Book Name:Sulah ke Fazail
یعنی جو بندہ عِیْدُ الْفطر کے موقع پر صدقۂ فِطر دے کر غریبوں کو عِیْد کی خوشیاں منانے کا موقع فراہَم کرتا ہے ، اس کا دِل ستھرا ہو جاتا ہے اور وہ فلاح و کامیابی تک پہنچ جاتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں: مدنی سرکار، غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے صدقۂ فِطْر مُقَرَّر فرمایا تاکہ فضول اور بےہودہ کلام سے روزوں کی طہارت (یعنی صفائی) اور مسکینوں کی خوراک کا انتظام بھی ہو جائے۔([1])
ایکحدیثِ پاک میں ہے:جب تک صدقۂ فطر ادا نہیں کیا جاتا،بندے کا روزہ زمین و آسمان کے درمیان لٹکاہوارہتاہے۔([2])
اگر کسی کی طرف سے ابھی تک صدقۂ فطر کی ادائیگی نہیں ہوئی تو نمازِ عید سے فارغ ہوتے ہی صدقۂ فطر اداکر دیا جائے۔
فطرے کی ادائیگی کے5طریقے
صدقۂ فِطْر کی مقدار کے 5اعتبار ہیں : (1):عجوہ کھجور (2): کِشمِش (3):کھجور (4):جَو شریف یا اُس کا آٹا (5):گندم یا اُس کا آٹا *عَجْوہ کھجور کے اعتبار سے صدقۂ فِطْر ادا کرنا ہو تو اس کی اس سال(2026ء میں) پاکستان میں مقدار 19ہزار 2 سو روپے فی کَس ہے *کِشْمِشْ کے اعتبار سے 72 سو روپے *کھجور کے اعتبار سے 26 سوروپے *جَو شریف کے اعتبارسے 11سو روپے اور* گندم کے اعتبار سے 300روپے۔
صدقۂ فِطْر کی ادائیگی میں اپنی حیثیت کا لحاظ رکھنا چاہیے ، جسے اللہ پاک نے مال و