Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

الْكَلِمَةَ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌیعنی وہ کلمہ جس کی میں دعوت دیتا ہوں (یعنی کلمہ طیبہ)، جس نے (دِل سے) وہ کلمہ قبول کر لیا، اس کے لیے نجات ہے۔ ([1])

اللہ   وَاحِد   و   یَکتا  ہے                       ایک خُدا بَس تنہا ہے

کوئی نہ اُس کا ہَمتا ہے                    ایک ہی سب کی سُنتا ہے

لَآاِلٰہَ  اِلَّا  اللّٰہ    اٰمَنَّا    بِرَسُوْلِ   اللّٰہ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

سُبْحٰنَ اللہ! دیکھیے! ذرا سِی غلط فہمی ہوئی، لگا کہ عثمانِ غنی  رَضِیَ اللہ عنہ  نے کسی وجہ سے سلام کا جواب نہیں دیا تو فورًا ابوبکر صِدّیق  رَضِیَ اللہ عنہ  کو ساتھ لے کر اُن کے پاس پہنچ گئے، بات کر لی، اپنی سوچ اُن کے ساتھ شیئر(Share) کر لی، اُنہوں نے وضاحت دے دی، بات ختم ہو گئی۔ ہمیں بھی یہی والا اَنداز اِختیار کرنا چاہیے، کسی بات پر غلط فہمی ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے مگر اس غلط فہمی کو دِل میں پال پال کر بدگمانی، بغض اور کینہ بنا لینا بہت بُری بات بلکہ گُنَاہ والا انداز ہے۔

پہل کون کرے...؟

پیارے اسلامی بھائیو! یہ تَو مَعْلُوم ہو گیا کہ ہم نے اپنے دِل میں غلط فہمیاں نہیں پالنی، خدانخواستہ ناراضی ہو بھی جائے تو صلح کی طرف بڑھنا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ صلح کی جانِب پہل کون کرے...؟  حدیثِ پاک سنیے! آخری نبی، مُحَمَّدِ عربی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: 

اَلسَّابِقُ السَّابِقُ اِلَى الْجَنَّة


 

 



[1]...مسند احمد، جلد:1، صفحہ:61، حدیث:21ملتقطاً۔

[2]...سامانِ بخشش، صفحہ:33۔