Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

کے ساتھ اس کا کئی سال پُرانا جھگڑا چل رہا تھا، اس کے ہاں چلا گیا، جاکرمعافی تلافی کی، پھوپھی کو راضی کر لیا۔ جب دونوں آپس میں راضی ہو گئے تو پھوپھی نے کہا:  بیٹا! تم جا کر حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہ عنہ  سے سبب پوچھو کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ (یعنی حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہ عنہ   کے اِعْلان کی) حکمت کیا ہے؟ نوجوان نے حاضِر ہو کر حکمت پوچھی تو حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہ عنہ  نے فرمایا: میں نے حُضُور انور  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  سے سنا ہے: جس قوم میں قاطِعِ رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہو، اس قوم پر اللہ پاک کی رحمت نہیں اُترتی۔([1])

اللہ! اللہ! غور فرمائیے! صحابئ رسول ہیں، لوگوں کے درمیان تشریف فرما ہیں اور بیان کیا کر رہے ہیں؟ رحمتِ دوجہان  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم   کی مبارک حدیثیں...!! ایسی محفل پر بھی رَحمتیں نہیں اُتریں گی تو پِھر کہاں اُتریں گی مگر حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہ عنہ  کو خطرہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس محفل  میں کوئی قاطِعِ رحم ہو اور ہم اس کے سبب سے رحمت سے محروم ہو جائیں...!!

اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ اپنے عزیز رشتے داروں میں سے کسی کے ساتھ بھی ناراضی ہو تو بَرائے مہربانی آج  عِید کا دِن ہے، موقع ہے، جلد از جلد اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلح کر لیجیے! رُوٹھوں کو منا لیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! عِیْد کی خوشیاں دوبالا ہو جائیں گی اور اللہ پاک نے چاہا تو رحمتوں کے حقدار بھی ہو جائیں گے۔

صلح کروانے کے فضائل

پیارے اسلامی بھائیو! جس طرح صلح کرنا ثواب کا کام ہے، ایسے ہی صلح کروانا بھی


 

 



[1]...الزواجر، جلد:2، صفحہ:136-137 ۔