Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

سُبْحٰنَ اللہ! کیسا پیار بھرا اَنداز ہے...!! خیر! یہ بڑوں کی بڑی باتیں ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم صلح میں پہل کریں اور جنّت کے حقدار بن جائیں۔

حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑنے کی فضیلت

ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ بھی ہوتا ہے، شیطان دِل میں وَسْوَسَہ ڈالتا ہے کہ آخر میں صلح کی طرف کیوں بڑھوں، غلطی تو اُس کی تھی، اسے چاہیے کہ صلح کرے، مجھ سے معافی مانگے۔ اس مسئلے کا حل بھی حدیثِ پاک میں موجود ہے۔ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو شخص ناحق بات پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنّت کے کنارے میں گھر بنایا جائے گا اور جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑدے اس کے لیے جنّت  کے درمیان میں گھر بنایا جائے گا۔([1])

یعنی جس کی غلطی ہو اور جھگڑا نہ کرے، اس کے لیے جنّت کے کنارے پر گھر بنایا جائے گا اور جس کی غلطی نہ ہو، حق پر ہو، وہ اگر جھگڑا چھوڑ دے تو اس کے لیے جنّت کے درمیان میں گھر بنایا جائے گا۔

ہماری ذِمَّہ داری کیا ہے...؟

اب ایک اور مسئلہ ہے، وہ یہ کہ ہم نے تَو ذِہن بنایا کہ میں صلح کر لُوں گا، سامنے والا ہی صلح کے لیے تیار نہیں ہوتا تو...؟ اس کا حل بھی حدیثِ پاک کی روشنی میں سنیے! محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:

فَاِنْ مَرَّتْ بِہِ ثَلاثٌ فَلْیَلْقَہُ فَلْیُسَلِّمْ عَلَیْہِ فَاِنْ رَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَکَا


 

 



[1]...ترمذی، کتاب البر و الصلۃ، باب ماجاء فی المراء، صفحہ:484، حدیث:1993۔