- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہی حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزروں تو کچھ چرلیا کرو ۱؎عرض کیا گیا کہ حضور جنت کے باغ کیا ہیں؟ فرمایا مسجدیں عرض کیا گیا چرنا کیا ہے یارسول اللہ؟ فرمایاسُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُکہنا ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوْا" قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: "الْمَسَاجِدُ". قِيلَ: وَمَا الرَّتْعُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 729 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوشخص مسجد میں جس چیز کے لیے آئے گا وہ اس کا حصہ ہوگا ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ بِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهٗ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 730 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت فاطمہ بنت حسین سے ۱؎وہ اپنی دادی حضرت فاطمۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے راوی۲؎فرماتی ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمدمصطفی پر درود و سلام بھیجتے ۳؎اورفرماتے الٰہی میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلتے تو جناب مصطفےٰ پر درود و سلام بھیجتے اورفرماتے یارب میرے گناہ بخش دے میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۴؎(ترمذی،احمد،ابن ماجہ)ان دونوں کی روایت میں یہ بھی ہے کہ فرماتی ہیں جب مسجد میں جاتے اوریونہی جب نکلتے تو بجائے صلوۃ وسلام کے یہ کہتےبسم الله والسلام علی رسول الله۵؎ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد متصل نہیں فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبرےٰ کو نہ پایا ۶؎
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرٰى -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا- قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلّٰى عَلٰى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ:"رَبِّ اغْفِرْ لِيْ ذُنُوبِيْ، وَافْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ"، وَإِذَا خَرَجَ صَلّٰى عَلٰى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ: "رَبِّ اغْفِرْ لِيْ ذُنُوبِيْ، وَافْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ فَضْلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ، وَفِيْ رِوَايَتِهِمَا قَالَتْ: إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَكَذَا إِذَا خَرَجَ قَالَ: "بِسْمِ اللّٰهِ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ" بَدَلَ: صَلّٰى عَلٰى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِلٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرٰى.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 731 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے ۲؎اور وہاں خرید و فروخت سے منع فرمایا ۳؎اوراس سے منع کیا کہ لوگ جمعہ کے دن مسجد میں نمازسے پہلے حلقے بناکربیٹھیں ۴؎(ابو داؤد،ترمذی)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ، وَعَنِ الْبَيع وَالاشْتِرَاءِ فِيهِ، وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 732 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم اسے دیکھو جومسجدمیں خریدو فروخت کررہا ہے تو کہہ دو اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے ۱؎اورجب تم وہاں کسی کو گمی ہوئی چیز ڈھونڈھتے دیکھو تو کہہ دو خدا کرے تیری چیز نہ ملے ۲؎(ترمذی ودارمی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيْعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُوْلُوْا: لَا أَرْبَحَ اللّٰهُ تِجَارَتَكَ. وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُوْلُوْا: لَا رَدَّ اللّٰهُ عَلَيْكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 733 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے ۱؎اور وہاں اشعار پڑھنے اوروہاں حدیں قائم کرنے سے منع فرمایا ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيْهِ الأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِيْهِ الْحُدُوْدُ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ فِي "سُنَنِهٖ" وَصَاحِبُ "جَامِعِ الأُصُوْلِ" فِيْهِ عَنْ حَكِيْمٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 734 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
جامع الاصول میں حکیم سے اور مصابیح میں جابر سے۔
