Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

کل یہ بھی ایک مسئلہ ہے، مکان پکّے ہوتے جا رہے ہیں، تعلّقات کچے ہو رہے ہیں، دِلوں میں دُوریاں آتی جا رہی ہیں، بعض دفعہ ایک ہی گھر میں رہنے والوں کو آپس میں مُلاقات کا موقع نہیں ملتا، کتنے کتنے دِن گزر جاتے ہیں، مِل بیٹھنا تو دُور کی بات، فون پر بات نہیں ہو پاتی۔ عِیْد کا دِن تو خصوصیت کے ساتھ مِل جُل کر خوشیاں بانٹنے کا دِن ہے، اس کے عِلاوہ بھی چاہیے کہ روزانہ کم از کم ایک وقت کا کھانا ایک ساتھ کھائیں* سب گھر والے مِل کر بیٹھیں*آپس میں اچھی اچھی باتیں کریں*ایک دوسرے کا حال اَحْوال مَعْلُوم کریں، اس سے محبتیں بڑھیں گی* یونہی ہمارے قریب قریب کے جو رشتے دار ہیں، خالہ، ماموں، چچا، تایا، زیادہ نہیں تو ہفتے میں ایک آدھ بار، مہینے میں ایک آدھ بار ان کے ساتھ بھی ملنے، بیٹھنے کی روٹین(Routine) رکھنی چاہیے۔ آپَس میں مل بیٹھنے سے بھی بہت ساری غلط فہمیاں دُور ہوجاتی ہیں اور صلح صفائی کی صُورتیں بن جاتی ہیں۔

غلط فہمیاں مت پالیے...!!

ایک عام پایا جانے والا مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ بعض دفعہ محض غلط فہمیوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے دُور ہوتے ہیں۔ عموماً  لڑائی جھگڑوں  اور آپس کی ناراضیوں کے 100 میں 70 واقعات کو اگر کھول کر دیکھیں تو ان میں سے وجہ کچھ بھی نہیں نکلتی، محض غلط فہمیاں ہوتی ہیں۔

دیکھیے! ہم انسان ہیں، ہمارے دِل میں خیالات آتے ہیں، غلط فہمیاں  ہو سکتی ہیں *کسی نے سلام کا جواب نہ دیا تو غلط فہمی ہو گئی*کسی نے تَوَجُّہ سے بات نہ سُنی تو غلط فہمی ہو گئی *کسی نے حال اَحْوال نہ پوچھا تو غلط فہمی ہو گئی*کسی نے بےرُخی والے انداز میں بات کی تو غلط فہمی