Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

ہو گئی *کسی نے کال رسیو نہ کی تو غلط فہمی ہو گئی *کسی کے گھر گئے، اس نے پانی نہ پوچھا تو غلط فہمی ہو گئی *کسی نے ہمیں دعوت پر نہ بُلایا تو غلط فہمی ہو گئی *کسی کی نوکری لگے، چار پیسے آجائیں تو غلط فہمی ہوتی ہے کہ پیسہ آ گیا، اب بدل گیا ہے۔ یُوں غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؛ ہم ان غلط فہمیوں کو پالتے ہیں، یہ گویا شیطان کو ایک سِرا  مِل جاتا ہے، ایک غلط فہمی ہوئی تو سوچنے لگتے ہیں؛ ہاں! اُس نے فُلاں وقت بھی میرے ساتھ یُوں کیا تھا، فُلاں وقت بھی ایسا ہوا تھا، وغیرہ وغیرہ اِس ایک ذرا سی غلط فہمی کو سوچ سوچ کر ہم بہت بڑا بنا دیتے ہیں بلکہ حالات تو ایسے ہیں کہ ذرا سی غلط فہمی ہو جائے تو گُنَاہوں کا دروازہ کُھل جاتا ہے*کبھی اِس کو بتا*کبھی اُس کو بتا*اِدھر اُدھر بیٹھ کر غیبتیں کی جاتی ہیں، مثلاً دیکھا: فُلاں ایسا ہے، اس نے میرے ساتھ یُوں کیا، فُلاں بدل گیا ہے، فُلاں بہت بےوفا نکلا ہے، وغیرہ وغیرہ۔اس سے نفرتیں مزید بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اگر خدانخواستہ اپنے مسلمان بھائی کے مُتَعَلِّق  کوئی بات دِل میں آ بھی جائے تو سامنے والے کے ساتھ بیٹھ جائیں، بات کر لیں۔ غلط فہمی ہو گی تو دُور ہو جائے گی، غلطی ہو گی تو سامنے والا معذرت کر لے گا۔

غلط فہمی دُور ہو گئی

مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت اَبُوبکر صِدِّیق  رَضِیَ اللہ عنہ  کے دورِ خِلافت کی بات ہے، ایک مرتبہ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی  رَضِیَ اللہ عنہ  دِیوار کے سائے میں بیٹھے کسی گہری سوچ میں گم تھے۔کسی نے کہا تھا:

اس قدر ڈُوبا ہوا دِل دَرْد کی لذّت میں ہے  تیرا عاشِق اَنجُمن ہی کیوں نہ ہو، خَلْوت میں ہے

وضاحت:یعنی جو عاشِق مزاج لوگ ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اپنے مَحْبُوب  کے خیالوں ہی میں کھوئے