DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Buruj Ayat 3 Translation Tafseer

رکوعاتہا 1
سورۃ ﴙ
اٰیاتہا 22

Tarteeb e Nuzool:(27) Tarteeb e Tilawat:(85) Mushtamil e Para:(30) Total Aayaat:(22)
Total Ruku:(1) Total Words:(124) Total Letters:(461)
2-3

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ(۲)وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ(۳)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے۔اور گواہ دن کی اور اس دن کی جس میں (لوگ) حاضر ہوتے ہیں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ: اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  جن دِنوں  کی قسم ارشاد فرمائی گئی ،اس کے بارے میں  حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’وعدے کے دن سے قیامت کا دن،حاضر ہونے کے دن سے عرفہ کا دن اور گواہ دن سے جمعہ کا دن مراد ہے۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ البروج، ۵ / ۲۲۲، الحدیث: ۳۳۵۰)

            چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اور قیامت کے اس دن کی قسم !جس میں  تمام زمین اور آسمان والوں  کو جمع کرنے کا وعدہ ہے اورجمعہ کے اس دن کی قسم !جو کہ بندوں  کے اعمال کا گواہ ہے اورعرفہ کے اس دن کی قسم! جس میں  آدمی اور فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔( قرطبی، البروج،تحت الآیۃ:۲-۳،۱۰ / ۲۰۰،الجزء التاسع عشر، جلالین، البروج،تحت الآیۃ:۲-۳،ص۴۹۵، ملتقطاً)

{وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍ: اور گواہ دن کی اور اس دن کی جس میں  (لوگ) حاضر ہوتے ہیں ۔} جیساکہ اوپر بیان ہوا کہ یہاں  گواہ دن سے مراد جمعہ کا دن اور جس دن میں  لوگ اور فرشتے حاضر ہوتے ہیں  اس سے عرفہ کا دن مراد ہے ،اسی مناسبت سے ہم یہاں  جمعہ اور عرفہ کے دن کے چند فضائل بیان کرتے ہیں ۔

جمعہ اور عرفہ کے دن کے6 فضائل:

(1)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بہتر دن کہ جس پر سورج طلوع ہوا، جمعہ کا دن ہے، اسی دن میں  حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پیدا کیے گئے اور اسی دن جنت میں  داخل کیے گئے اور اسی دن جنت سے اترنے کا انہیں  حکم ہوا اور قیامت جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔( مسلم، کتاب الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ، ص۴۲۵، الحدیث: ۱۸(۸۵۴))

(2)…حضرت ابو لبابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جمعہ کا دن تمام دنوں  کا سردار ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ دن اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک عیدالاضحی اورعید الفطر سے بڑا ہے، اس میں  پانچ خصلتیں  ہیں ۔ (1) اللّٰہ تعالیٰ نے اسی دن میں  حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پیدا کیا۔ (2) اور اسی دن میں زمین پر انہیں  اتارا۔ (3) اور اسی دن میں  انہیں  وفات دی۔ (4) اور اس دن میں  ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے اللّٰہ تعالیٰ اسے دے گا، جب تک حرام کا سوال نہ کرے۔ (5) اور اسی دن میں  قیامت قائم ہوگی، کوئی مُقَرّب فرشتہ ، آسمان ، زمین ، ہوا ، پہاڑ اور دریا ایسا نہیں  ہے کہ وہ جمعہ کے دن سے ڈرتے نہ ہوں۔( ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب فی فضل الجمعۃ، ۲ / ۸، الحدیث: ۱۰۸۴)

(3)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جمعہ کے دن اور رات میں  چوبیس گھنٹے ہیں  اورکوئی گھنٹہ ایسا نہیں  جس میں  اللّٰہ تعالیٰ جہنم سے چھ لاکھ ایسے افراد کو آزاد نہ کرتا ہو جن پر جہنم واجب ہوگیا تھا۔( مسند ابو یعلی، مسند انس بن مالک، ثابت البنانی عن انس، ۳ / ۲۳۵، الحدیث: ۳۴۷۱)

(4)… حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں  مرے گا، اللّٰہ تعالیٰ اسے فتنۂ قبر سے بچالے گا۔( ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء فیمن مات یوم الجمعۃ، ۲ / ۳۳۹، الحدیث: ۱۰۷۶)

(5)… اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عرفہ سے زیادہ کسی دن میں  اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں  کو جہنم سے آزاد نہیں  کرتا پھر ان کے ساتھ ملائکہ پر مُباہات فرماتا ہے۔( مسلم، کتاب الحج، باب فی فضل الحج والعمرۃ ویوم عرفۃ، ص۷۰۳، الحدیث: ۴۳۶(۱۳۴۸))

(6)…حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر گمان ہے کہ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ مٹادیتا ہے۔( مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب ثلاثۃ ایام من کل شہر... الخ، ص۵۸۹، الحدیث: ۱۹۶(۱۱۶۲))

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links