وَفِي "الْمَصَابِيْحِ": عَنْ جَابِرٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 735 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت معاویہ ابن قرہ سے ۱؎وہ اپنے والدسے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو درختوں یعنی پیازو لہسن سے منع فرمایا اور فرمایا کہ جو یہ کھائے ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ۲؎اورفرمایا اگرتمہیں ضروری کھانا ہو تو انہیں پکا کر مار دیاکرو ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ ابْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- نَهٰى عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ، يَعْنِي: الْبَصَلَ وَالثُّومَ، وَقَالَ: "مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا". وَقَالَ:"إِن كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيْهِمَا فَأَمِيْتُوْهُمَا طَبْخًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 736 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ساری زمین مسجد ہے سوائے قبرستان اور حمام کے ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،دارمی)
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 737 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات جگہ نماز پڑھنے سے منع کیا: کوڑی،مذبح،قبرستان ۱؎،بیچ راستہ میں ۲؎اور حمام اور اونٹ بندھنے کی جگہ ۳؎اورکعبہ شریف کی چھت پر ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنْ يُصَلّٰى فِيْ سَبْعَةِ مَوَاطِنَ:فِي الْمَزْبَلَةِ، وَالْمَجْزَرَةِ، وَالْمَقْبَرَةِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَفِي الْحَمَّامِ، وَفِيْ مَعَاطِنِ الإِبِلِ، وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللّٰهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 738 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بکریوں کے بندھنے کی جگہ نماز پڑھو اور اونٹ بندھنے کی جگہ نماز نہ پڑھو ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "صَلُّوْا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوْا فِيْ أَعْطَانِ الإِبِلِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 739 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر ۱؎اور قبروں پرمسجدیں بنانے والوں اور چراغ جلانے والوں پر ۲؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا- قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- زَائِرَاتِ الْقُبُوْرِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 740 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عالم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سی جگہ بہترہے حضورخاموش رہے ۱؎اور فرمایا میں جبریل کے آنے تک خاموش رہوں گا چنانچہ خاموش رہے ۲؎اورحضرت جبریل حاضر ہوئے حضور نے ان سے پوچھا وہ بولے کہ جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے بڑا عالم نہیں ۳؎لیکن میں اپنے رب سے پوچھوں گا ۴؎پھرجبریل کہنے لگے اے محمدمصطفی میں آج اللہ سے اتنا قریب ہوا کہ اس سے پہلے کبھی قریب نہ ہوا تھا ۵؎حضور نے فرمایا کہ کتنا قریب ہوا اے جبریل!عرض کیا کہ میرے اور رب کے درمیان صرف ستر ہزار نور کے پردے رہ گئے رب نے فرمایا ۶؎کہ بدترین جگہ بازار ہے اوربہترین جگہ مسجدیں اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابن عمر سے روایت کیا۔
وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ قَالَ: إِنَّ حَبْرًا مِنَ الْيَهُودِ سَأَلَ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ وَقَالَ: "أَسْكُتُ حَتّٰى يَجِيْءَ جِبْرِيْلُ" فَسَكَتَ وَجَاءَ جِبْرِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَسَأَلَ فَقَالَ: مَا الْمَسْؤُوْلُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ أَسْأَلُ رَبِّيَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيْلُ: يَا مُحَمَّدُ! دَنَوْتُ مِنَ اللّٰهِ دُنُوًّا مَا دَنَوْتُ مِنْهُ قَطُّ، قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ يَا جِبْرِيْلُ؟ قَالَ: كَانَ بَيْنِيْ وَبَيْنَهٗ سَبْعُوْنَ أَلْفَ حِجَابٍ مِنْ نُورٍ، فَقَالَ: شَرُّ الْبِقَاعِ أَسْوَاقُهَا، وَخَيْرُ الْبِقَاعِ مَسَاجِدُهَا. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي "صَحِيْحِهٖ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 741 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو میری اس مسجد میں آئے مگر نہ آئے سوائے بھلائی سیکھنے یا سکھانے تو وہ غازی فی سبیل اللہ کے درجے میں ہے ۱؎اورجو اس کے سواکسی کام کے لئے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو دوسرے کا مال تکے۲؎(ابن ماجہ)اوربیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ: "مَنْ جَاءَ مَسْجِدِيْ هٰذَا لَمْ يَأْتِهٖ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهٗ أَوْ يُعَلِّمُهٗ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذٰلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلٰى مَتَاعِ غَيْرِهٖ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 742 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت حسن سے مرسلًا فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ان کی دنیاوی باتیں مسجدوں میں ہوں گی تم ان میں نہ بیٹھنا ۱؎ایسوں کی اللہ کو ضرورت نہیں ۲؎بیہقی شعب الایمان۔
وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَأْتِيْ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُوْنُ حَدِيثُهُمْ فِيْ مَسَاجِدِهِمْ فِيْ أَمْرِ دُنْيَاهُمْ، فَلَا تُجَالِسُوهُمْ فَلَيْسَ لِلّٰهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 743 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت سائب ابن یزیدسے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں سورہا تھاکسی نے مجھے کنکری ماری میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق تھے ۲؎فرمایا جاؤ ان دونوں کو میرے پاس لاؤ میں ان دونوں کو لے کر آیا فرمایا تم لوگ کون ہو یا کہاں سے آئے ہو وہ بولے ہم طائف والے ہیں فرمایا اگر تم مدینہ والوں میں سے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا ۳؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آوازیں اونچی کرتے ہو ۴؎(بخاری)
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ نائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِيْ رَجُلٌ، فَنَظَرتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ- فَقَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِيْ بِهٰذَيْنِ، فَجئْتُهٗ بِهِمَا، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا؟ أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، قَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لأَوْجَعْتكُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 744 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت مالک سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمرنے مسجد کے گوشے میں چبوترہ بنایا تھا جسے بطیحاءکہاجاتاتھا ۱؎اور فرمایا جوباتیں کرنایاشعر پڑھنا یا شورکرنا چاہے وہ اس چبوترے کی طرف چلا جائے ۲؎(موطا)
وَعَنْ مَالِكٍ قَالَ: بَنٰى عُمَرُ رَحَبَةً فِيْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّى الْبُطَيْحَاءَ، وَقَالَ: مَنْ كَانَ يُرِيْدُ أَنْ يَلْغَطَ أَوْ يُنْشِدَ شِعْرًا أَوْ يَرْفَعَ صَوْتَهٗ فَلْيَخْرُجْ إِلَى هٰذِهِ الرَّحَبَةِ. رَوَاهُ فِي "الْمُوَطَّأ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 745 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی جانب رینٹھ دیکھی ۱؎آپ کوناگوارگزرا حتی کہ ناگواری چہرۂ انور میں دیکھی گئی پھر اٹھے اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا ۲؎فرمایا کہ تم میں سے کوئی جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے باتیں کرتا ہے اور اس کا رب اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتاہے ۳؎لہذا کوئی قبلے کی طرف ہرگز نہ تھوکے لیکن بائیں طرف یاپاؤں کے نیچے ۴؎پھراپنی چادر کا کونہ پکڑا اس میں تھوکا پھراسے مل ڈالا فرمایا یا ایسے کرے ۵؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ، فَشَقَّ ذٰلِكَ عَلَيْهِ، حَتّٰى رُئِيَ فِي وَجْهِهٖ، فَقَامَ فَحَكَّهٗ بِيَدِهٖ فَقَالَ: "إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يُنَاجِيْ رَبَّهٗ، وَإِنَّ رَبَّهٗ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْقِبلَةِ، فَلَا يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُم قِبَلَ قِبْلَتِهٖ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهٖ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهٖ". ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهٖ فَبَصَقَ فِيْهِ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَقَالَ: "أَوْ يَفْعَلُ هٰكَذَا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 746 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت سائب ابن خلاد سے وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک ہیں ۱؎فرمایا ایک شخص نے قوم کی امامت کی،قبلے کی طرف تھوک دیا حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فراغت پراس کی قوم سے فرمایا کہ آئیندہ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے ۲؎اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی لوگوں نے روک دیا اورحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آگاہ کیا،اس نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا فرمایا ہاں۔