باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت سیارابن سلامہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والدحضرت ابی برزہ اسلمی کے پاس گئے ۲؎ان سے میرے باپ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کیسے پڑھتے تھے وہ بولے کہ دوپہری کی نماز جسے تم پہلی کہتے ہو تب پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا ۳؎اورعصر پڑھتے پھر ہم میں سے ایک کنارہ مدینہ میں اپنے گھر پہنچ جاتا حالانکہ سورج صاف ہوتا ۴؎اورجوکچھ مغرب کے بارے میں فرمایاوہ میں بھول گیا اورآپ عشاءجسے تم عتمہ کہتے ہواسے دیرسے پڑھنے کوپسندفرماتے تھے ۵؎اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات چیت ناپسند فرماتے تھے ۶؎اورنمازفجرسے جب فارغ ہوتے جب کہ آدمی اپنے پاس والے کوپہچان لیتاحالانکہ آپ ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے ۷؎اور ایک روایت میں ہے کہ آپ عشاءکوتہائی رات تک تاخیر کرنے میں پروا نہ کرتے تھے اس سے پہلے سونا اوراس کے بعد بات چیت کرنا ناپسندفرماتے تھے۔(مسلم،بخاری)

عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِيْ عَلٰى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ لَهٗ أَبِيْ: كَيْفَ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّي الْمَكْتُوْبَةَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِيْ تَدْعُونَهَا الأُولٰى حِيْنَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلٰى رَحْلِهٖ فِيْ أَقْصَى الْمَدِيْنَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيْتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَن يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِيْ تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيْسَهٗ وَيَقْرَأُ بِالسِتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ. وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 587 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت محمد ابن عمرو ابن حسن ابن علی سے فرماتے ہیں ہم نے جابر ابن عبداللہ سے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا فرمایاظہردوپہری میں پڑھتے تھے اور عصر جب کہ سورج صاف ہوتا اورمغرب جب کہ سورج ڈوب جاتاہے اورعشاءجب لوگ زیادہ ہوتے توجلدی پڑھ لیتے اورجب تھوڑے ہوتے تودیرمیں پڑھتے اورصبح اندھیرے میں ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ ابْنَ عَبْدِ اللّٰهِ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ، وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 588 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہرپڑھتے توگرمی سے بچنے کے لئے اپنے کپڑوں پرسجدہ کرتے تھے ۱؎(مسلم،بخاری)لفظ بخاری کے ہیں۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِالظَّهَائِرِ سَجَدْنَا عَلٰى ثِيَابِنَا اتَّقَاءَ الْحَرِّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَلَفْظُهٗ لِلْبُخَارِيِّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 589 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب گرمی تیز ہو نمازٹھنڈی کرو۔

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوْا بِالصَّلَاةِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 590 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

اوربخاری کی ایک روایت میں حضرت ابوسعید سے ہے کہ ظہرٹھنڈی کرو ۱؎کیونکہ گرمی کی تیزی دوزخ کی بھڑک سے ہے ۲؎آگ نے اپنے رب سے شکایت کی تھی کہا تھا اے رب میرے بعض نے بعض کو کھا ڈالا رب نے اسے دوسانسوں کی اجازت دی ایک سانس سردی میں اور ایک گرمی میں یہ وہی تیز گرمی اور ٹھنڈک ہے جسے تم محسوس کرتے ہو ۳؎(مسلم،بخاری) اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جو تیزگرمی تم پاتے ہو یہ دوزخ کی گرم سانس سے ہے اورجوتیز ٹھنڈک تم پاتے ہو یہ اس کی ٹھنڈی سانس سے ہے

وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ عَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ: "بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِيْ بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ: نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ من الزَّمْهَرِيرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: "فَأَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّفَمِنْ سَمُومِهَا، وَأَشَدُّ مَا تَجدُوْنَ مِنَ الْبَرْدِ فَمِنْ زَمْهَرِيرِهَا".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 591 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر اس وقت پڑھتے تھے کہ سورج بلنداورصاف ہوتاتھاکہ جانے والا اطراف مدینہ کی طرف جاتاوہاں اس وقت پہنچ جاتاکہ سورج بلندہوتاحالانکہ بعض اطراف مدینہ سے چار میل یا اس کی مثل تھے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهِمْ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، وَبَعْضُ الْعَوَالِيْ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلٰى أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ أَوْ نَحْوِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 592 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ منافق کی نمازہے کہ بیٹھا ہواسورج کا انتظار کرتا رہے حتی کہ جب پیلا پڑجائے اورشیطان کے دوسینگوں کے بیچ آجائے توکھڑاہوکرچار چونچیں مارے کہ ان میں اللہ کا تھوڑا ہی ذکر کرے ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ: يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰى إِذَا اصْفَرَّتْ، وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللّٰهَ فِيْهَا إِلَّا قَلِيْلًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 593 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضر ت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس کی نماز عصر جاتی رہی گویا اس کا گھر باراورمال لٹ گیا ۱؎۔(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الَّذِي يَفُوتُهٗ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهٗ وَمَالَهٗ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 594 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جونمازعصر چھوڑدے اس کے عمل ضبط ہو گئے ۱؎(بخاری)

