- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت ام فروہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیاکون سا عمل بہترہے فرمایا اول وقت نماز پڑھنا ۱؎(احمدوترمذی،ابوداؤد)ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صرف عبداللہ ابن عمر عمری سے مروی ہے اوروہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ۲؎
وَعَنْ أُمِّ فَرْوَةَ قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "الصَّلَاةُ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يُرْوَى الْحَدِيثُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، وَهُوَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 607 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز اس کے آخروقت میں دوباربھی نہ پڑھی حتی کہ رب نے آپ کو وفات دی ۱؎(مرقاۃ)
وَعَنْ عَائِشَةَ --رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا- قَالَتْ: مَا صَلّٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صَلَاةً لِوَقْتِهَا الآخِرِ مَرَّتَيْنِ حَتّٰى قَبَضَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 608 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت بھلائی پریافرمایا فطرت پر رہیگی ۱؎جب تک مغرب کو تاروں کے گتھ جانے تک پیچھے نہ کریں ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِيْ أَيُّوْبَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَزَالُ أُمَّتِيْ بِخَيْرٍ أَوْ قَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 609 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
دارمی نے حضرت عباس سے روایت کی۔
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنِ الْعَبَّاسِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 610 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت پرمشقت ڈال دوں گا تو انہیں حکم دیتا کہ عشاءکوتہائی یا آدھی رات تک پیچھے کریں ۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰى أُمَّتِيْ لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُؤَخِّرُوا الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهٖ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 611 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس نماز کو دیرسے پڑھاکروکیونکہ تم کو اس کی وجہ سے ساری امتوں پر بزرگی دی گئی کہ تم سے پہلے یہ نماز کسی امت نے نہ پڑھی ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَعْتِمُوْا بِهَذہ الصَّلَاةِ فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلٰى سَائِرِ الأُمَمِ، وَلَمْ تُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 612 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرمایا کہ میں اس نمازیعنی آخری عشاءکے نماز کاوقت خوب جانتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز تیسری شب کے چاند ڈوب جانے پر پڑھا کرتے تھے ۱؎(ابوداؤد،دارمی)
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِوَقْتِ هٰذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 613 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں فرمایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجرروشنی میں پڑھوکیونکہ اس کا ثواب بڑا ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی) ۲؎اورنسائی کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ اس کا ثواب بڑا ہے۔
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ، وَلَيْسَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ: "فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 614 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اونٹ ذبح کیاجاتاپھراس کے دس حصے کئے جاتے پھرپکایاجاتا ہم سورج ڈوبنے سے پہلے بھناگوشت کھالیتے ۱؎(مسلم،بخاری)
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، ثُمَّ يُنْحَرُ الْجَزُورُ،فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ، ثُمَّ تُطْبَخُ، فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 615 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات آخری عشاء کی نماز کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے ہوئے بہت بیٹھے ۱؎آپ تب تشریف لائے جب تہائی رات گزر گئی یا اس کے بھی بعدہمیں خبرنہیں کہ حضور کوکسی کام نے اپنے گھرمیں روک رکھایاکچھ اورسبب تھا۲؎جب تشریف لائے تو فرمایا کہ تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہوجس کا تمہارے سوا کوئی دین والا انتظار نہیں کررہا ہے ۳؎اگرمیری امت پرگراں نہ ہوتا تو میں ان کو یہ نماز اس ہی وقت پڑھایاکرتا ۴؎پھر مؤذن کو حکم دیا انہوں نے نمازکی تکبیرکہی اورنماز پڑھی۔(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صَلَاةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهٗ، فَلَا نَدْرِيْ أَشَيْءٌ شَغَلَهٗ فِيْ أَهْلِهٖ أَوْ غَيْرُ ذٰلِكَ ؟ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: "إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِروْنِ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِيْنٍ غَيْرُكُمْ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلٰى أُمَّتِيْ لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هٰذِهِ السَّاعَةَ" ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلّٰى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 616 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت جابربن سمرہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں تمہاری ہی نمازوں کی طرح پڑھتے تھے ۲؎لیکن عشاءکی نماز تمہاری نمازسے کچھ دیرمیں پڑھتے تھے۳؎اورنمازہلکی پڑھتے تھے۴؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا، وَكَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 617 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت ابوسعیدسے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاءکی نمازپڑھی پس تشریف نہ لائے حتی کہ قریبًا آدھی رات گزرگئی ۱؎پھرفرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو چنانچہ ہم اپنی جگہ بیٹھے رہے پھرفرمایاکہ لوگ نماز پڑھ چکے اوراپنے بستروں پر چلے گئے ۲؎اورتم نماز ہی میں رہے جب تک کہ نماز کا انتظارکرتے رہے اوراگر کمزوروں کی کمزوری اوربیماروں کی بیماری نہ ہوتی تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر(پیچھے) کردیتا ۳؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ حَتّٰى مَضٰى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: "خُذُوْا مَقَاعِدَكُمْ" فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا، فَقَالَ: "إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوْا وَأَخَذُوْا مَضَاجِعَهُمْ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوْا فِيْ صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيْفِ وَسَقَمُ السَّقِيْمِ لأَخَّرْتُ هٰذِهِ الصَّلَاةَ إِلٰى شَطْرِ اللَّيْلِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 618 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بمقابلہ تمہارے ظہرجلدی پڑھتے تھے اورتم عصرحضور سے جلدی پڑھتے ہو ۱؎(احمدوترمذی)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ، وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيْلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 619 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب گرمی ہوتی تو نمازٹھنڈی کرکے پڑھتے اورجب سردی ہوتی توجلدی پڑھتے ۱؎(نسائی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 620 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت عبادہ بن صامت سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم پر ایسے حکام ہوں گے جنہیں کچھ چیزیں وقت پر نماز پڑھنے سے روک دیں گی ۱؎یہاں تک کہ ان کے وقت نکل جایا کریں گے تو تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرو ۲؎ایک صاحب بولے کہ یارسول اللہ ان کے ساتھ بھی ہم نماز پڑھاکریں فرمایا ہاں ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّهَا سَتَكُوْنُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا حَتّٰى يَذْهَبَ وَقْتُهَا فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا". فَقَالَ رَجُل: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ أُصَلِّيْ مَعَهُمْ؟ قَالَ: "نَعَمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 621 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت قبیصہ ابن وقاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بعد تم پر ایسے حکام ہوں گے جونمازمیں دیرلگایاکریں گے تو وہ تمہارے لئے مفید اوران پر وبال ہے ۱؎تم ان کے ساتھ نمازپڑھتے رہنا جب تک وہ کعبے کی طرف نمازپڑھیں ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ قَبِيْصَةَ ابْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"يَكُوْنُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يُؤَخِّرُوْنَ الصَّلَاةَ فَهِيَ لَكُمْ وَهِيَ عَلَيْهِمْ، فَصَلُّوْا مَعَهُمْ مَا صَلَّوُا الْقِبْلَةَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 622 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
روایت ہے حضرت عبیداللہ ابن عدی ابن خیار سے ۱؎کہ وہ حضرت عثمان کے پاس گئے جب کہ آپ محاصرہ میں تھے۲؎عرض کیا کہ آپ عام لوگوں کے امام ہیں اورآپ پر وہ بلا اتری ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اور ہم کوفتنے کا امام نمازپڑھا رہاہے ۳؎ہم اس میں حرج سمجھتے ہیں آپ نے فرمایا کہ نمازانسان کے سارے اعمال سے بہترہے تو جب لوگ بھلائی کریں تو تم بھی ان کے ساتھ بھلائی کرو ۴؎اورجب برائی کریں تو تم ان کی برائی سے بچو (بخاری)
وَعَنْ عُبَيْدِ اللّٰهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ: أَنَّهٗ دَخَلَ عَلٰى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا تَرٰى، وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ، وَنَتَحَرَّجُ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاؤُوْا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 623 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب
- 1
- 2