Book Name:Sulah ke Fazail
فِی الْاَجْرِ وَ اِنْ لَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ فَقَدْ بَاء بِالْاِ ثْمِ وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْہِجْرَۃِ
ترجمہ: اگر 3دن گزر جائیں تو اس کو چاہیے کہ اپنے بھائی سے مل کر سلام کرے اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو(صلح کے)ثواب میں دونوں شریک ہیں اور اگر سلام کا جواب نہ دے تو جواب نہ دینے والا گنہگار ہوا اور سلام کرنے والا ترک ِتعلقات کے گناہ سے بَری ہوگیا۔([1])
ایک حدیثِ پاک میں فرمایا: 3مرتبہ سلام کرے (یعنی صلح کی 3کوششیں کرے) اگر سامنےوالا پِھر بھی صلح پر راضِی نہیں ہوتا تو اب اس ناراضِی کا گُنَاہ صلح نہ کرنے والے پر ہو گا، صلح کی طرف بڑھنے والا اِس گُنَاہ سے بَرِی ہو گیا۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے یہ بھی مَعْلُوم ہوا کہ جب ہم سے صلح کی جائے تو ہمیں بھی بڑے پَن کا مظاہَرہ کرتے ہوئے صلح صفائی کر لینی چاہیے۔ بعض لوگ بہت سخت مزاج ہوتے ہیں، اُن کی منتیں کرو، صفائیاں دو، معذرت کرو، وہ راضِی ہونے پر آتے ہی نہیں ہیں۔ ایسا مزاج کسی مسلمان کا نہیں ہوتا۔ حدیثِ پاک میں اِرْشاد ہوا:
اَلَا اُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ وَبِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ
ترجمہ: کیا میں تمہیں ایسے شخص کے مُتَعلِّق نہ بتاؤں! کہ جو جہنّم پر حرام اور جہنّم اُس پر حرام ہے۔
یعنی دونوں جانِب سے جہنّم حرام ہے، نہ وہ جہنّم تک پہنچے گا، نہ جہنّم اُس تک پہنچ سکے گی۔ وہ شخص کون ہے؟ فرمایا:
عَلَى كُلِّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