَ فَفَعَلَهُ حَتّٰى مَاتَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 426 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے عبد اللہ ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد پرگزرے جب وہ وضو کررہے تھے تو فرمایا اے سعد یہ اسراف کیسا(فضول خرچی)عرض کیا کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟فرمایا ہاں۔اگرچہ تم بہتی نہر پر ہو ۱؎(احمدوابن ماجہ)

وَعَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: مَا هٰذَا السَّرْفُ يَا سَعْدُ . قَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ سَرْفٌ؟ قَالَ: نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلٰى نَهْرٍ جَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 427 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ وابن مسعود وابن عمر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو وضو کرے اور اللہ کا نام لے تو وہ وضو اس کے سارے جسم کو پاک کردیتا ہے اور جو وضو کرے اور اللہ کا نام نہ لے تو صرف وضو کی جگہ ہی کو پاک کرتا ہے ۱؎

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ تَوَضَّأَ وَذَكَرَ اسْمَ الله فَإِنَّهُ يُطَهِّرُ جَسَدَهٗ كُلَّهٗ وَمَنْ تَوَضَّأَ وَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ لَمْ يُطَهِّرْ إِلَّا مَوضِعَ الْوُضُوءِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 428 ، باب: وضوء کی سنتیں

روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیئے وضو کرتے تو اپنی انگلی کی انگوٹھی کو ہلاتے تھے ۱؎ان دونوں کو دارقطنی نے روایت کیا اور ابن ماجہ نے اخیرکو۔

وَعَنْ أَبِيْ رَافِعٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوْءَ الصَّلَاةِ حَرَّكَ خَاتَمَهٗ فِيْ أُصْبُعِهٖ. رَوَاهُمَا الدَّارَقُطْنِيْ. وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ الأَخِيْرَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 429 ، باب: وضوء کی سنتیں