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 595 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھتے تھے تو ہم میں سے ایک اس وقت لوٹتا جب اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ لیتا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَيَنْصَرِف أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 596 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ صحابہ نمازعشاءشفق غائب ہونے سے رات کی اگلی تہائی کے درمیان پڑھتے تھے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا- قَالَتْ: كَانُوْا يُصَلُّونَ الْعَتَمَةَ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيْبَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الأَوَّلِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 597 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تھے پھرعورتیں اپنی چادروں میں لپیٹی ہوئی لوٹ جاتی تھیں اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَتَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 598 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱؎وہ حضرت انس سے راوی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورزید ابن ثابت نے سحری کھائی جب سحری سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازکی طرف اٹھے اورنماز پڑھ لی ہم نے حضرت انس سے کہا کہ ان بزرگوں کے سحری سے فراغت اورنمازکی مشغولیت میں کتنا فاصلہ تھا فرمایا اس قدر کہ کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے۲؎(بخاری)

وَعَنْ قَتَادَةَ عَن أَنَسٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُوْرِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلّٰى قُلْنَا لأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُوْرِهِمَا وَدخُوْلِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِيْنَ آيَةً. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 599 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہاراکیاحال ہوگاجب تم پرایسے حکام مسلط ہوں گے جو نمازوں کو فوت کردیا کریں گے یا ان کے وقتوں سے پیچھے کردیاکریں گے ۱؎میں نےعرض کیا کہ مجھے آپ کیا حکم دیتے ہیں فرمایا کہ نماز اپنے وقت پر پڑھ لیاکرنااگران کے ساتھ بھی پالو تو پھرپڑھ لینا،کہ وہ تمہارے نفل ہوں گے۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُمِيْتُونَ الصَّلَاةَ أَوْ يُؤَخِّرُونَ عَنْ وَقْتِهَا؟ " قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِيْ؟ قَالَ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَكَ نافِلَةٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 600 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوسورج نکلنے سے پہلے فجرکی ایک رکعت پالے اس نے فجرپالی اورجو سورج ڈوبنے سے پہلے عصرکی ایک رکعت پالے اس نے عصرپالی ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 601 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی سورج ڈوبنے سے پہلے عصرکی ایک رکعت پالے وہ اپنی نماز پوری کرلے اورجب سورج چمکنے سے پہلے فجرکی ایک رکعت پالے تو اپنی نماز پوری کرے ۱؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهٗ، وَإِذَا أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهٗ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 602 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جونمازبھول جائے یااس سے غافل ہوکر سو جائے ۱؎تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے تو پڑھ لے ایک روایت میں ہے اس کاکفارہ اس کے سواءاورکچھ نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا". وَفِي رِوَايَةٍ: "لَا كَفَّارَة لَهَا إِلَّا ذَلِك". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 603 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سوجانے میں کوتاہی(قصور)نہیں کوتاہی صرف بیداری میں ہے ۱؎تو جب کوئی نمازبھول جائے یا اس سے غافل ہوکرسوجائے جب یاد آئے تو پڑھ لے چونکہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ میری یاد کے وقت نماز قائم کرو ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِيْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 604 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اے علی تین چیزوں میں دیر نہ لگاؤ نمازجب آجائے ۱؎اورجنازہ جب تیارہوجائے اور لڑکی جب اس کا ہم قوم مل جائے
۲
؎(ترمذی)

عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "يَا عَلِيُّ، ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا: الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ، وَالْجِنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفُؤًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 605 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازاول وقت میں اللہ کی خوشنودی ہے اورآخر وقت میں اللہ کی معافی ۱؎(ترمذی)

وَعَنِ ابنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْوَقْتُ الأَوَّلُ مِنَ الصَّلَاةِ رِضْوَانُ اللّٰهِ، وَالْوَقْتُ الآخَرُ عَفْوُ اللّٰهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 606 ، باب : جلدنمازپڑھنے کاباب