مجھے خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تو نے اللہ رسول کو ستایا ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنِ السَّائِب بْنِ خَلَّادٍ -وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: إِنْ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لِقَومِهٖ حِيْنَ فَرَغَ: "لَا يُصَلِّيْ لَكُمْ". فَأَرَادَ بَعْدَ ذٰلِك أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَأَخْبرُوهُ بِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَذَكَرَ ذٰلِكَ لِرَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: نَعَمْ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّكَ قَدْ آذَيْتَ اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 747 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں تشریف لانے میں تاخیرکی قریب تھا کہ ہم سورج دیکھ لیں ۱؎آپ تیزی سے تشریف لائے نماز کی تکبیرکہی گئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور نماز میں اختصار کیا۲؎جب سلام پھیرا تو آواز سے فرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو جیسے ہو،پھر ہماری طرف توجہ فرمائی پھر فرمایا میں تمہیں بتاتا ہوں کہ آج صبح مجھے تم سے کس چیز نے روکا ۳؎میں رات میں اٹھا وضو کیا جس قدرمقدر میں تھا نماز پڑھی نماز ہی میں مجھے اونگھ آگئی حتی کہ نیند غالب ہوگئی ۴؎اچانک میں اپنے رب تعالٰی کے پاس اچھی صورت میں تھا ۵؎فرمایا اے محمد ۶؎میں نے عرض کیا مولا میں حاضر ہوں فرمایا مقرب فرشتے کس میں جھگڑتے ہیں میں نے کہا مجھے نہیں خبر ۷؎یہ تین بار فرمایا فرماتے ہیں میں نے رب کو دیکھا کہ اس نے اپنا دست رحمت میرے کندھوں کے بیچ رکھا حتّٰی کہ میں نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینہ میں پائی ۸؎تو مجھے ہر چیز ظاہر ہوگئی اور میں نے پہچان لی۹؎پھرفرمایا اے محمد میں نے فرمایا یارب حاضر ہوں فرمایا مقرب فرشتے کس میں جھگڑتے ہیں ۱۰؎میں نے کہا کَفاروں میں فرمایا وہ کَفارے کیا ہیں میں نے عرض کیا جماعتوں کی طرف پیدل جانا،نمازوں کے بعدمسجدوں میں بیٹھنا،ناگوارحالتوں میں پورا وضوکرنا ۱۱؎فرمایا پھر کاہے میں جھگڑتے ہیں میں نے عرض کیا درجوں میں فرمایا وہ کیا چیز ہیں میں نے کہا کھاناکھلانا،نرمی سے گفتگوکرنا اورجب لوگ سوتے ہوں تو نماز پڑھنا۱۲؎فرمایا کچھ مانگ لوفرماتے ہیں میں نے عرض کیا الٰہی میں تجھ سے نیکیاں کرنا برائیاں چھوڑنا اور مسکینوں سے محبت مانگتا ہوں اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر اور جب تو کسی قوم میں فتنہ بھیجنا چاہے تو مجھے بغیر فتنے میں مبتلا کئے وفات دیدے اور میں تجھ سے تیری محبت اور جو تجھ سے محبت کریں ان کی محبت اور اس عمل کی محبت جو مجھے تیری محبت سے قریب کردے مانگتا ہوں ۱۳؎فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خواب برحق ہے یہ دعائیں یاد کرلو پھر سکھاؤ ۱۴؎(احمدوترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے میں نے محمد ابن اسماعیل سے پوچھافرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: احْتَبَسَ عَنَّا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتّٰى كِدْنَا نَتَرَاءٰى عَيْنَ الشَّمْسِ، فَخَرَجَ سَرِيْعًا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلّٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهٖ، فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِهٖ فَقَالَ لَنَا: "عَلٰى مَصَافِّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ"، ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا ثُمَّ قَالَ: "أَمَا إِنِّيْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِيْ عَنْكُمُ الْغَدَاةَ، إِنِّيْ قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِيْ، فَنَعَسْتُ فِيْ صَلَاتِيْ حَتَّى اسْتَثْقَلْتُ، فَإِذَا أَنَا بِرَبِّيْ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى فِي أَحْسَنِ صُوْرَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ، قَالَ: فِيْمَ يخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَى؟ قُلتُ: لَا أَدْرِي" قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: "فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهٗ بَيْنَ كَتِفَيَّ، حَتّٰى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهٖ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَتَجَلّٰى لِيْ كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ، قَالَ: فِيْمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ، قَالَ: مَا هُنَّ؟ قُلْتُ: مَشْيُ الأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ حِيْنَ الْكَرِيهَاتِ، قَالَ: ثُمَّ فِيْمَ؟ قُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ، قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَلِيْنُ الْكَلَامِ، وَالصَّلَاةُ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، قَالَ: سَلْ، قَالَ: قُلتُ: اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِيْنِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِيْ، وَتَرْحَمَنِيْ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِيْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكُ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِيْ إِلٰى حُبِّكَ". فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوْهَاثُمَّ تَعَلَّمُوْهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيْلَ عَنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ فَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 748 ، باب: مسجدوں اورنماز کے مقامات کابیان