Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

ان 3دِنوں میں اپنے آپ کو سمجھائے، اپنا ذِہن بنائے، خُود کو صلح صفائی کے لیے تیار کرے اور صلح کر لے۔ اگر اب بھی صلح کی طرف نہ بڑھا تو گُنَاہ گار ہو گا۔

ناراضِی کے اسباب ہی مت بنائیے!

یہ تَو میں نے عرض کیا کہ 3دن سے زیادہ ناراضِی رکھنا منع ہے، اِسْلام تو اس سے بھی پہلے کی بات کرتا ہے *اِسْلام میں غیبت حرام ہے، کیونکہ غیبت سے نفرتیں بڑھتی ہیں *چغلی حرام ہے، کیونکہ چغلی محبتیں مٹاتی ہے *طعنے دینا *بُرے نام رکھنا *یہاں تک کہ 3آدمی بیٹھے ہوں تو 2شخصوں کو آپس میں کان میں بات کرنے سے منع کیا گیا کیونکہ اس سے تیسرے کے دِل میں وسوسے آ سکتے ہیں، بدگمانی پھیل سکتی ہے اور ناراضی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ کام جو مسلمانوں کے درمیان نفرت کا سبب بنے، اسلام ہمیں اس سے منع فرماتا ہے۔

جُدا جُدا مت رہو...!!

بلکہ صحابئ رسول حضرت ثَعْلبہ خُشَنی  رَضِیَ اللہ عنہ   فرماتے ہیں: لوگوں کی عادت تھی کہ دورانِ سَفَر کسی گھاٹی یا وادی میں ٹھہرتے تو پھیل جاتے (یعنی الگ الگ ہو کر بیٹھ جاتے) ، اِس پر اللہ پاک کے پیارے رسول، رسولِ مَقْبول  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا: بے شک تمہارا اِن گھاٹیوں اور وادیوں میں الگ الگ ٹھہرنا شیطان کی طرف سے ہے، اس کے بعد لوگ جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو ایک جگہ مِل کر رہتے۔ ([1])

پتا چلا؛ مسلمانوں کو آپس میں دُور دُور رہنا، یہ بھی شیطان کے اَثَر سے ہے۔ جب جسمانی طور پر دُوریاں بڑھ جاتی ہیں تو آہستہ آہستہ دِلوں میں بھی دُوریاں آ جاتی ہیں۔ آج


 

 



[1]...ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب مایؤمر من انضمام العسکر...الخ، صفحہ:418، حدیث:2628ملتقطاً۔