Book Name:Sulah ke Fazail
اس لیے خوشی منائیں، اگر شیخی اور تکبر کے طور پر خوشیاں منائیں گے تو یہ خوشی خوشی نہیں بلکہ آخرت میں وبال بن سکتی ہے (2):دوسری شرط یہ کہ خوشی جائِز طریقے سے منائی جائے، ناجائِز طریقے سے خوشی منانا حرام ہے۔ جیسے خوشی میں ناچ گانا شروع کر دینا، خوشی میں شراب پینا، خوشی میں اِسْراف اور فضول خرچی کرنا۔([1])
ہمیں چاہیے کہ ہم خوشیاں منائیں، ضرور منائیں مگر خوشی منانے کی شرائط کا بھی لحاظ رکھیں۔ اللہ پاک ہمیں شریعت کے دائِرے میں رِہ کر عیدُ الفطرکی خوشیاں منانا نصیب کرے، ہماری خوشیوں کو دوام ملے، غم و مصیبت سے اللہ پاک ہمیں محفوظ رکھے۔
نہ دے ایسی خوشیاں جو غفلت میں ڈالیں خدایا! غمِ مصطفےٰ مانگتا ہوں
گُنَاہوں کے اَمراض نے مجھ کو مارا اِلٰہی! میں اِن سے شفا مانگتا ہوں
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
ہم نے ابتدا میں سُورۂ اَنْفال کی پہلی آیتِ کریمہ کا ایک حصّہ سننے کی سَعَادت حاصِل کی، اللہ پاک نے فرمایا:
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ۪-وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱) (پارہ:9، سورۂ انفال:1)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تو اللہ سے ڈرتے رہو اور آ پس میں صلح صفائی رکھو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر تم مومن ہو۔
اس جگہ سب سے پہلے تقویٰ اِخْتیار کرنے کا حکم دیا گیا۔