Book Name:Sulah ke Fazail
اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر تم مومن ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
مغفرت یافتہ لوٹ جاؤ...!!
اے عاشقانِ رسول! اللہ پاک کا کروڑہا کروڑ فضل و کرم ہے کہ اُس رَبِّ رحمٰن و رحیم نے ہمیں مغفرت ، رحمت اور جہنّم سے آزادی کا مہینا یعنی ماہِ رمضان کریم عطا فرمایا، پھر اس پر مزید کرم بالائے کرم یہ کہ ماہِ رمضان کریم کے فوراً بعد ہمیں عیدُ الفطر کی نعمت سے بھی سرفراز فرمایا۔ عیدُ الفطر بہت باعظمت، رحمتوں والا اور بابرکت دِن ہے۔ صحابئ رسول، حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما سے روایت ہے، جب عید الفطر کی مبارک رات تشریف لاتی ہے تو اسے لَیْلَۃُ الْجَائِزَہ (یعنی انعام کی رات) کے نام سے پُکارا جاتا ہے، پھر جب روزِ عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ پاک اپنے معصوم فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے، وہ فرشتے زمین پر تشریف لا کر سب گلیوں اور راہوں کے کناروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور یوں پُکارتے ہیں: اے اُمَّتِ مُحَمَّد (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم)! اُس رَبِّ کریم کی بارگاہ کی طرف چلو! جو بہت عطا فرمانے والا، بڑے سے بڑا گُنَاہ بخشنے والا ہے۔
پھر اللہ پاک اپنے بندوں سے یُوں خطاب فرماتا ہے: اے میرے بندو! مانگو! کیا مانگتے ہو؟ میری عزّت و جلال کی قسم! آج کے روزاس (نمازِ عید کے) اجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو کچھ سوال کرو گے، وہ پُورا کروں گا اور جو کچھ دُنیا کے بارے میں مانگو گے، اس میں تمہاری بھلائی کی طرف نظر فرماؤں گا (یعنی اس معاملہ میں وہ کروں گا، جس میں تمہاری بہتری ہو)۔ میری عزّت کی قسم! جب تک تم میرا لحاظ رکھو گے، میں بھی تمہاری خطاؤں پر